• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 5:29 شام
  • پاکستان

سیانا کوا گولفر بن بیٹھا! (دلچسپ ویڈیو دیکھیں)

1980 کے ’’AI‘‘ وائرل ٹرینڈ نے 45 سال سے مفرور خاتون چور کو کیسے پکڑوایا؟

13 افراد کا سفاک قاتل 40 سال بعد جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے گرفتار

6 سالہ بچی نے روبک کیوب کا ورلڈ ریکارڈ دو بار توڑ دیا

بیسویں صدی میں جدید لب و لہجے کے جن غزل گو شعرا نے اردو شاعری کے قارئین کو معیار دیا اور ان کی نظر میں معتبر ٹھیرے، محسن احسان انہی میں سے ایک ہیں۔ آج محسن احسان کی برسی ہے۔

محسن احسان شاعر اور ادیب ہی نہیں بطور ماہرِ تعلیم بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر صوبۂ سرحد (موجودہ خیبرپختون خوا) میں اردو ادب کی آبیاری کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا تعلق پشاور سے تھا۔ 23 ستمبر 2010ء کو محسن احسان نے لندن میں اپنی زندگی کا سفر تمام کیا۔ وہ 77 برس کے تھے اور انھیں کینسر تشخیص ہوا تھا۔

محسن احسان نے انگریزی ادب میں‌ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پشاور کے اسلامیہ کالج سے استاد اور پھر بحیثیت سربراہ شعبہ انگریزی وابستہ رہے۔ ان کا اصل نام احسان الٰہی تھا۔ 15 اکتوبر 1932 کو پیدا ہونے والے محسن احسان نے تدریس کے ساتھ ساتھ تخلیقی کام اور ادبی سرگرمیوں‌ کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ انھوں نے شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کی نظموں اور غزلوں کے مجموعے ناتمام، ناگزیر، ناشنیدہ، نارسیدہ اور سخن سخن مہتاب کے نام سے شایع ہوئے۔ محسن احسان کی نعتیہ شاعری کا مجموعہ اجمل و اکمل کے نام سے اشاعت پزیر ہوا تھا۔ محسن احسان نے ملّی شاعری بھی کی اور ان کا یہ کلام مٹی کی مہکار کے نام سے منظر عام پر آیا۔ ادبِ‌ اطفال میں محسن احسان نے پھول پھول چہرے کے نام سے بچوں کے لیے شاعری کی کتاب یادگار چھوڑی۔

محسن احسان کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔

چار جانب سے صدا آئی مری شعبدہ بن گئی تنہائی مری موت کو جب سے مقابل دیکھا زندگی ہو گئی شیدائی مری اب بھی یارانِ گرفتہ دل کو یاد ہے انجمن آرائی مری لب کشائی سے ملی رفعتِ دار کس بلندی پہ ہے گویائی مری رات پھیلی تو سَرِ خلوتِ غم بے کراں بن گئی تنہائی مری صبح چمکی تو غبارِ شب سے بے محابانہ صدا آئی مری عمر بھر میرا مخاطب وہ تھا بات جس کو نہ سمجھ آئی مری دلِ ناداں نے ڈبویا محسنؔ کام کچھ آئی نہ دانائی مری

اردو کے ممتاز ادیب، شاعر اور بلند پایہ مدیر احمد ندیم قاسمی نے محسن احسان پر اپنے ایک تعارفی مضمون میں لکھا تھا، پاکستان کے اتنے بہت سے خوش گو غزل نگاروں کے ہجوم میں اپنی انفرادیت کو نمایاں رکھنا اور اپنے اسلوب کی پہچان کرا لینا محسن احسان کا بہت بڑا کمال ہے۔ محسن احسان انگریزی ادب کا استاد ہے، کلاسیکل فارسی اور اردو شعرا کا شیدائی ہے اور پشتو اور ہندکو بولتا ہے۔ اس کی اردو غزل میں ان سب خصوصیات نے باہم آمیخت ہو کر ایک عجیب دلآویز فضا پیدا کردی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جدید اُردو شاعری نے انگریزی ادب سے بھرپور استفادہ کیا ہے اور جدید غزل کے معنی خیز اور شوخ تیوروں میں اس استفادے کی جھلکیاں کم یاب نہیں ہیں۔ پھر اُردو شاعری پر وہ بہت کڑا وقت آیا تھا، جب اندر سے احساسِ کمتری کے مارے ہوئے بعض ارباب تنقید نے احساس برتری کا نقارہ پیٹتے ہوئے غزل کو گردن زدنی قرار دیا اور اردو شاعری کی ساری روایت کی تنسیخ کرنے پر تل گئے۔ اس خطرناک مہم کا زور ان اہلِ قلم کے دم سے ٹوٹا جو انگریزی زبان و ادب پر بھی حاوی تھے، مگر ساتھ ہی مشرقی السنہ و علوم کی گہرائیوں اور سائیوں کے بھی معترف تھے۔ فراق، فیض، فراز اور محسن احسان سبھی انگریزی ادب سے فیض یاب ہونے کے باوجود عربی، فارسی اور اُردو شاعری کی انفرادی خصوصیات اور اس میں بے پناہ امکانات کی گنجائشیں دیکھ چکے تھے، چنانچہ یہ انہی کے سے وسیع المطالعہ اہل فن کے اجتہاد کی برکت ہے کہ اردو غزل بھی پوری آن بان سے زندہ ہے۔

محسن احسان کا ایک کارنامہ خوش حال خان خٹک اور رحمن بابا کی شاعری کو اردو کے قالب میں‌ ڈھالنا ہے۔ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا گیا تھا۔

قاسمی صاحب نے ان کی شاعری پر ان الفاظ میں اظہارِ خیال کیا ہے، محسن احسان کی غزل میں روحِ عصر اور کربِ ذات کی کیفیتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ہر باشعور اور دیانت دار شاعر کا رویہ عموماً یہی ہوتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں جھانکتا ہے تو حیات اپنے حق کے لیے پکار اٹھتی ہے اور وہ حیات پر نگاہ ڈالتا ہے تو اپنی ذات کی نفی کرکے ایسا نہیں کرتا۔ یوں اس کے فن میں ذات و حیات کے درمیان ایک مربوط رشتہ قائم ہو جاتا ہے اور اسی لئے ایسی شاعری کے آفاق حدِ نظر سے آگے حدِ خیال تک پھیل جاتے ہیں۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے