• ستمبر 23, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 23, 2026 2:05 صبح
  • پاکستان

یہ فلائٹ 19 کا واقعہ تھا—وہ واقعہ جس نے برمودا مثلث کو دنیا کے پراسرار ترین مقامات میں شامل کر دیا۔

ذرا تصور کیجیے کہ پانچ فوجی طیارے ایک معمول کی تربیتی پرواز کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ ابتدا میں موسم بالکل ٹھیک ہے، طیاروں میں تجربہ کار پائلٹ موجود ہیں اور واپسی کے لیے ایندھن بھی کافی ہے۔ بظاہر یہ ایک عام تربیتی مشن ہے، لیکن کچھ دیر بعد ریڈیو پر پریشان کن پیغامات سنائی دینے لگتے ہیں۔

پائلٹ اپنی صحیح جگہ پہچان نہیں پا رہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ان کے کمپاس درست کام نہیں کر رہے۔ اسی دوران موسم خراب ہونے لگتا ہے، شام قریب آ رہی ہے اور طیاروں کا ایندھن تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ پھر اچانک تمام آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں۔ ان طیاروں کی تلاش کے لیے ایک امدادی طیارہ روانہ کیا جاتا ہے، مگر وہ بھی واپس نہیں آتا۔ نہ کوئی مکمل ملبہ ملتا ہے، نہ کوئی شخص زندہ بچتا ہے اور نہ ہی ایسا واضح جواب سامنے آتا ہے جس سے معلوم ہو سکے کہ آخر ہوا کیا تھا۔

یہ فلائٹ 19 کا واقعہ تھا—وہ واقعہ جس نے برمودا مثلث کو دنیا کے پراسرار ترین مقامات میں شامل کر دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی سمندر کے اس حصے میں کوئی نامعلوم طاقت موجود ہے، یا برمودا مثلث کا سب سے بڑا راز یہی ہے کہ شاید یہاں کوئی راز ہے ہی نہیں؟

٭ برمودا مثلث کہاں واقع ہے؟

برمودا مثلث بحرِ اوقیانوس کے مغربی حصے میں واقع ایک غیر رسمی سمندری علاقہ ہے۔ عام طور پر امریکی شہر میامی، جزیرہ برمودا اور پورٹو ریکو کو اس کی تین حدود سمجھا جاتا ہے۔ نقشے پر ان تین مقامات کو ملایا جائے تو ایک مثلث بنتی ہے، جسے برمودا مثلث کہا جاتا ہے۔ تاہم یہاں پہلی حیران کن بات یہ ہے کہ برمودا مثلث کی کوئی رسمی حد بندی نہیں ہوئی۔ مختلف کتابوں، نقشوں اور ٹی وی پروگراموں میں اس کا سائز مختلف بتایا جاتا رہا ہے۔ کسی نقشے میں یہ علاقہ نسبتاً چھوٹا دکھائی دیتا ہے، جبکہ کسی میں اسے کئی لاکھ مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ظاہر کیا جاتا ہے۔ امریکی ادارے بھی اسے کسی باقاعدہ جغرافیائی علاقے کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ سمندری نقشوں پر برمودا مثلث کے نام سے کوئی طے شدہ سرحد دکھائی نہیں دیتی۔ امریکی ادارہ برائے سمندری و فضائی تحقیق، یعنی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) ، بھی اسے کوئی باضابطہ جغرافیائی خطہ قرار نہیں دیتا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ برمودا مثلث کا نام کہاں سے آیا اور یہ تصور اتنا مشہور کیسے ہوا؟

٭ ایک مضمون جس نے افسانے کو جنم دیا

اس سمندری علاقے میں حادثات پہلے بھی پیش آتے رہے تھے، مگر انہیں کسی ایک پراسرار طاقت سے منسلک نہیں کیا جاتا تھا۔ 1964ء میں امریکی مصنف ونسنٹ گیڈس نے ایک رسالے میں مضمون لکھا، جس میں اس سمندری علاقے کو ’’دی ڈیڈلی برمودا ٹرائینگل‘‘ یعنی ’’مہلک برمودا مثلث‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب ’’برمودا مثلث‘‘ کی اصطلاح مقبول ہونا شروع ہوئی۔ اس کے بعد کتابوں، رسالوں، فلموں اور ٹی وی پروگراموں نے مختلف ادوار میں پیش آنے والے حادثات کو ایک پراسرار سلسلے کی شکل دے دی۔ کسی نے دعویٰ کیا کہ یہاں خلائی مخلوق سرگرم ہے، کسی نے اسے گم شدہ شہر اٹلانٹس کی پراسرار طاقت قرار دیا اور بعض لوگوں نے یہاں کسی دوسری دنیا میں داخل ہونے والا دروازہ بھی تلاش کر لیا۔ یہ تمام تصورات سننے میں نہایت دل چسپ ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان افسانوں کی بنیاد بننے والے حقیقی واقعات کیا تھے؟

٭ یو ایس ایس سائیکلوپس کی پراسرار گمشدگی

مارچ 1918ء میں امریکی بحریہ کا ایک بہت بڑا مال بردار جہاز ’’یو ایس ایس سائیکلوپس‘‘ جنوبی امریکہ سے ریاست ہائے متحدہ امریکا کی جانب سفر کر رہا تھا۔ جہاز پر مینگنیز دھات کا بھاری سامان لدا ہوا تھا اور اس میں عملے اور مسافروں سمیت 309 افراد موجود تھے۔ یہ جہاز جزیرہ بارباڈوس سے امریکی شہر بالٹی مور کے لیے روانہ ہوا، مگر اپنی منزل تک کبھی نہ پہنچ سکا۔ نہ اس کی طرف سے کوئی ہنگامی پیغام بھیجا گیا، نہ کسی بڑے حملے کی اطلاع ملی اور نہ ہی اس کا کوئی تصدیق شدہ ملبہ دریافت ہوا۔ چونکہ اس وقت پہلی عالمی جنگ جاری تھی، اس لیے ابتدا میں خیال کیا گیا کہ شاید کسی جرمن آبدوز نے اسے نشانہ بنایا ہو، لیکن اس نظریے کے حق میں بھی کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں مل سکا۔

بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جہاز پر ضرورت سے زیادہ وزن لدا ہوا تھا۔ ممکن ہے اس کی ساخت میں کوئی خرابی پیدا ہوگئی ہو یا وہ خراب سمندری موسم کا شکار ہو گیا ہو۔ تاہم ایک صدی سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود اس کی گمشدگی کی اصل وجہ یقینی طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ امریکی نیول ہسٹری اینڈ ہیریٹیج کمانڈ کے مطابق یہ واقعہ امریکی بحریہ کی تاریخ کے بڑے غیر جنگی جانی نقصانات میں شمار ہوتا ہے۔ اسی واقعے سے وابستہ غیر یقینی کیفیت نے اسے برمودا مثلث کی مشہور ترین کہانیوں میں شامل کر دیا۔

٭ فلائٹ 19 ، وہ واقعہ جس نے دنیا کو حیران کر دیا

5 دسمبر 1945ء کو امریکی بحریہ کے پانچ ٹی بی ایم ایونجر طیارے فلوریڈا کے نیول ایئر اسٹیشن فورٹ لاڈرڈیل سے روانہ ہوئے۔ اس تربیتی مشن کو ’’فلائٹ 19‘‘ کہا جاتا تھا اور پانچوں طیاروں میں مجموعی طور پر 14 افراد موجود تھے۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق پائلٹوں کو سمندر کے اوپر ایک مخصوص راستہ مکمل کرکے اپنے اڈے پر واپس آنا تھا۔ پرواز کے دوران اسکواڈرن کے سربراہ کو اپنی پوزیشن کے بارے میں الجھن ہونے لگی۔ ریڈیو رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پائلٹوں کو اپنی سمت اور مقام کا درست اندازہ لگانے میں دشواری پیش آ رہی تھی۔ بعض آلات کے بارے میں بھی شکایت کی گئی۔

اسی دوران موسم خراب ہو گیا، سورج غروب ہونے لگا اور طیاروں میں موجود ایندھن تیزی سے کم ہوتا گیا۔ ممکن ہے پائلٹ یہ سمجھ رہے ہوں کہ وہ فلوریڈا کے مغرب میں موجود ہیں، حالاں کہ وہ مشرق میں کھلے سمندر کے اوپر جا چکے تھے۔ اگر ایسا تھا تو غلط سمت میں پرواز انہیں ساحل کے قریب لانے کے بجائے اس سے مزید دور لے جا رہی تھی۔ بالآخر پانچوں طیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

انہیں تلاش کرنے کے لیے ایک پی بی ایم مارینر امدادی طیارہ بھیجا گیا، جس میں 13 افراد سوار تھے۔ وہ طیارہ بھی واپس نہ آیا۔ بعض شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ امدادی طیارہ ممکنہ طور پر فضا میں دھماکے کا شکار ہوا تھا، کیونکہ اس قسم کے طیاروں میں ایندھن کے بخارات کے باعث آگ لگنے کا خطرہ موجود رہتا تھا۔ اس طرح ایک ہی دن میں 27 افراد لاپتا ہو گئے۔ وسیع پیمانے پر تلاش کے باوجود فلائٹ 19 کے طیاروں کا کوئی تصدیق شدہ ملبہ نہیں ملا۔ امریکی بحریہ کی سرکاری تاریخ کے مطابق اس واقعے کی حتمی وجہ آج بھی نامعلوم ہے۔ لیکن کسی واقعے کا حل نہ ملنا، لازمی طور پر اس بات کا ثبوت نہیں کہ اس علاقے میں کوئی مافوق الفطرت طاقت موجود ہے۔

برمودا مثلث کا بڑا حصہ انتہائی گہرے سمندر پر مشتمل ہے۔ بعض مقامات کے قریب سمندر کی گہرائی ہزاروں میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔ اگر کوئی طیارہ یا جہاز ایسے سمندر میں ڈوب جائے تو اس کا ملبہ تلاش کرنا بے حد مشکل ہو سکتا ہے، خصوصاً بیسویں صدی کے ابتدائی دور میں، جب سیٹلائٹ، جی پی ایس، جدید سونار اور فوری موسمی معلومات دستیاب نہیں تھیں۔ اس علاقے سے طاقتور گلف اسٹریم بھی گزرتی ہے۔ یہ ایک تیز رفتار سمندری دھارا ہے جو حادثے کے بعد ملبے کو مختصر وقت میں بہت دور تک لے جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تلاش کرنے والی ٹیمیں ایک مقام پر ملبہ ڈھونڈتی رہ جاتی ہیں، جبکہ سمندر اسے کئی کلومیٹر دور پہنچا چکا ہوتا ہے۔ ممکن ہے یہی وجہ ہو کہ بعض حادثات کے بعد کوئی واضح نشان یا قابلِ شناخت ملبہ دریافت نہیں ہو سکا۔

٭ خطرناک موسم اور اچانک طوفان

بحرِ اوقیانوس کے بہت سے سمندری طوفان اسی وسیع خطے سے گزرتے ہیں۔ یہاں موسم اچانک تبدیل ہو سکتا ہے، تیز ہوائیں چل سکتی ہیں اور کئی میٹر بلند لہریں پیدا ہو سکتی ہیں۔ آج موسم کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ اور پیش گوئی کے جدید نظام موجود ہیں، لیکن پرانے زمانے میں بعض جہازوں کو طوفان کے قریب پہنچنے تک خطرے کا علم ہی نہیں ہوتا تھا۔ اچانک خراب ہونے والا موسم جہازوں اور طیاروں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ اس خطے میں بے شمار چھوٹے جزیرے، کم گہرے مقامات اور مرجانی چٹانیں بھی موجود ہیں۔ معمولی سی نیوی گیشن کی غلطی کسی جہاز کو چٹانوں سے ٹکرا سکتی ہے۔امریکی ادارے کی سائنسی وضاحت کے مطابق یہاں پیش آنے والے بہت سے حادثات کو خراب موسم، دشوار سمندری حالات، خطرناک جغرافیے اور انسانی غلطیوں کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے۔

٭ کیا یہاں کمپاس واقعی خراب ہو جاتے ہیں؟

برمودا مثلث سے وابستہ مشہور کہانیوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اس علاقے میں پہنچتے ہی کمپاس بے قابو ہو جاتے ہیں اور درست سمت بتانا چھوڑ دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کمپاس کی سوئی جغرافیائی شمال کے بجائے زمین کے مقناطیسی شمال کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ ان دونوں سمتوں کے درمیان موجود فرق کو ’’مقناطیسی انحراف‘‘ کہا جاتا ہے اور یہ فرق دنیا کے مختلف مقامات پر بدلتا رہتا ہے۔ بعض ادوار میں اس علاقے سے ایک ایسی خیالی لکیر گزرتی رہی ہے جہاں مقناطیسی اور جغرافیائی شمال تقریباً ایک ہو جاتے ہیں۔ اگر کوئی پائلٹ یا ملاح اس فرق کو اپنے حساب میں درست طور پر شامل نہ کرے تو اس سے راستے کے تعین میں غلطی ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود سائنس دانوں کو برمودا مثلث میں ایسی کوئی مستقل اور منفرد مقناطیسی خرابی نہیں ملی جو طیاروں اور جہازوں کو پراسرار انداز میں نگل سکتی ہو۔

٭ میتھین گیس، اٹلانٹس یا خلائی مخلوق؟

برمودا مثلث کے واقعات کی وضاحت کے لیے ایک نظریہ یہ پیش کیا جاتا ہے کہ سمندر کی تہہ سے اچانک بڑی مقدار میں میتھین گیس خارج ہوتی ہے۔ اس گیس سے پیدا ہونے والے بلبلوں کے باعث پانی کی کثافت کم ہو سکتی ہے اور کوئی جہاز ڈوب سکتا ہے۔ یہ تصور سائنسی طور پر مکمل طور پر ناممکن نہیں، لیکن برمودا مثلث کی مشہور گمشدگیوں کو میتھین گیس کے اخراج سے جوڑنے والا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں۔ اسی طرح اٹلانٹس کی پراسرار توانائی، خلائی مخلوق، وقت کے بھنور اور دوسری دنیا میں داخل ہونے والے دروازوں کے دعوے دل چسپ ضرور ہیں، مگر ان کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق سائنسی شہادت سامنے نہیں آئی۔ دل چسپ کہانی اور قابلِ اعتماد ثبوت ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔

٭ کیا یہاں حادثات واقعی زیادہ ہوتے ہیں؟

یہ شاید پوری کہانی کا سب سے اہم سوال ہے۔ برمودا مثلث دنیا کے انتہائی مصروف سمندری اور فضائی راستوں میں واقع ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں بحری جہاز اور طیارے اس علاقے سے بحفاظت گزرتے ہیں۔ جب کسی علاقے میں فضائی اور بحری آمدورفت بہت زیادہ ہو تو وہاں پیش آنے والے حادثات کی مجموعی تعداد بھی بظاہر زیادہ محسوس ہو سکتی ہے۔ تاہم دستیاب اعدادوشمار میں ایسا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملتا کہ برمودا مثلث میں گمشدگیوں یا حادثات کی شرح دنیا کے دوسرے مصروف سمندری علاقوں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر زیادہ ہے۔ امریکی کوسٹ گارڈ بھی اسے جہازوں یا طیاروں کے لیے کوئی الگ اور پراسرار خطرہ تسلیم نہیں کرتا۔ اس معاملے میں ایک بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ برمودا مثلث کی کوئی باقاعدہ حد بندی موجود نہیں۔ اسی لیے کسی دور دراز مقام پر پیش آنے والے حادثے کو بھی اس مثلث میں شامل کرکے حادثات کی فہرست کو مزید طویل اور خوفناک بنایا جا سکتا ہے۔

٭ افسانہ اتنا طاقتور کیسے بنا؟

انسانی ذہن الگ الگ واقعات کے درمیان تعلق تلاش کرنا پسند کرتا ہے۔ اگر لوگوں کو صرف گم ہونے والے جہازوں اور طیاروں کی کہانیاں سنائی جائیں، لیکن انہی راستوں سے بحفاظت گزرنے والے لاکھوں سفروں کا ذکر نہ کیا جائے تو وہ جگہ غیر معمولی اور پراسرار محسوس ہونے لگتی ہے۔ پھر ایک ہی کہانی بار بار دہرائی جاتی ہے۔ ہر مرتبہ اس میں کوئی نیا پراسرار جملہ یا سنسنی خیز تفصیل شامل ہو جاتی ہے، جبکہ خراب موسم، آلات کی حدود اور انسانی غلطی جیسی عام وضاحتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یوں مختلف حادثات ایک دوسرے سے منسلک دکھائی دینے لگتے ہیں، خواہ وہ مختلف ادوار، مختلف حالات اور بعض اوقات نام نہاد مثلث سے باہر ہی کیوں نہ پیش آئے ہوں۔ اس لحاظ سے برمودا مثلث صرف سمندر کا ایک معمہ نہیں بلکہ اس امر کی نمایاں مثال بھی ہے کہ ذرائع ابلاغ، سنسنی خیز عنوانات اور انسانی تخیل مل کر کسی تصور کو عالمی افسانے میں کیسے تبدیل کر سکتے ہیں۔

برمودا مثلث میں حقیقی حادثات پیش آئے ہیں۔ انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور بعض واقعات کی مکمل وضاحت آج بھی ہمارے پاس موجود نہیں۔ ان حادثات سے وابستہ انسانی المیوں اور تاریخی حقائق سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم کسی سوال کا جواب معلوم نہ ہونا مافوق الفطرت طاقت کی موجودگی کا ثبوت نہیں ہوتا۔ خراب موسم، گہرا سمندر، طاقتور سمندری دھارے، پرانے آلات، نامکمل معلومات اور انسانی غلطی جیسے عوامل ان حادثات کے رونما ہونے میں اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ برمودا مثلث میں واقعی کوئی راز ہو، وہاں ایک صدی سے زیادہ عرصے کے دوران کچھ بڑے حادثات پیش آئے، جیسے دوسرے سمندری راستوں پر بھی ہوتے ہیں۔ شاید برمودا مثلث کو شہرت اس لیے ملی کہ ان واقعات کو بڑھا چڑھا کر ذرائع ابلاغ میں بیان کیا گیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے