• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 4:58 شام
  • پاکستان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ سے قبل آن لائن گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر نوجوان پاکستانیوں کو تشدد اور توڑ پھوڑ پر مبنی احتجاج سے گریز کرنے کی اپیل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ہے۔

25 ستمبر کو صارف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 34 سیکنڈ دورانیے کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں نوجوان خواتین اور مرد عوامی پیغام دیتے دکھائی دیتے ہیں، جس میں بظاہر توڑ پھوڑ اور سڑکیں بلاک کرنے والے احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

ویڈیو کے اختتام پر پیغام دیا جاتا ہے: "تشدد، توڑ پھوڑ، سڑکیں بند کرنے یا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تصادم میں حصہ نہ لیں۔"

یہ ویڈیو پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ سے قبل شیئر کی گئی، جو ابتدا میں 27 ستمبر کو شیڈول تھا، تاہم بعد میں اسے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا۔

ویڈیو کو نوجوان پاکستانیوں کی جانب سے یہ پیغام دینے کی حقیقی ریکارڈنگ کے طور پر پیش کیا گیا۔

تاہم ،میڈیا فرانزکس کے ماہر کی جانب سے ویڈیو کے جائزے اور دو اے آئی ڈیٹیکشن ٹولز کے نتائج کے مطابق یہ ویڈیو دراصل مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کی گئی ہے۔

آسٹریلیا کے رائل میلبورن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (RMIT) سے وابستہ میڈیا فرانزکس کی ماہر ڈاکٹر جے روزنبام نے جیو فیکٹ چیک کی درخواست پر ویڈیو کا جائزہ لیا اور اس میں کئی ایسی خامیوں کی نشاندہی کی جو عموماً مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز میں پائی جاتی ہیں۔

روزنبام نے جیو فیکٹ چیک کو میسجز کے ذریعے بتایا، "اس ویڈیو کے اے آئی سے تیار ہونے کی سب سے بڑی علامت جامنی لباس پہنے خاتون ہیں، ان کے کپڑوں پر بنے ڈیزائن میں ایسی خامیاں موجود ہیں جو اے آئی سے تیار کردہ مواد سے مطابقت رکھتی ہیں۔"

روزنبام نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ویڈیو میں آخری شخص کی کلائی پر موجود گھڑی کی شکل میں بھی ایسی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو حقیقی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

ڈاکٹر روزنبام نے ایک اور شخص کی انگلیوں کی جانب بھی نشاندہی کی، جو ویڈیو کے بعض فریمز میں آپس میں جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ ماہر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، "اب میں پورے اعتماد سے کہہ سکتی ہوں کہ یہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔"

ویڈیو میں ایک جیسے چہرے بھی بار بار دکھائی دیتے ہیں، جبکہ دو مختلف افراد کے طور پر پیش کیے گئے مرد غیر معمولی حد تک ایک جیسے نظر آتے ہیں۔

جیو فیکٹ چیک نے بھی اس ویڈیو کا الگ سے ہائیو موڈریشن (Hive Moderation) کے ذریعے تجزیہ کیا، جو اے آئی سے تیار کردہ مواد کی نشاندہی کرنے والا پلیٹ فارم ہے۔ ٹول نے ویڈیو کو مجموعی طور پر 99.9 فیصد اسکور دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ویڈیو کے اے آئی سے تیار کیے جانے کا امکان بہت زیادہ ہے۔

ٹیم نے یونیورسٹی ایٹ بفیلو کے تیار کردہ ڈیٹیکشن ٹول ڈیپ فیک-او-میٹر (DeepFake-o-Meter) کے ذریعے بھی ویڈیو کا تجزیہ کیا۔ اس کے ڈیٹیکشن ماڈلز نے ویڈیو کے اے آئی سے تیار کیے جانے کا "زیادہ امکان" ظاہر کیا۔

فیصلہ: یہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی ہے اور اس میں نوجوانوں کی جانب سے یہ پیغام دینے کی حقیقی فوٹیج موجود نہیں ہے۔

ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے