• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 10:08 صبح
  • پاکستان

24سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

کراچی: شہر قائد کے علاقے سرجانی میں خاتون اور تین بچوں کو قتل کرنے والے مجرم ہمایوں کا بھائی بھولا بھی دھمکیوں کے ساتھ سامنے آ گیا ہے، ہمایوں پولیس مقابلے میں مارا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سرجانی ٹاؤن میں اپنے تین بچوں کے ساتھ بے دردی سے قتل ہونے والی خاتون مہوش کے بھائی نعمان علی کو بھی مبینہ طور پر دھمکیاں ملنے لگی ہیں۔

نعمان نے سرجانی ٹاؤن تھانے میں تحفظ کی درخواست جمع کراتے ہوئے کہا کہ بھولا نامی شخص انھیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے، اور کہہ رہا ہے کہ تمھارا بھی وہی حال ہوگا جو تمھاری بہن کا ہوا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بھولا نامی شخص پولیس مقابلے میں مارے گئے مجرم ہمایوں کا بھائی ہے، جب کہ مقتولہ کے بھائی نعمان کی درخواست پر بھولا کو تھانے طلب کر لیا ہے۔

ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت

ایس ایس پی ویسٹ طارق الہٰی مستوئی کے مطابق ملزم ہمایوں کو آلہ قتل کی نشان دہی کے لیے لے کر گئے، جہاں پولیس آلہ قتل ڈھونڈنے میں مصروف تھی کہ ملزم نے فائدہ اٹھا کر اہلکار کا پستول نکال لیا، ملزم نے فرار کی کوشش کے دوران چھینے گئے پستول سےفائرنگ کی۔

ملزم کی فائرنگ سے اے ایس آئی نعمان شیخ زخمی ہوا جب کہ ساتھی پولیس افسر کی جوابی فائرنگ سے ملزم محمد ہمایوں موقع پر ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ملزم سے پولیس اہلکار کا چھینا ہوا پستول لے لیا گیا، جب کہ ملزم کی نشان دہی پر آلہ قتل سریا بھی برآمد کیا گیا۔

واردات کیسے ہوئی؟

ہمایوں مقتولہ کے شوہر دانش کا بہنوئی تھا، وہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے دانش کے گھر میں بطور کرایہ دار بھی رہ چکا تھا، پولیس کے بیان کے مطابق ہمایوں تقریباً دوپہر 2 سے 2:30 بجے دانش کے گھر پہنچا۔ اس وقت دانش گھر پر نہیں تھا، جبکہ مہوش گھر میں موجود تھیں۔ پولیس کے مطابق ہمایوں نے مہوش کے ساتھ جنسی زیادتی کی کوشش کی۔

مہوش نے مزاحمت کی، جس کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر لوہے کی راڈ سے ان کے سر پر وار کیا اور انھیں قتل کر دیا۔ اس دوران چھوٹی بچی اشمیرہ بھی وہاں موجود تھی۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اسے بھی سر پر وار کر کے قتل کر دیا گیا۔

تقریباً 3 بجے مہوش کے دو بڑے بچے مدرسے سے واپس آئے۔ پولیس کے مطابق انھوں نے ماں اور بہن کو بری حالت میں دیکھا، جس کے بعد ہمایوں نے ان دونوں کو بھی اسی لوہے کی راڈ سے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم تقریباً چار گھنٹے تک گھر میں رہا اور اس دوران خون کے نشانات وغیرہ صاف کرنے اور واردات کو دوسری نوعیت کا واقعہ دکھانے کی کوشش کی۔ اس نے راڈ کو بعد میں ایک نالے میں پھینک دیا۔

ملزم ہمایوں کا اعتراف

پولیس کے سامنے ہمایوں نے قتل کا اعتراف کیا، ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق ہمایوں نے بتایا کہ وہ چنگچی میں دانش کے گھر کے قریب اترا، اور پھر وہاں سے پیدل اس کے گھر گیا، ملزم نے دانش کے گھر آنے سے پہلے اپنے موبائل فون بند کر دیے تھے۔

ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ ہمایوں مقتولہ پر بری نظر رکھتا تھا، اور قتل سے قبل زیادتی کی کوشش بھی کی، جب قریب موجود 18 ماہ کی بچی رونے لگی تو اس کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا۔

عرفان بلوچ کے مطابق ملزم ہمایوں نیو کراچی کا رہائشی ہے، وہ سرجانی ٹاؤن سے نکل کر جب اپنے گھر گیا تو آلہ قتل سریے کو راستے میں نالے میں پھینک دیا تھا اور جب وہ اپنے گھر پہنچا تو وہاں اس کی بیوی نے اسے بتایا کہ بھابی اور تین بچوں کو کسی نے قتل کر دیا ہے۔

گرفتاری کیسے عمل میں آئی؟

ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق جائے واردات دیکھتے ہی پولیس کو پتا چل گیا تھا کہ یہ چوری کی واردات نہیں ہے، بلکہ قتل کو کوئی اور واردات کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعد ازاں ایک پڑوسی خاتون نے بتایا کہ ہمایوں اپنے سالے دانش کے گھر آیا تھا، اور وہ اس وقت مہوش کے گھر میں ہی تھی۔ جس پر ہمایوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔

تاہم مہوش کا موبائل فون تاحال نہیں مل سکا ہے، ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق موبائل فون کی انکوائری جاری ہے، گھر سے غائب ہونے والے موبائل فون وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے اٹھائے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے