• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 2:48 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

دبئی(5 اکتوبر 2026): متحدہ عرب امارات کے اسکولوں نے والدین پر اسکول کے احاطے میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

متحدہ عرب امارات کے اسکولوں نے طلباء کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے والدین پر اسکول کے احاطے میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے اور انہیں واٹس ایپ گروپس یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

دبئی اور شارجہ کے مختلف اسکولوں کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ سرکولر جاری کیے گئے ہیں۔گلف نیوز کو والدین کی جانب سے فراہم کردہ اسکول سرکولر کے مطابق، یہ پابندی اسکول کے گیٹ، کلاس رومز، کوریڈورز، کھیل کے میدانوں، اسمبلی اور بچوں کو ڈراپ آف اور پک اپ کے تمام علاقوں میں نافذ ہوگی۔

شارجہ کے ‘دی انٹرنیشنل اسکول آف شوئیفات’ کی انتظامیہ نے اس معاملے پر خاصی سختی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یاد دہانی کرائی ہے کہ عام اسکول کے دنوں میں کیمپس کے اندر تصاویر یا ویڈیوز لینا قطعی طور پر ممنوع ہے۔

اسکول نے والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ کیمپس میں لی گئی ایسی تمام پرانی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور واٹس ایپ گروپس سے فوری طور پر ڈیلیٹ کر دیں جن میں دیگر طلباء شامل ہوں۔

اسی طرح شارجہ میں ‘جیمز اور اون انگلش ہائی اسکول بوائز’ کے پرنسپل اور سی ای او سریولسن مروگن نے ’طلباء کی پرائیویسی کا تحفظ‘ کے عنوان سے جاری سرکولر میں واضح کیا کہ ہر بچے کی حفاظت، پرائیویسی اور فلاح و بہبود اسکول کی اولین ترجیح ہے۔

یو اے ای اسکولز، والدین کیلیے نئے ضوابط

انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات یو اے ای کے پرائیویسی قوانین کی روشنی میں اٹھائے گئے ہیں۔ دبئی میں ‘جیمز ونچسٹر اسکول’ نے بھی اسی نوعیت کا سخت سرکولر جاری کیا ہے۔

شوئیفات اسکول کے قواعد کے مطابق اس کی واحد استثنائی صورت صرف وہ سرکاری اسکول تقریبات ہیں جہاں والدین کو خصوصی طور پر شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔

ایسی تقاریب میں بھی والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف اپنے ہی بچوں کی تصاویر یا فلم بنائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ فریم میں دوسرے طلباء نہ آئیں اور نہ ہی ان کی تصاویر شیئر کی جائیں۔

دوسری جانب جیمز اسکولز نے نسبتاً لچکدار رویہ اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خصوصی اسکول تقریبات کے لیے فوٹوگرافی سے متعلق واضح ہدایات جاری کریں گے تاکہ خاندان محفوظ طریقے سے تصاویر بنا سکیں۔ اسکولوں کی طرف سے کی جانے والی آفیشل فوٹوگرافی روایتی حفاظتی اور اجازت نامے کے طریقہ کار کے تحت ہی جاری رہے گی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے