• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 10:38 شام
  • پاکستان

پولیس کو خصوصی فنڈز اور محکمہ خزانہ سے براہ راست فنڈز دیے جاتے ہیں پھر بھی ایسے واقعات ہوں گے تو سوال کریں گے، وزیر قانون

خیبرپختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اغوا قرار دیا اور پولیس کو مورود الزام ٹھہراتے ہوئے اختیارات کم کرنے کا عندیہ دے دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی شریک ہوئے۔

بابر سلیم سواتی نے کہا کہ گزشتہ دو دنوں سے ناخوشگوار واقعات پیش آرہے جبکہ کوہاٹ میں دھماکہ ہوا جس میں کئی افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ اسپیکر نے کوہاٹ دھماکے میں شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ دو روز سے اس صوبے میں پولیس اور ضلعی انتظامیہ موجود ہونے کے باوجود گرفتاری کے نام پر اغوا کی وارداتیں ہورہی ہیں، قانون ہونے کے باوجود یہ واقعات ہورہے ہیں۔

بابر سلیم سواتی نے کہا کہ صوبائی وزیر شکیل خان کو اغواء کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ صوبائی وزیر فضل شکور کو اغوا کیا گیا۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ شکیل خان پر 324 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ فضل شکور کو اغواء کیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایم پی اے زاہد اللہ کے بیٹے کو اغواء کر لیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیر عارف احمد زئی کے سیکرٹری اور گارڈ کو اغوا کیا گیا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں پیغام دیا جارہا ہے کہ حکومت کی کوئی حیثیت نہیں، ۔خصوص طبقے پیغام دے رہے ہیں آپ حقیقی آزادی حاصل نہیں کرسکتے، ہمارا بھی پیغام ہے ہم 27 ستمبر کو حقیقی آزادی کے لیے نکلیں گے، 2017 میں پولیس کو اختیارات دیے ہر سال اضافی بجے دیتے پیں۔

وزیرقانون نے کہا کہ وزیراعلی نے صوبائی وزراء کے خلاف مقدمات کی آئی جی سے رپورٹ مانگی ہے، ایک ایک واقعے کی ہم پر 8 ایف آئی آرز درج کی گئیں ہیں جبکہ ہماری حکومت آئی تو فیصلہ کیا کہ کسی کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کریں گے۔

وزیر قانون نے کہا کہ شہداء کا پیکج چالیس لاکھ سے ایک کروڑ دس لاکھ روپے کیا،ساری کوتاہیوں اور کمی کے باوجود ہم نے کوئی کارروائی نہیں کی، اس کے باوجود پولیس غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی پھر مجبور ہوں گے سخت کاروائی ہو، پشاور: پورے ایوان کا مطالبہ ہوگا پولیس کے اختیارات کم کیے جائیں اور سخت سزائیں تجویز کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ تھانوں کو فنڈز مختلف طریقوں سے جاتے تھے لیکن ہم نے خصوصی اور محکمہ خزانہ سے براہ راست فنڈز جاری کیے، اگر پولیس کا یہی سلوک رہا تو پھر اختیارات کی کمی کے بارے میں سوچیں گے۔

ایوان میں چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا پہنچے تو اسپیکر نے کہا کہ چیف سیکریٹری، آئی جی، ججز، پولیس افسران، ڈی سی کو اسمبلی کے رولز بھجوائے ہیں، تمام معاملات آئین کے تحت چلتے ہیں۔ رولز بھی آئین کے تحت بنے پیں اس پر عمل درآمد کرنا ہوگا، پشاور: جو اس رولز کی خلاف ورزی کرے گا سزائیں بھی ملیں گی۔

اسپیکر نے اجلاس کے دوران صوبائی وزیر فضل شکور کی گرفتاری کی ویڈیو چلا دی اور کہا کہ ویڈیو میں دیکھیں ایک صوبائی وزیر کو کیسے گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی مقدمہ ہے کیس ہے تو ایک پولیس اہلکار بھی گرفتار کرسکتا ہے، کسی کو غیر قانونی حکم نہیں ماننا چاہیے۔

اسپیکر اسمبلی نے کہا کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری سے توقع رکھتا ہوں ڈیوٹی اپنے حلف کے مطابق ادا کریں گے، آپ بچے خواتین اغواء کریں گے نفرتیں بڑھیں گی اور انقلاب کی طرف باتیں جاتی ہیں، چیزیں ٹھیک کریں بیٹھ کر بات کریں بندوق سے معاملات ٹھیک نہیں ہوتے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے