• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 12:37 شام
  • پاکستان

اہلخانہ نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کے لیے دوسرا خط ارسال کردیا

راولپنڈی میں حنا جاوید قتل کیس میں اہلخانہ نے شواہد میں ٹیمپرنگ اور تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو فوری مداخلت کے لیے دوسرا خط ارسال کردیا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کا بھائی کامل اصغر کیس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ غیر جانبدارانہ تفتیش نہ ہونے اور شواہد کو ٹیمپر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، جبکہ کامل اصغر کے پولیس اور فارنزک ٹیموں سے مسلسل رابطے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ خط کے مطابق کامل اصغر کے وائس نوٹس بھی تفتیش میں مداخلت کے شواہد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

اہلخانہ نے کہا کہ مرکزی ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کی شواہد کے ساتھ ٹیمپرنگ کے ثبوت موجود ہیں۔ قومی کمیشن اور وفاقی حکومت کامل اصغر کے مبینہ کردار پر رپورٹ طلب کرے اور حنا جاوید قتل کیس کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات یقینی بنائی جائیں۔

خط میں کہا گیا کہ ہم مجبوراً بار بار قومی کمیشن سے رجوع کررہے ہیں کیونکہ اب تک کی تحقیقات غیر جانبدارانہ نہیں کی گئی ہیں۔ 4 ستمبر کو پولیس لائنز ہیڈکوارٹر میں راولپنڈی پولیس حکام سے تفصیلی میٹنگ ہوئی، جس میں لاہور سے ڈی آئی جی شعیب خرم، سی پی او حسن مشتاق سکھیرا اور ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب بھی شریک تھے۔

حنا جاوید کے اہلخانہ نے پولیس حکام کے سامنے اپنے تحفظات رکھتے ہوئے بتایا کہ قتل کی ذمہ داری اصل ملزم کے بجائے گھریلو ملازم پر ڈالی جارہی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق انہیں یقین ہے کہ ملزم فیصل اصغر کا بھائی کامل اصغر تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

خط میں کہا گیا کہ ہمارے پاس ملزم فیصل اصغر کے بھائی کامل اصغر کے وائس نوٹس موجود ہیں جو اس نے مقتولہ کے اہلخانہ کو بھیجے ہیں۔ کامل اصغر پولیس کے ساتھ فعال طور پر ملی بھگت کررہا ہے۔

اہلخانہ نے موقف اختیار کیا کہ ہیومن رائٹس ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت قومی کمیشن دیوانی عدالت کے اختیارات استعمال کرسکتا ہے اور گواہان، شواہد اور مقدمے کا سارا ریکارڈ طلب کرسکتا ہے۔ پولیس کی جانبداری اور ملزمان سے ملی بھگت قانون اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔

خط میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سے حنا جاوید قتل کیس کی جے آئی ٹی بنانے کی ہدایت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ حنا جاوید کو بے رحمانہ طریقے سے قتل کیا گیا، اہلخانہ منصفانہ اور غیر جانبدار تفتیش اور انصاف کے منتظر ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے