اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان
سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل
دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
پاکستانی معاشرے کے متوسط طبقے میں یہ سوال محض خاندانی ترتیب یا سلیقے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک گہرا نفسیاتی، معاشی اور معاشرتی مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے جہاں والدین اکثر اس بات پر شش و پنج کا شکار رہتے ہیں کہ بیٹی کو پہلے رخصت کیا جائے یا بیٹے کا گھر پہلے بسایا جائے، اور اس کشمکش کی سب سے بڑی وجہ وہ سماجی دباؤ اور روایات ہیں جو دہائیوں سے ہمارے گھریلو نظام کا حصہ چلی آرہی ہیں۔
روایتی سوچ کے مطابق متوسط طبقے کے اکثر گھرانوں میں بیٹی کی شادی کو ترجیح دی جاتی ہے، کیونکہ معاشرے میں بیٹی کی بڑھتی ہوئی عمر کو ایک بوجھ یا تشویش کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں ہی بیٹی کا فرض ادا کر کے سکون حاصل کر لیں۔ دوسری طرف، معاشی نقطۂ نظر سے بھی بیٹی کی شادی میں جہیز، تقاریب اور دیگر اخراجات کی مد میں ایک بڑی رقم درکار ہوتی ہے، لہٰذا والدین کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی تمام جمع پونجی اور وسائل کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلے بیٹی کو رخصت کر دیں اور بیٹا وقت کے ساتھ ساتھ، اپنی کمائی سے اپنا گھر بسانے اور کنبے کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہو جائے گا۔ تاہم، اسی معاشرے میں ایک دوسرا نقطۂ نظر بھی سامنے آرہا ہے جس میں پہلے بہو لانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔ خاص طور پر ان گھرانوں میں جہاں ماں کی عمر ڈھل رہی ہو، گھر کے کام کاج کے لیے کسی معاون یا سلیقہ مند ہاتھ کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے، یا بیٹیوں کی دیکھ بھال اور ان کی شادی کی تیاری میں مدد کے لیے گھر میں بہو کی موجودگی کو ضروری خیال کیا جارہا ہے۔ لیکن اس فیصلے کے ساتھ ہی متوسط طبقے کا وہ حساس موڑ شروع ہوتا ہے جہاں خاندانی تعلقات کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں، کیونکہ بہو پہلے آجائے تو بیٹی کے دل میں یہ احساس پیدا ہوسکتا ہے یا یہ خدشہ جنم لے سکتا ہے کہ نئے فرد کی وجہ سے اس کی توجہ، اہمیت ہی نہیں کم ہوجائے گی بلکہ وسائل بھی تقسیم ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب اگر بہو پر گھر کا سارا بوجھ ڈال دیا جائے اور یہ توقع بھی ہو کہ وہ اس گھر کی بیٹیوں کا خیال رکھے گی تو یہ بات ساس اور بہو کے درمیان ابتدائی دنوں ہی میں تلخیاں اور بدگمانیاں پیدا کر سکتی ہے۔ اس کشمکش کا حل لکیر کا فقیر بننے یا معاشرتی رسم و رواج کو اندھا دھند اپنانے میں نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد کی عمر، ان کی ضروریات، معاشی استحکام اور سب سے بڑھ کر ان کی نفسیاتی اور جذباتی آسودگی میں پنہاں ہے، کیونکہ اگر بیٹا معاشی طور پر خود کفیل ہے اور بیٹی ابھی زیر تعلیم یا اپنے کریئر کی ابتدائی مراحل میں ہے تو بیٹے کا گھر پہلے بسانا عین عقل مندی ہے۔ اگر بیٹی شادی کی مناسب عمر تک پہنچ چکی ہے اور اچھا رشتہ بھی میسر ہے تو تاخیر کیے بغیر اس کے فرض سے سبک دوش ہونا ہی دانش مندی کہلائے گا۔
دراصل متوسط طبقے کے گھرانوں کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ بیٹے کا گھر صرف اس لیے نہیں بسایا جاسکتا کہ بہو آ کر گھر کا سارا کام کاج سنبھالے گی اور آج کے دور میں یہ تصور تو احمقانہ ہی ہو گا کہ کسی خاندان کو بہو کی شکل میں ایک ملازمہ مل سکتی ہے۔ اسی طرح والدین کو یہ بھی سمجھنا ہو گا بیٹی کوئی ایسا بوجھ نہیں ہے جسے اتارنے میں عجلت یا جلد بازی کی جائے۔ دونوں کا گھر میں ایک رتبہ اور الگ مقام ہے۔ لہٰذا ترجیحات کا تعین کسی روایتی سوچ اور اپنے مفاد کے ساتھ کرنے بجائے باہمی رضا مندی، عدل کے ساتھ اور زمینی حقائق کے مطابق کیا جائے۔ اسی صورت میں ایک گھر بلکہ پورے خاندان کا سکون اور خوشیاں برقرار رہ سکتی ہیں اور ایسے ہی فیصلے رشتوں کے مابین عزّت اور احترام قائم رکھ سکتے ہیں۔
