• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 9:36 شام
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

کویت میں اسکولوں کے لیے عطیات، سوشل میڈیا اور طلبہ کی پرائیویسی سے متعلق اصول مزید سخت کر دیے گئے۔

وزارتِ تعلیم نے اسکولوں کے اندر پیشہ ورانہ طرزِ عمل، انتظامی امور اور رویوں سے متعلق سخت ضوابط متعارف کرواتے ہوئے ایک جامع سرکلر جاری کیا ہے، جس میں ایک محفوظ اور نظم و ضبط کے حامل تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے۔

وزارتِ تعلیم کے انڈر سیکریٹری ڈاکٹر خالد الرشید نے "اسکولوں کے اندر کام اور رویے سے متعلق ضوابط اور ممانعتیں” کے عنوان سے یہ سرکلر جاری کیا۔

اس میں ایسے متعدد اصول وضع کیے گئے ہیں جن کا مقصد طلبہ اور ملازمین کا تحفظ، عوامی فنڈز اور ڈیٹا کی رازداری کی حفاظت، اور اسکولوں کے امور کو درست انداز میں چلانا ہے۔

یہ سرکلر وزارتی قرارداد نمبر 151 (مورخہ 2026) اور تعلیم، صحت، خوراک کے تقاضوں، تحائف و عطیات، اور سرکاری ملازمین کے ضابطہ اخلاق سے متعلق دیگر ضوابط پر مبنی ہے۔ اس کے تحت تمام اسکولوں، تدریسی و انتظامی عملے اور دیگر ملازمین کے لیے لازم ہے کہ وہ مقررہ ہدایات اور ضوابط کی پابندی کریں۔

وزارت نے اسکول کے ملازمین پر پابندی عائد کی ہے کہ وہ کسی بھی مقصد کے لیے اساتذہ، منتظمین، طلبہ یا والدین سے رقم (مثلاً لاٹری وغیرہ کی صورت میں) اکٹھی نہ کریں اور نہ ہی نقد یا کسی اور شکل میں تحائف یا عطیات وصول کریں۔

اس کے علاوہ، طلبہ یا ملازمین کو اشیاء اور خدمات فروخت کرنے، ان کی تشہیر کرنے یا انہیں فروغ دینے، نیز ذاتی یا مادی مفاد کے لیے اپنے عہدے یا اسکول کی سہولیات کو استعمال کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

خریداری، معاہدہ سازی، ادائیگی اور رقوم کی وصولی سے متعلق تمام سرگرمیاں لازمی طور پر رائج ضوابط کے عین مطابق انجام دی جانی چاہئیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے