• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 8:53 شام
  • پاکستان

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی

ایک چرواہا تھا۔ اس کا ایک لڑکا تھا۔ وہ مویشیوں کو چارہ کھلا کر اور انہیں لے کر گھر لوٹنے لگا۔ اس کے ریوڑ میں ایک گائے کا بچھڑا بھی تھا۔ وہ واپس نہیں لوٹ رہا تھا۔ وہ بس گھاس کھائے جا رہا تھا۔

تب لڑکا پتھر پر بیٹھ کر رونے لگا۔ کہیں سے آیا ایک خرگوش۔

خوگوش نے پوچھا ’’ارے لڑکے روکیوں رہے ہو؟‘‘

لڑکے نے کہا ’’میرا بچھڑا واپس نہیں چل رہا ہے اس لیے میں رو رہا ہوں۔‘‘

خرگوش نے کہا ’’رکو، روؤ نہیں، میں بچھڑے کو واپس لاتا ہوں۔‘‘

خرگوش نے بچھڑے سے کہا ’’ارے بچھڑے تو اپنے گھر جا۔‘‘

بچھڑے نے کہا ’’جاؤ نہیں جاتا۔ مجھے گھاس کھانی ہے۔‘‘

تب خرگوش بھی پتھر پر بیٹھ کر رونے لگا۔ اتنے میں وہاں پر آیا ایک ہرن۔ ہرن نے کہا ’’کیوں بھئی خرگوش رو کیوں رہے ہو؟‘‘

خرگوش نے کہا ’’بچھڑا نہیں آرہا ہے اس لیے لڑکا رو رہا ہے۔ لڑکا رو رہا ہے اس لیے میں رو رہا ہوں۔‘‘

ہرن نے کہا ’’رک جاؤ روؤ نہیں، میں بچھڑے کو واپس لاتا ہوں۔‘‘

ہرن نے بچھڑے سے کہا’’جا بھئی بچھڑے گھر جا۔‘‘

بچھڑے نے کہا ’’میں نہیں جاؤں گا مجھے گھاس کھانی ہے۔‘‘ تب ہرن بھی پتھر پر بیٹھ کر رونے لگا۔

ادھر سے ایک بَڑّا(بِھڑ) آیا۔ بَڑّے نے کہا’’اے ہرن تم کیوں رو رہے ہو؟‘‘

ہرن نے کہا ’’بچھڑا نہیں آ رہا اس لیے لڑکا رو رہا ہے۔ لڑکا رو رہا ہے اس لیے خرگوش رو رہا ہے، خرگوش رو رہا ہے اس لیے میں رو رہا ہوں‘‘

بَڑّے نے کہا ’’رکو روؤ نہیں، میں لاتا ہوں بچھڑے کو واپس۔‘‘

بڑّے نے بچھڑے کے کان میں چپکے سے کاٹ لیا۔ تب بچھڑا دوڑتا ہوا گھر کی طرف نکل پڑا۔ پھر ہرن ہنسنے لگا۔ پھر خرگوش ہنسنے لگا۔ تب لڑکا بھی ہنسنے لگا۔

(معروف ادیب صاحب علی کی بچوں کے لیے لکھی گئی کہانیوں میں سے انتخاب)

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے