ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!
دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!
برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو
دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا
پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انہوں نے وفاقی حکومت کی سیکیورٹی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے پالیسی شفٹ کا مطالبہ کیا ہے۔
اجلاس سے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جبکہ 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن دوبارہ بدامنی کی نذر کردیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دہشت گردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر دوبارہ آبادکاری تک وفاق کو مسلسل خبردار کیا گیا، لیکن ان کی تنبیہات کو وفاقی وزرا نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی درست نہیں اور اس کے نتیجے میں دوبارہ پختونوں کا خون بہہ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق آج نوجوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین اور بزرگ دہشت گردی کا نشانہ بن رہے ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دوبارہ دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی قابل قبول نہیں۔ وفاق کو اپنی پالیسی تبدیل کرکے نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ امن کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دیے گئے جبکہ مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق پولیس کی نفری اور اسپیشل برانچ کو مستحکم کرنے کے ساتھ جدید اسلحہ بھی فراہم کیا جارہا ہے، تاہم صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ 15 اکتوبر 2025 سے 22 سال پرانی ناکام پالیسی تبدیل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان کے مطابق کے پی کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے۔
وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جاسکتا ہے، تاہم کوئی سننے کو تیار نہیں۔
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا اور "ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹادے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں، وفاق اپنی پالیسی تبدیل کرے اور پالیسی شفٹ لائے، کیونکہ پالیسی میں تبدیلی صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے۔
