مشرقی یروشلم کے 4 فلسطینیوں کو ایران سے متعلق جاسوسی سازش میں ملوث ہونے کا اعتراف کرنے پر مجرم قرار دے دیا گیا
اسرائیل کی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں پیتح تکوا کے رہائشی الیگزینڈر گرانووسکی کو ساڑھے 13 سال قید کی سزا سنا دی۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق لود ڈسٹرکٹ کورٹ نے مقامی شہری الیگزینڈر گرانووسکی کو 2024 کے اواخر میں ایرانی ایجنٹ کے لیے کام کرنے، املاک کو نقصان پہنچانے اور آتش زنی سمیت مختلف جرائم میں سزا سنائی۔
اسرائیلی پراسیکیوشن نے بتایا کہ یہ ایران کے لیے کام کرنے کے مقدمات میں اب تک دی جانے والی سخت ترین سزاؤں میں سے ایک ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق گرانووسکی نے ایرانی ایجنٹ سے رابطے کے دوران مالی معاوضے کے عوض مختلف کام انجام دیے، جن میں 9 گاڑیوں کو آگ لگانا، حکومت مخالف نعرے دیواروں پر لکھنا اور سابق اسرائیلی فوجی سربراہ بینی گینٹز کے رہائشی علاقے کی نگرانی کرنا شامل تھا۔
بعض رپورٹس کے مطابق اسے یہ رقم ڈیجیٹل والیٹ کے ذریعے فراہم کی گئی۔
عدالت نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ان لوگوں کو بھی واضح پیغام دینا ہے جو مالی فائدے کے لیے کسی دشمن فریق کے لیے کام کرنے پر آمادہ ہوسکتے ہیں کہ انہیں طویل قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مشرقی یروشلم کے 4 افراد بھی مجرم قرار
دوسری جانب یروشلم ڈسٹرکٹ کورٹ نے مشرقی یروشلم کے علاقے بیت صفافا سے تعلق رکھنے والے چار فلسطینی محمود حدر، ممدوح حدر، عمری ابو حمیدہ اور محمد طہٰ کو ایک الگ ایرانی جاسوسی کیس میں مجرم قرار دے دیا۔
عدالت کے مطابق چاروں نے استغاثہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت اپنے کردار کا اعتراف کیا۔ ان میں سے تین اسرائیلی شہری ہیں جبکہ محمد طہٰ اسرائیلی شہری نہیں ہیں۔
چاروں کو ستمبر 2024 میں تین دیگر افراد کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔ تین دیگر ملزمان کے خلاف عدالتی کارروائی تاحال جاری ہے۔
استغاثہ کے مطابق ممدوح حدر اور عمری ابو حمیدہ دیگر افراد کے ساتھ ریحوت کے وائزمان انسٹی ٹیوٹ گئے تھے جہاں انہیں مبینہ طور پر معلوم ہوا کہ یہ کارروائی ایک ایرانی ذریعے سے آنے والی ہدایت کا حصہ ہے اور ایک اسرائیلی سائنس دان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ان دونوں پر دہشت گرد کارروائی روکنے میں ناکامی کا الزام ثابت ہوا۔ ایک اور ملزم محمد طہٰ نے مبینہ طور پر ایرانی رابطہ کار کو ایک ایسی ویڈیو بھیجی جس میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ ایک یہودی گھر پر دستی بم پھینکا گیا ہے۔
بعد میں معلوم ہوا کہ ویڈیو میں دکھایا گیا مکان دراصل مقبوضہ مغربی کنارے کے قریب واقع فلسطینی گاؤں قطانہ میں ایک خالی مکان تھا۔
محمود حدر پر بھی غیر ملکی ایجنٹ سے رابطے میں معاونت کا جرم ثابت ہوا جس میں جعلی پولیس نمبر پلیٹ حاصل کرنے کی کوشش بھی شامل تھی۔
اس نمبر پلیٹ کو مبینہ طور پر پولیس گاڑی پر حملے کی جعلی ویڈیو بنانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں 2024 کے دوران ایران کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے والے متعدد افراد کی گرفتاریاں سامنے آئی تھیں۔ ان مقدمات میں مالی معاوضے کے بدلے حساس مقامات کی معلومات اکٹھی کرنے، نگرانی، آتش زنی اور تخریبی کارروائیوں جیسے الزامات شامل رہے ہیں۔ تازہ عدالتی فیصلے انہی میں سے دو الگ مقدمات سے متعلق ہیں۔
