• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 1:39 صبح
  • پاکستان

ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے

امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے اعلیٰ ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے اسرائیل کو 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی فروخت کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

رائٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیل کو تقریباً 2.8 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ اور گولہ بارود فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم بھی شامل ہیں۔

گریگوری میکس نے کہا کہ وہ اس مجوزہ فروخت کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ ہتھیار بین الاقوامی قانون کے مطابق استعمال نہیں کیے جائیں گے۔

تاہم ان کا اعتراض اکیلے اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ بڑی دفاعی فروخت پر کانگریس کی کمیٹیوں کی جانب سے جائزے کا یہ عمل غیر رسمی نوعیت کا ہے۔

2.8 ارب ڈالر کے پیکیج میں کیا شامل ہے؟

امریکی حکام کے مطابق مجوزہ پیکیج میں 20 ہزار ایم کے 84 اور 20 ہزار بی ایل یو-117 بم شامل ہیں، دونوں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کے زمرے میں آتے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ اور دیگر ذرائع کے مطابق پیکیج میں آئی-2000 پینیٹریٹر وارہیڈز بھی شامل کیے جانے کی اطلاع ہے۔

رائٹرز کے مطابق یہ منصوبہ ابھی حتمی طور پر فروخت کے لیے پیش نہیں ہوئے ہیں بلکہ امریکی انتظامیہ نے اس بارے میں متعلقہ کانگریسی کمیٹیوں کو غیر رسمی طور پر آگاہ کیا ہے۔

بموں کی فروخت پر تشویش کیوں؟

2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم پہلے بھی غزہ اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں استعمال ہوتے رہے ہیں جس پر انسانی حقوق کے ماہرین اور دیگر حلقوں کی جانب سے شہری علاقوں میں ان کے استعمال کے حوالے سے تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

رائٹرز کے مطابق سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے 2024 میں 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بموں کی ایک کھیپ کی ترسیل روک دی تھی۔ نئی مجوزہ فروخت میں اس نوعیت کے ہتھیاروں کی بڑی تعداد شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکا میں بڑی دفاعی فروخت کے معاملے میں کانگریس کی متعلقہ کمیٹیاں انتظامیہ کے منصوبوں کا جائزہ لے سکتی ہیں۔ تاہم موجودہ غیر رسمی جائزے کے طریقہ کار کے تحت کسی ایک کمیٹی رکن یا رہنما کا اعتراض خود بخود فروخت کو روک نہیں دیتا۔

اس لیے گریگوری میکس کی مخالفت کے باوجود مجوزہ پیکیج کو آگے بڑھانے کا اختیار امریکی انتظامیہ کے پاس موجود ہے، جبکہ حتمی منظوری اور فروخت کے مراحل امریکی قوانین اور متعلقہ حکومتی طریقہ کار کے تحت مکمل ہوں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے