• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 3:19 صبح
  • پاکستان

کیا انسان کو آزاد کرنے کے لیے بنایا گیا، انقلاب خود انسان کی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔

کچھ واقعات تاریخ میں دفن نہیں ہوتے۔ ان پر مٹی کی کتنی ہی تہیں جم جائیں، کتنی ہی حکومتیں آ کر گزر جائیں ،کتنے ہی پرچم اتر جائیں اور کتنے ہی نئے پرچم لہرا دیے جائیں ، وہ واقعات کسی نہ کسی صورت میں انسان کے حافظے میں باقی رہتے ہیں۔ انقلاب اکتوبر بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے۔ اکتوبر 1917 روس جنگ میں جل رہا تھا۔ محاذوں پر سپاہی مر رہے تھے، شہروں میں روٹی کی قلت تھی، دیہات میں کسان زمین کے مالک ہونے کا خواب دیکھتے تھے اور کارخانوں میں مزدور اپنی محنت اور اپنی زندگی کے درمیان موجود اس عجیب فاصلے کو محسوس کر رہے تھے جس میں وہ دولت پیدا کرتے تھے مگر دولت ان کی نہیں ہوتی تھی۔

پرانا نظام ٹوٹ چکا تھا مگر نیا نظام ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ تاریخ میں ایسے لمحے بہت کم آتے ہیں جب ایک سماج اپنے گزرے ہوئے کل اور آنے والے کل کے درمیان کھڑا ہو کر اپنے آپ سے پوچھتا ہے کہ اب آگے کہاں جانا ہے۔ پھر پیٹروگراڈ کی گلیوں میں ایک نئی آواز سنائی دی۔ یہ آواز کسی بادشاہ کی نہیں تھی۔ یہ مزدوروں، سپاہیوں اور کسانوں کی آواز تھی اور پھر وہ ہوا جسے آنے والی نسلوں نے انقلابِ اکتوبر کے نام سے یاد کیا۔اس انقلاب کی سب سے بڑی طاقت شاید اس کا یہ یقین تھا کہ دنیا جیسی ہے ضروری نہیں کہ ہمیشہ ویسی ہی رہے۔ انسان اپنی تاریخ کا محض تماشائی نہیں، اسے بدلنے والا بھی ہو سکتا ہے۔

یہ خیال آج ہمیں معمولی معلوم ہو سکتا ہے مگر اس زمانے میں یہ خیال خود ایک بغاوت تھی۔

صدیوں سے انسان نے بادشاہتیں دیکھی تھیں، اشرافیہ دیکھی تھی، جاگیردار دیکھے تھے، سرمایہ اور اقتدار کو چند ہاتھوں میں مرتکز دیکھا تھا۔ انقلاب اکتوبر نے یہ دعویٰ کیا کہ محنت کرنے والے بھی تاریخ کے مالک ہو سکتے ہیں۔ ایک ایسا سماج ممکن ہے جہاں روٹی، زمین، امن اور انسانی وقار چند لوگوں کی مراعات نہ رہیں۔تاریخ کسی ایک رنگ کی نہیں ہوتی۔

انقلاب کے بعد خانہ جنگی آئی ،بھوک آئی، بیرونی مداخلت آئی ،اور خوف بھی آیا۔ جس ریاست نے مزدور اور کسان کے نام پر جنم لیا تھا ،اسی ریاست نے رفتہ رفتہ سیاسی اختلاف کے لیے جگہ کم کر دی۔ انقلاب کو بچانے کے نام پر آزادی کو محدود کیا گیا۔ اقتدار کے گرد ایک ایسی مرکزیت پیدا ہوئی جس نے بعد کے سوویت تجربے کو اس کے ابتدائی خواب سے کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔

یہاں آ کر تاریخ ہم سے ایک مشکل سوال پوچھتی ہے۔

اس سوال کا جواب آسان نہیں۔ انقلاب اکتوبر کو صرف اس کی ناکامیوں سے دیکھنا بھی تاریخ کے ساتھ انصاف نہیں اور اسے صرف اس کی فتوحات کے آئینے میں دیکھنا بھی۔ اس نے دنیا کے محنت کشوں کو ایک نیا حوصلہ دیا نوآبادیاتی دنیا کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا اور تعلیم ،صحت اور سماجی مساوات کے بارے میں نئے تصورات کو قوت دی، لیکن اسی کے ساتھ اس نے یہ تلخ سبق بھی دیا کہ کوئی بھی نظریہ خواہ اس کے مقاصد کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوں، انسان کی آزادی سے بڑا نہیں ہو سکتا۔

شاید یہی انقلاب اکتوبر کا سب سے بڑا سبق ہے۔اور اسی لیے انقلاب اکتوبر کی یاد آج بھی ہمارے لیے اہم ہے۔ سوویت یونین نہیں رہا لینن نہیں رہے۔ وہ دنیا جس میں بالشویک انقلاب برپا ہوا تھا بہت پیچھے رہ گئی۔ مگر کیا وہ سوال بھی ختم ہو گیا جس نے اس انقلاب کو جنم دیا تھا۔ کیا آج دنیا میں دولت کی غیر مساوی تقسیم ختم ہو گئی ہے۔ کیا جنگیں ختم ہو گئی ہیں، کیا بھوک تاریخ کا قصہ بن چکی ہے۔ کیا مزدور اپنی محنت کی پوری قیمت پاتا ہے۔ کیا کسان اپنی زمین اور اپنی فصل کے بارے میں مکمل اختیار رکھتا ہے، ہم ان سوالوں کا جواب جانتے ہیں۔

دنیا نے ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ انسان نے ایسی مشینیں بنا لی ہیں جو لمحوں میں وہ کام کر سکتی ہیں جن کے لیے کبھی ہزاروں انسان درکار ہوتے تھے۔ دولت پیدا کرنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ہے، مگر اسی دنیا میں کروڑوں انسان ایسے بھی ہیں جن کے لیے صاف پانی، مناسب خوراک، علاج اور تعلیم اب بھی خواب ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انقلاب اکتوبر دوبارہ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ نہ کسی پرانے انقلاب کی نقل بن کر نہ کسی پرانے پرچم کی صورت میں بلکہ ایک سوال بن کر۔ دنیا کس کے لیے ہے ترقی چند لوگوں کی دولت بڑھانے کے لیے ہے یا انسان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے۔شاید ہر نسل کو اپنے سوال خود پیدا کرنے پڑتے ہیں۔ 1917 کے روس کے سوال ہمارے سوال نہیں ہو سکتے مگر ان سوالوں کے پیچھے چھپی انسانی بے چینی آج بھی زندہ ہے۔اسی لیے انقلاب کی یاد صرف جشن نہیں ہونی چاہیے اور نہ صرف ماتم تاریخ کو عقیدت سے نہیں شعور سے پڑھنا چاہیے۔

اکتوبر ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ماضی کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی موجودہ نظام ابدی نہیں ہوتا۔ طاقت کے ایوان بھی بدلتے ہیں، سلطنتیں بھی ختم ہوتی ہیں ،نظریات بھی آزمائے جاتے ہیں اور انسان بار بار اپنی دنیا کو نئے سرے سے بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ شاید یہی انسان کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ وہ شکست کے بعد بھی خواب دیکھتا ہے۔

جب تک دنیا میں ایک انسان بھی یہ پوچھتا رہے گا کہ دولت، طاقت، امن اور انصاف سب کے لیے کیوں نہیں انقلاب اکتوبر تاریخ کی کتاب میں بند نہیں ہوگا۔وہ ہمارے درمیان کہیں نہ کہیں زندہ رہے گا، ایک سوال کی طرح ،ایک خواب کی طرح، ایک نامکمل وعدے کی طرح۔سب سے خوب صورت بات یہ ہے کہ خواب مرنے نہیں چاہییں۔ دنیا بدلتی ہے مگر انسان کی بہتر دنیا کی آرزو باقی رہتی ہے اور جب تک یہ آرزو باقی ہے امید بھی زندہ ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے