• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 3:19 صبح
  • پاکستان

ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

کراچی : شہر قائد میں خواتین اور لڑکیاں اب نہ صرف ای بائیکس چلا رہی ہیں بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے انہیں اسمبل اور تیار بھی کر رہی ہیں۔

جی ہاں !! کراچی کی لڑکیوں نے کمال کردیا، موٹرسائیکل چلانے سے آگے بڑھ کر اب ای بائیکس بنانے بھی لگیں یہ پاکستان کی آٹو موٹو انڈسٹری میں صنفی روایات کو توڑنے اور خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کی طرف ایک بڑا انقلابی اقدام ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ایک ادارے میں خواتین نہ صرف الیکٹرک بائیکس اور اسکوٹیز کی اسمبلنگ کر رہی ہیں بلکہ ڈرل مشین، برقی آلات اور دیگر تکنیکی اوزار بھی مہارت سے استعمال کر رہی ہیں۔

اس شعبے سے وابستہ لڑکیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے تربیت اور عملی تجربے کے ذریعے وہ ہنر حاصل کیے ہیں جنہیں عام طور پر مردوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر ایک خاتون ٹیکنیشن نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ انہیں اس شعبے میں کام کرتے ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔

انہوں نے پہلے الیکٹریشن کا کورس کیا، جس کے بعد ان کے اندر کچھ نیا کرنے کا جذبہ پیدا ہوا، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسا کام کرنا چاہتی تھیں جو پاکستان میں پہلے کسی خاتون نے نہ کیا ہو، اسی سوچ کے تحت انہوں نے الیکٹرک بائیکس کی تیاری اور اسمبلنگ کے شعبے کا انتخاب کیا۔

ایک اور خاتون نے بتایا کہ انہیں اس ادارے میں کام کرتے ہوئے تقریباً ایک سال ہونے والا ہے اور انہوں نے یہاں آکر ہی تمام ضروری تربیت حاصل کی۔ ان کے بقول ادارے میں بھرپور رہنمائی اور تربیت فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ مکمل ٹیکنیشن کے طور پر کام کرنے کے قابل ہوگئیں۔

ادارے میں کام کرنے والی ایک اور خاتون نے بتایا کہ انہیں یہ کام سیکھنے میں صرف دو سے تین ماہ لگے اور تربیت کے لیے کسی قسم کی فیس بھی ادا نہیں کرنا پڑی۔ ان کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر جاکر اپنے بچوں کو اپنے کام کے بارے میں بتاتی ہیں تو وہ حیران ہوتے ہیں کہ ان کی والدہ اس نوعیت کا تکنیکی کام کر رہی ہیں۔

ایک خاتون ٹیکنیشن مہرین نے بتایا کہ وہ اس سے قبل فارما سیوٹیکل کے شعبے سے وابستہ تھیں، تاہم اب الیکٹرک بائیکس کی تیاری میں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ لوگوں کو بتاتی ہیں کہ وہ بائیکس بناتی ہیں تو اکثر لوگ حیران ہوکر پوچھتے ہیں کہ وہ یہ سب کام کیسے کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ سڑک پر کسی خاتون یا مرد کو الیکٹرک بائیک یا اسکوٹی چلاتے دیکھتی ہیں تو انہیں یہ احساس خوشی دیتا ہے کہ ممکن ہے وہ بائیک ان ہی کے ہاتھوں تیار ہوئی ہو۔

اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس شعبے کی سربراہی بھی ایک خاتون کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب خواتین مختلف صنعتوں کو کامیابی سے لیڈ کرسکتی ہیں تو آٹوموٹو انڈسٹری کیوں پیچھے رہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود بھی بائیک بنائیں گی اور ان کے ساتھ بڑی تعداد میں خواتین بھی اس کام کا حصہ ہوں گی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے