• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 3:55 شام
  • پاکستان

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

واشنگٹن(25 ستمبر 2026): امریکی فوج آبنائے ہرمز میں ڈرونز اور کروز میزائلوں کے خلاف جدید ہائی انرجی لیزر ہتھیار استعمال کر رہی ہے، جنہیں چلانے کے لیے ایکس باکس گیم کنسول سے ملتے جلتے کنٹرولرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے نیویارک پوسٹ کے مطابق امریکی محکمہ جنگ نے تصدیق کی ہے کہ یہ لیزر نظام ڈرونز اور آنے والے کروز میزائلوں کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہر ہدف کو روکنے کے لیے الگ میزائل یا جسمانی انٹرسیپٹر کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے بعض حالات میں دفاعی کارروائی کی لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

تقریباً 50 سال کی تیاری کے بعد سامنے آنے والا یہ لیزر نظام جنریٹرز یا بیٹریوں سے توانائی حاصل کرتا ہے اور اسے روشنی کے ذرات (فوٹونز) کی شکل میں ایک انتہائی مرکوز شعاع میں بدل دیتا ہے۔یہ شعاع ہدف کی سطح پر اتنی شدید حرارت پیدا کرتی ہے کہ ڈرون یا دیگر ہدف کو تباہ یا ناکارہ بنایا جا سکے۔

دفاعی ماہر مارک نیس کے مطابق، لیزر کی شعاع سے ڈرون کے سینسرز کو بھی معطل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کی مؤثریت کا انحصار ہدف، فاصلے، موسم اور دستیاب توانائی پر ہوتا ہے۔

اس نظام کی ایک نمایاں خصوصیت اس میں ایکس باکس کے کنٹرولر کا استعمال ہے۔ امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ جب گیمنگ انڈسٹری نے پہلے ہی انتہائی مؤثر کنٹرولرز تیار کر رکھے ہیں، تو کوئی نیا اور مخصوص نظام بنانے کی ضرورت نہیں۔

ماہر جیرڈ کیلر کا کہنا ہے کہ ان ہتھیاروں کو اب تجربہ گاہوں کے بجائے عملی میدان میں استعمال کرنا زیادہ معنی رکھتا ہے۔

یہ لیزر نظام میکسیکو میں منشیات فروش گروہوں کے خلاف بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں اور مشرق وسطیٰ میں متعدد جنگی بحری جہازوں پر نصب ہیں۔

تاہم، ماہرین کے مطابق تاحال ان کے انسانی اہداف کے خلاف استعمال کی کوئی تصدیق نہیں ہوئی۔ ماہر برینٹ زیارنک کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے مستقبل میں روایتی گولہ بارود کا ذخیرہ کرنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں تعینات یہ نظام بڑے اور بھاری ہیں، اس لیے انہیں فوجیوں کی پشت پر نصب کرنے کے بجائے جنگی بحری جہازوں پر لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’ہیلیوس‘ نامی نظام 60 کلو واٹ طاقت کی ہائی انرجی لیزر شعاع سے اہداف تباہ کرتا ہے، جبکہ بوئنگ نے ’سی ایل ڈبلیو ایس‘ نامی کمپیکٹ لیزر ہتھیار بھی پیش کیا ہے۔

امریکی فوج اس لیزر ہتھیاروں کے پروگرام پر تقریباً 500 ملین ڈالر خرچ کر رہی ہے تاکہ کم آپریٹنگ لاگت کے ساتھ فضائی خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے، اگرچہ اس کی ابتدائی تنصیب اور بنیادی ڈھانچہ مہقنگا ہو سکتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے