میری بیوی بچے کہاں ہیں؟ ڈیڑھ سالہ ٹیٹو سنگھ کی کہانی کا اصل راز کیا ہے؟
دکاندار نے تین دن میں موبائل ٹھیک نہ کیا تو شہری تلوار لے کر پہنچ گیا
کرسٹا پائیک کے خوفناک جرم کے پیچھے اصل کہانی کیا تھی؟
بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
امرتا پریتم نے بے مثال ادب تخلیق کیا۔ کئی ادبی ایوارڈ اپنے نام کیے اور پنجابی زبان کی مقبول شاعرہ اور ادیب کے طور پر نام و مقام پایا۔ اپنے طویل ادبی سفر میں امرتا پریتم نے شاعری، ناول اور نثری نگارشات کے متعدد مجموعے یادگار چھوڑے۔ ان کی بیشتر کتابوں کا انگریزی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔
رسیدی ٹکٹ امرتا پریتم کی مشہور آپ بیتی ہے جس سے یہ اقتباس پیشِ خدمت ہے۔
بات یہ بھی چھوٹی سی ہے، لیکن ایک بہت بڑے نفرت کے دائرے میں گھری ہوئی۔ پنجابی کے ایک شاعر تھے جن کے ساتھ کبھی ملاقی نہیں ہوئی۔ یہ بھی میری ادبی زندگی کے ابتدائی دنوں کی بات ہے لاہور کی۔ اور پتہ چلتا رہتا تھا کہ وہ میرے خلاف بہت بولتے ہیں، میں نے کبھی دیکھا نہیں تھا، اس لیے حیران ہوتی تھی کہ ان کو میری ذات کے ساتھ کب سے اور کس بات کی پرخاش ہے؟
پھر ملک کی تقسیم سے تھوڑا عرصہ قبل کی بات ہے کہ ایک بار مجھے کچھ بخار ہو گیا اور ایک اخبار کے مدیر مزاج پرسی کو آئے۔ ان کے ساتھ ایک کوئی اور تھا جن کو میں نے پیشتر کبھی نہیں تھا دیکھا۔ انہوں نے نام بتا کر تعارف کرایا تو میں چونک سی گئی۔ یہ وہی تھے جن کو میرے وجود کے ساتھ بھی نفرت معلوم ہوتی تھی۔ حیران تھی کہ یہ آج میری بیمار پرسی کے لیے کیوں چلے آئے؟
دو تین روز کے بعد ایک ہفت روزہ اخبار میں شائع ہوئی ان کی نظم پڑھی جس کے نیچے وہی تاریخ درج تھی جس تاریخ کو ملنے آئے تھے۔ اور نظم عجیب و غریب محبت کی نظم تھی، محسوس ہوا، جیسے نہ نفرت کے لیے کوئی وجہ تھی، اسی طرح نہ اس ابال کے لیے۔ اور پھر وہ کچھ بار گھر آئے۔ حیرت سے پوچھا کہ یہ اچانک مہربانی کیوں؟ لیکن کچھ بھی پکڑ میں نہ آیا۔ یہ مانتی ہوں کہ ان کے کسی بول میں کوئی شوخی نہیں تھی، تاہم سختی ضرور تھی کہ سب لوگ گھٹیا ہیں، میں کسی سے نہ ملا کروں، یہاں تک کہ لاہور ریڈیو کے لیے میں نے جب ادب کی تنقید لکھنا ہوتی تو وہ تقاضا کرتے کہ فلاں ادیب کا نام مت لینا، فلاں کی تعریف مت کرنا، فلاں کی کتاب کا ذکر مت کرنا۔ اس ادبی واقفیت سے دم گھٹنے لگا تو میں پریشان ہو اٹھی۔ لیکن اس تلخی کو ابھی اظہار ملا ہی تھا کہ ملک کی تقسیم ہوگئی اور میں ان کی صحبت سے آزاد ہو گئی۔ پھر کچھ سال بعد سنا کہ ان کے خیال میں ہندوستان کی تقسیم اسی وجہ سے ہوئی کہ میں نے ان کی دوستی قبول نہیں کی تھی۔ اور ان کی دانست میں ہزاروں معصوم عوام کا قتل بھی اسی سبب سے ہوا۔ خیر ہندوستان کی تقسیم کا اور ہزاروں معصوم لوگوں کے قتل کا یہ میرے اوپر جو الزام تھا، اس کو کوئی ماہر نفسیات چاہے جان سکے، میں نہیں جان سکتی۔ اور دیکھنے میں آیا ہے کہ اب وہ پھر میرے خلاف بولتے تھے اور میرے خلاف نظمیں لکھتے تھے۔ یہ نفرت جیسے ایک گول دائرہ تھا جس کا آخری سرا پھر پہلے سرے کے ساتھ جوڑنا ہی تھا۔
