حرکت، تغیر اور ارتقا کی عظیم داستان
کائنات کو اگر صرف آنکھ سے دیکھا جائے تو وہ ایک خاموش، وسیع اور تقریباً ساکت منظر معلوم ہوتی ہے؛ مگر جدید فلکیات نے اس ظاہری سکون کے پردے کے پیچھے ایک ایسی ہمہ گیر حرکت دریافت کی ہے جس میں کوئی لمحہ بھی جامد نہیں۔
ہماری زمین اپنے محور پر گردش کر رہی ہے، سورج کے گرد محوِ گردش ہے، سورج خود ملکی وے کہکشاں کے مرکز کے گرد حرکت کر رہا ہے، کہکشاں مقامی کہکشانی گروہ میں اپنے مقام کے مطابق حرکت پذیر ہے، اور اس سب کے اوپر پوری کائناتی ساخت مسلسل پھیل رہی ہے۔ گویا کائنات میں ’’سکون‘‘ دراصل حرکت کی وہ صورت ہے جسے ہماری محدود حسیات فوری طور پر محسوس نہیں کر پاتیں۔
اس حرکت کا ایک نہایت لطیف مگر حیرت انگیز مظہر نیوٹرینو ہے۔ یہ برقی بار سے محروم، نہایت کم کمیت رکھنے والے بنیادی ذرات ہیں جو مادّے کے ساتھ اس قدر کم تعامل کرتے ہیں کہ کھربوں نیوٹرینو ہر سیکنڈ انسانی جسم سے گزر جاتے ہیں اور ہمیں ان کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ ناسا کے مطابق نیوٹرینو تقریباً روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہیں، ان کی تین معروف اقسام یا ’’فلیورز‘‘ ہیں اور سفر کے دوران وہ ایک قسم سے دوسری قسم میں تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہمارا جسم بظاہر ایک ٹھوس حیاتیاتی وجود ہے، لیکن ذراتی سطح پر وہ ہر لمحہ ایک ایسے کائناتی سیلاب سے گزر رہا ہے جسے انسانی حواس محسوس نہیں کر سکتے۔
سورج سے آنے والے نیوٹرینو ہمیں یہ بھی بتاتے ہیں کہ ستارے محض روشن گولے نہیں بلکہ ان کے قلب میں جاری جوہری عمل کے براہِ راست گواہ ہیں۔ سورج کے مرکز میں انتہائی بلند درجۂ حرارت اور دباؤ کے باعث ہائیڈروجن کے جوہری مرکزے باہم مل کر ہیلیم بناتے ہیں؛ اسی عمل کو جوہری امتزاج یا نیوکلیئر فیوڑن کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک اہم سائنسی تصحیح ضروری ہے: سورج میں ’’جوہری دھماکے‘‘ نہیں ہو رہے، بلکہ ایک مسلسل، متوازن اور کششِ ثقل سے قابو میں رکھا ہوا جوہری امتزاج جاری ہے۔
سورج ہر سیکنڈ تقریباً 600 ملین میٹرک ٹن ہائیڈروجن کو فیوز کرتا ہے، مگر اس تمام مادّے کا پورا وزن توانائی میں تبدیل نہیں ہوتا۔ اس عمل میں تقریباً 4 ملین ٹن کے برابر کمیت توانائی میں تبدیل ہو کر تابکاری کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ ناسا کے مطابق سورج کی تابانی توانائی تقریباً 3.8 ضرب 10 کی طاقت 26 واٹ ہے، جسے کمیت میں تبدیل کیا جائے تو تقریباً 4.4 ارب کلوگرام فی سیکنڈ، یعنی تقریباً 4 ملین ٹن فی سیکنڈ بنتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آئن اسٹائن کا مشہور تعلق \(E=mc^2\) کائناتی حقیقت بن کر سامنے آتا ہے: کمیت اور توانائی دو بالکل الگ حقیقتیں نہیں بلکہ ایک ہی طبیعی حقیقت کے دو باہم مربوط مظاہر ہیں۔
سورج کے قلب میں پیدا ہونے والی توانائی ابتدا میں گاما شعاعوں سمیت مختلف شکلوں میں موجود ہوتی ہے اور فوٹون سورج کے اندر بے شمار تعاملات سے گزرتے ہوئے باہر کی سطح تک پہنچتے ہیں؛ ناسا کے مطابق مرکزی حصے سے سورج کی مرئی سطح تک توانائی کے فوٹون کے پہنچنے میں اوسطاً لاکھوں برس لگ سکتے ہیں، جب کہ سطح سے زمین تک روشنی صرف تقریباً آٹھ منٹ میں پہنچتی ہے۔ یوں سورج کی ہر کرن اپنے اندر ستارے کے قلب کی ایک طویل طبیعی داستان لیے ہوئے ہے۔ یہی توانائی زمین کے موسمی نظام، آبی چکر، نباتاتی حیات اور بالآخر حیاتیاتی توانائی کے بیشتر بڑے سلسلوں کو متحرک کرتی ہے۔ مگر سورج کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ وہ ہمیں روشنی اور حرارت دیتا ہے؛ وہ ہمیں کائنات کے ایک بنیادی اصول کا مشاہدہ بھی کراتا ہے: ستارے مادّے کے کیمیائی ذخیروں کے محض مصرف کنندہ نہیں، بلکہ کائناتی کیمیا کے کارخانے ہیں۔
ابتدائی کائنات میں زیادہ تر ہائیڈروجن اور ہیلیم موجود تھے، مگر ستاروں کے اندر ہونے والی جوہری ترکیبی سرگرمیوں نے کاربن، نائٹروجن، آکسیجن اور متعدد دوسرے عناصر کے لیے راہ ہموار کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی موجودہ کیمیائی پیچیدگی ابتدا ہی سے مکمل حالت میں موجود نہیں تھی؛ وہ اربوں برس پر محیط طبیعی ارتقا کا نتیجہ ہے۔ کائنات کو سمجھنے کا یہی زاویہ ہمیں اس تصور تک پہنچاتا ہے کہ تبدیلی محض سطحی حرکت نہیں بلکہ مادّے کی داخلی ساخت، توانائی کی منتقلی اور پیچیدگی کے بتدریج ظہور کا نام بھی ہے۔
ایک نیوٹرینو ہمارے جسم سے گزر کر آگے نکل جاتا ہے، سورج کے مرکز میں ایک ہائیڈروجن مرکزہ دوسرے مرکزے کے ساتھ تعامل کرتا ہے، فوٹون ستارے کے اندر طویل سفر کے بعد آزاد ہوتا ہے، اور کسی دور دراز کہکشاں سے نکلنے والی روشنی اربوں سال کا سفر طے کرکے ہماری دوربین تک پہنچتی ہے۔ ہم جس ’’حال‘‘ کو دیکھتے ہیں، وہ دراصل مختلف زمانوں سے آنے والے پیغامات کا مجموعہ ہے۔ فلکیات اسی لیے صرف آسمان کا مشاہدہ نہیں بلکہ زمانے کا مطالعہ بھی ہے۔
ستاروں کی یہ کائناتی کیمیا ایک اور زیادہ ڈرامائی مرحلے میں داخل ہوتی ہے جب بڑے ستارے اپنی داخلی ایندھن کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور ان کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ایک بڑے ستارے کی زندگی کو اگر طبیعیات کی زبان میں دیکھا جائے تو وہ کششِ ثقل اور اندرونی دباؤ کے درمیان ایک مسلسل توازن ہے۔ کششِ ثقل ستارے کے مادّے کو اندر کی طرف کھینچتی ہے جبکہ جوہری عمل سے پیدا ہونے والی توانائی اور دباؤ اس اندرونی انہدام کی مزاحمت کرتے ہیں۔ جب ستارے کے قلب میں ایسے مراحل آتے ہیں جہاں مزید جوہری امتزاج توانائی پیدا کرنے کے بجائے توانائی خرچ کرنے لگتا ہے، تو کششِ ثقل بالآخر غالب آ سکتی ہے۔
تقریباً آٹھ یا اس سے زیادہ شمسی کمیت رکھنے والے ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر مرکز-انہدامی سپرنووا کا راستہ اختیار کر سکتے ہیں، جبکہ سفید بونے ستارے بھی مخصوص حالات میں، مثلاً ساتھی ستارے کے ساتھ مادّے کے تبادلے یا انضمام کے نتیجے میں، قسم اوّل اے سپرنووا کی صورت میں پھٹ سکتے ہیں۔ یہاں ’’پھٹنا‘‘ محض ایک شاعرانہ تعبیر نہیں بلکہ ایک انتہائی طاقت ور فلکیاتی واقعے کی طرف اشارہ ہے، جس میں ستارے کا بڑا حصہ بین النجمی خلا میں خارج ہو سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کائنات کا ایک ستارہ اپنی ذاتی زندگی ختم کرکے دوسری کائناتی نسلوں کے لیے خام مال فراہم کرتا ہے۔
ناسا کے مطابق ستاروں کے اندر جوہری امتزاج کاربن سے لے کر آئرن تک کے عناصر کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، جبکہ آئرن سے بھاری بہت سے عناصر کی تشکیل کے لیے ایسے انتہائی توانائی بخش حالات درکار ہوتے ہیں جو سپرنووا اور دیگر شدید فلکیاتی واقعات سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔ تاہم جدید فلکی طبیعیات میں ایک اہم باریکی بھی ہے: تمام بھاری عناصر کو صرف سپرنووا سے منسوب کرنا درست نہیں؛ نیوٹران ستاروں کے انضمام جیسے انتہائی واقعات بھی بھاری عناصر کی تخلیق میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تصحیح سے کائنات کی داستان کم نہیں ہوتی بلکہ مزید حیرت انگیز بن جاتی ہے، کیوںکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عناصر کی تخلیق ایک ہی راستے سے نہیں بلکہ متعدد طبیعی ماحول اور مختلف نیوکلیائی عملوں سے ہوئی۔
سپرنووا میں پیدا اور خارج ہونے والا مادّہ بین النجمی بادلوں میں شامل ہوتا ہے، پھر وقت کے ساتھ یہی مادّہ نئی ستاروی نسلوں، سیاروں اور پیچیدہ کیمیائی ماحول کی تشکیل میں شریک ہو سکتا ہے۔ ناسا کی وضاحت کے مطابق سپرنووا سے خارج ہونے والے عناصر بین النجمی خلا میں پھیلتے ہیں اور کہکشانی ہواؤں، کہکشاؤں کے باہمی تعامل اور دوسرے بڑے پیمانے کے طبیعی عملوں کے ذریعے مزید وسیع علاقوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس منظرنامے میں ’’ہم کس چیز سے بنے ہیں؟‘‘ کا سوال محض حیاتیات کا سوال نہیں رہتا؛ وہ کائناتی تاریخ کا سوال بن جاتا ہے۔ ہمارے جسم میں موجود کاربن، آکسیجن، کیلشیم، لوہا اور دیگر عناصر کسی ایک لمحے میں زمین پر پیدا نہیں ہوئے۔
ان کی کائناتی تاریخ ستاروں کے اندر اور ستاروی موت کے واقعات میں پھیلی ہوئی ہے۔ کیلشیم جو انسانی ہڈیوں کی ساخت میں اہم ہے، آکسیجن جو سانس کے لیے ضروری ہے، لوہا جو خون کے ہیموگلوبن میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے—ان عناصر کی کہانی زمین سے کہیں قدیم ہے۔ اس طرح انسانی وجود کو کائناتی تاریخ سے الگ کرکے دیکھنا سائنسی اعتبار سے بھی نامکمل ہے۔ ہم زمین پر پیدا ہونے والے اجسام ضرور ہیں، لیکن ہمارے جسم کا مادّی سرمایہ کائنات کے قدیم طبیعی عملوں سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔ اسی تسلسل کو اگر مزید وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو ستارے، سیارے، پانی، نامیاتی سالمات اور زندگی ایک دوسرے سے منقطع واقعات نہیں بلکہ مادّے کی طویل کائناتی تاریخ کے مختلف ابواب معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ یہاں سائنس اور فلسفے کے درمیان ایک باریک حد قائم رکھنا ضروری ہے۔
یہ کہنا سائنسی طور پر درست ہے کہ زندگی کے لیے ضروری بہت سے عناصر ستاروی عملوں سے آئے؛ لیکن یہ کہنا کہ محض عناصر کی موجودگی سے زندگی لازماً پیدا ہونی تھی، ایک اضافی فلسفیانہ دعویٰ ہوگا جسے سائنس نے ثابت نہیں کیا۔ زندگی کے ظہور کے لیے مناسب کیمیائی، ماحولیاتی اور ارتقائی حالات کی پیچیدہ ضرورت ہے۔ کائنات میں عناصر کا پیدا ہونا امکانات کی بنیاد فراہم کرتا ہے، نتیجے کی ضمانت نہیں۔ اسی طرح سپرنووا کو محض تباہی کا استعارہ سمجھنا بھی نامکمل ہے۔
ایک بڑے ستارے کی موت دوسرے نظاموں کے لیے پیدائش کا سامان بن سکتی ہے۔ ایک ستارہ ختم ہوتا ہے، اس کا مادّہ منتشر ہوتا ہے، وہ مادّہ کسی بادل میں شامل ہوتا ہے، بادل سکڑتا ہے، نئے ستارے اور سیارے بنتے ہیں، اور شاید کہیں ایسے ماحول پیدا ہوتے ہیں جہاں کیمیائی پیچیدگی زندگی کی طرف سفر شروع کرتی ہے۔ اس اعتبار سے کائنات کی تاریخ میں فنا اور تخلیق دو متضاد قوتیں نہیں بلکہ مادّے کے مسلسل تبادلۂ حالت کے دو مرحلے ہیں۔ یہاں انسانی فکر کے لیے ایک گہرا سبق بھی پوشیدہ ہے: اختتام ہمیشہ عدمِ وجود نہیں ہوتا؛ بعض اوقات اختتام کسی دوسرے آغاز کا خام مادّہ فراہم کرتا ہے۔ کائناتی پیمانے پر ستاروں کی موت اس اصول کی نہایت شان دار مثال ہے۔
لیکن کائنات کی سب سے وسیع تبدیلی کسی ایک ستارے، کہکشاں یا نیوٹرینو کی حرکت تک محدود نہیں؛ خود خلاء کے پیمانے پر تبدیلی جاری ہے۔ بیسویں صدی میں کہکشاؤں کی روشنی کے طیفی مشاہدات نے یہ انکشاف کیا کہ دور دراز کہکشاؤں کی روشنی عموماً سرخ جانب منتقل دکھائی دیتی ہے۔ اسے کائناتی سرخ منتقلی یا کاسمولوجیکل ریڈ شفٹ کہا جاتا ہے۔ مشاہدات سے معلوم ہوا کہ عمومی طور پر جتنی دور کہکشاں ہو، اس کی روشنی میں سرخ منتقلی اتنی زیادہ ہوتی ہے، جس سے کائنات کے پھیلاؤ کا مضبوط ثبوت ملتا ہے۔ یہاں عام ذہنی تصور ایک بنیادی تصحیح کا تقاضا کرتا ہے: ایسا نہیں کہ کہکشائیں کسی خالی کمرے میں موجود ایک مرکزی مقام سے دھماکے کے نتیجے میں ہر سمت بھاگ رہی ہیں۔
جدید کونیاتی تصور میں زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ خود خلاء کا پیمانہ پھیل رہا ہے، جس کے باعث بڑے پیمانے پر کہکشاؤں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ناسا واضح کرتا ہے کہ کائنات کے پھیلاؤ کا کوئی ایک مرکزی نقطۂ آغاز ایسا نہیں جس سے تمام کہکشائیں دور جا رہی ہوں؛ پھیلاؤ ہر جگہ سے ہر جگہ کے باہمی فاصلے میں اضافے کی صورت رکھتا ہے۔ اس فرق کو سمجھنا کائنات کے تصور کو بنیادی طور پر بدل دیتا ہے۔ اگر غبارے کی سطح پر نقطے بنا کر غبارہ پھلایا جائے تو نقطے کسی ایک مرکزی نقطے سے سطح پر دوڑتے ہوئے نہیں دکھائی دیتے؛ بلکہ سطح خود پھیلتی ہے اور تمام نقطوں کے درمیان فاصلے بڑھتے ہیں۔ اگرچہ یہ مثال کائنات کی مکمل طبیعی تصویر نہیں، مگر کائناتی پھیلاؤ کے بنیادی تصور کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کائنات کا پھیلاؤ صرف جاری نہیں بلکہ مشاہداتی شواہد کے مطابق اس میں تیزی بھی آئی ہے۔
ناسا کے مطابق ابتدائی دور میں کششِ ثقل نے پھیلاؤ کو سست کیا، لیکن تقریباً پانچ ارب سال پہلے کائناتی پھیلاؤ کے دوبارہ تیز ہونے کے شواہد سامنے آئے؛ اس تیز رفتاری کو موجودہ کونیاتی نمونے میں ’’تاریک توانائی‘‘ سے جوڑا جاتا ہے، اگرچہ تاریک توانائی کی بنیادی ماہیت ابھی پوری طرح معلوم نہیں۔ یہی مقام جدید کونیات کی سب سے بڑی علمی حیرتوں میں سے ایک ہے: سائنس نے یہ دریافت تو کر لیا کہ پھیلاؤ تیز ہو رہا ہے، مگر ابھی یہ بنیادی سوال پوری طرح حل نہیں ہوا کہ اس تیزی کی اصل طبیعی ماہیت کیا ہے۔ کائنات کے تقریباً ہر بڑے سوال کے ساتھ ایک نیا سوال جنم لیتا ہے، اور یہی سائنسی علم کی خوب صورتی ہے۔ مزید یہ کہ کائنات کی توسیع کے پیمانے کو ناپنے کے مختلف طریقوں سے ہبل مستقل کی قدر کے بارے میں ایک معروف اختلاف بھی موجود ہے، جسے عموماً ’’ہبل ٹینشن‘‘ کہا جاتا ہے۔
ابتدائی کائنات کے مشاہدات اور موجودہ کائنات میں فاصلے ناپنے کے بعض طریقے ایک جیسی قدر نہیں دیتے؛ اس فرق نے طبیعیات دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ شاید موجودہ کونیاتی نمونے میں کوئی اہم طبیعی حقیقت ابھی ہماری گرفت سے باہر ہے۔ یوں کائنات کی تحقیق ہمیں ایک دلچسپ دوہری حقیقت سے دوچار کرتی ہے: ہم کائنات کے بارے میں پہلے سے کہیں زیادہ جانتے ہیں، لیکن اسی علم نے ہمیں اپنی لاعلمی کی وسعت بھی زیادہ واضح کرکے دکھا دی ہے۔ نیوٹرینو ہمیں بتاتے ہیں کہ مادّہ ہمارے جسم سے بے خبری میں گزر سکتا ہے؛ سورج ہمیں دکھاتا ہے کہ کمیت توانائی میں تبدیل ہو سکتی ہے؛ سپرنووا بتاتے ہیں کہ ستاروں کی موت نئے مادّی نظاموں کی بنیاد بن سکتی ہے؛ اور کائناتی پھیلاؤ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خود خلاء بھی جامد پس منظر نہیں۔
ان سب کو ایک ہی فکری دھاگے میں پرویا جائے تو کائنات ایک ایسے عظیم نظام کے طور پر سامنے آتی ہے جس میں حرکت، تبدیلی، تشکیل، تحلیل اور دوبارہ تشکیل مسلسل جاری ہیں۔ انسانی زندگی اس وسیع کائناتی منظرنامے میں زمانی اعتبار سے ایک نہایت مختصر وقفہ ہے، مگر شعور کی ایک غیر معمولی صلاحیت اسے حاصل ہے: انسان اس کائنات کو صرف دیکھ نہیں سکتا بلکہ اس کے قوانین کو سمجھنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے۔ وہ سورج کے قلب میں ہونے والے فیوژن کی مساوات لکھ سکتا ہے، نیوٹرینو کا سراغ لگا سکتا ہے، سپرنووا کے طیف سے عناصر کی شناخت کر سکتا ہے، اربوں نوری سال دور کہکشاؤں کی سرخ منتقلی ناپ سکتا ہے اور کائنات کے پھیلاؤ کی شرح کے بارے میں نظریات قائم کر سکتا ہے۔
یہ صلاحیت خود انسانی وجود کی ایک گہری فکری حقیقت سامنے لاتی ہے کہ کائنات میں ہمارا مقام صرف حجم سے متعین نہیں ہوتا؛ علم کی قابلیت بھی اس مقام کا ایک حصہ ہے۔ ہماری زمین کائناتی پیمانے پر ایک معمولی سی دنیا ہے، سورج ایک عام ستارہ ہے، ملکی وے اربوں کہکشاؤں میں ایک کہکشاں ہے، اور انسانی عمر کائناتی وقت کے مقابلے میں تقریباً ایک پل کی مانند ہے؛ لیکن اسی مختصر وقفے میں انسانی عقل نے اربوں برس پر محیط کائناتی تاریخ کے آثار پڑھ لیے ہیں۔
شاید یہی جدید سائنس کا سب سے بڑا فکری سبق ہے کہ کائنات کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کی ظاہری خاموشی سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ اس خاموشی کے اندر نیوٹرینو کی بے آواز آمدورفت، ستاروں کے قلب میں نیوکلیائی امتزاج، سپرنووا کی عظیم کیمیائی بارش، روشنی کے اربوں سالہ سفر، کہکشاؤں کی باہمی دوری اور خلاء کے مسلسل پھیلاؤ کی ایک ایسی داستان جاری ہے جس میں ’’ساکن‘‘ کچھ بھی نہیں۔ کائنات ایک مکمل شدہ کتاب نہیں بلکہ ہر لمحہ کھلتا ہوا ایک عظیم طبیعی متن ہے؛ ہم اس کے صرف چند صفحات پڑھ سکے ہیں، مگر ہر نیا مشاہدہ اس بات کی خبر دیتا ہے کہ باقی کتاب پہلے سے کہیں زیادہ وسیع، پیچیدہ اور حیرت انگیز ہے۔
