• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 4:07 شام
  • پاکستان

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

ممبئی(19 ستمبر 2026): بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی کے دوسرے سال کے طالبعلم نے مبینہ طور پر موبائل فون کے ذریعے امتحان میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے خودکشی کر لی۔

ادارے کے مطابق انرجی سائنس اینڈ انجینئرنگ کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طالبعلم نے امتحان کے دوران سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے امتحانی پرچہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کیا تھا۔حکام کا کہنا ہے کہ طالبعلم کے خلاف کوئی رسمی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

واقعے کے بعد کورس انسٹرکٹر اور شعبے کے سربراہ نے طالبعلم سے تفصیلی بات چیت کی، اسے تسلی دی اور یقین دلایا کہ اس چھوٹے سے واقعے سے اس کے تعلیمی مستقبل پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ اس تسلی کے بعد طالبعلم اپنے ہاسٹل کے کمرے میں واپس چلا گیا، تاہم شام کو اسے کمرے میں مردہ حالت میں پایا گیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی آئی ٹی کے پوائی کیمپس میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران خودکشی کا یہ تیسرا واقعہ ہے، جس کے بعد طلبہ میں شدید غم و غصہ پھیل گیا اور خبر سامنے آتے ہی بڑی تعداد میں طلبہ نے کیمپس کے باہر احتجاج شروع کر دیا۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا الزام ہے کہ ادارہ اس افسوسناک واقعے سے متعلق مکمل حقائق چھپا رہا ہے۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ نقل کے الزام کا سامنا کرنے والے طالبعلم کو مبینہ طور پر ایک سال کی معطلی کی دھمکی دی گئی تھی، جس سے اس کی 4 سالہ ڈگری کا دورانیہ بڑھ کر 5 سال یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا تھا، اور معطلی کی صورت میں اسے ہاسٹل خالی کر کے کیمپس سے باہر بھی رہنا پڑتا۔

طلبہ کا ماننا ہے کہ اسی شدید ذہنی دباؤ اور تادیبی کارروائی کے خوف نے طالبعلم کو یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا، تاہم انتظامیہ کے مؤقف کے برعکس طلبہ کے اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے