• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 3:28 صبح
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

ناروے : یورپ میں میٹا اور رے بن کے اسمارٹ گلاسز کے ذریعے خواتین کی خفیہ ویڈیو بنانے اور نجی زندگی میں مداخلت کے واقعات پر شدید ردعمل اور پابندی کے مطالبات سامنے آرہے ہیں۔

سال 2025 میں متعارف کرائے گئے ان اسمارٹ گلاسز کے غلط استعمال کے سبب ان پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے، برطانیہ اور آئرلینڈ میں ہزاروں افراد نے پٹیشن پر دستخط کردیے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپ بھر میں کیمرا اور مصنوعی ذہانت سے لیس اسمارٹ گلاسز کے ممکنہ غلط استعمال اور شہریوں کی پرائیویسی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث ان آلات کے خلاف ضابطہ کاری کے مطالبات میں تیزی آگئی ہے۔

خواتین اور لڑکیوں کی مبینہ طور پر خفیہ ویڈیوز بنانے کے واقعات کے بعد برطانیہ سمیت مختلف یورپی ممالک میں اسمارٹ گلاسز کے استعمال اور ان کی نگرانی سے متعلق بحث شدت اختیار کرگئی ہے۔

اسکولوں میں اسمارٹ گلاسز پر پابندی

اسمارٹ گلاسز کے بڑھتے ہوئے غلط استعمال پر ردعمل دیتے ہوئے ناروے انتظامیہ نے اسکولوں میں ان آلات کو لانے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ حکومت چہرے کی شناخت کی خصوصیات کے استعمال پر مزید وسیع پابندیوں کے امکان کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

اسمارٹ گلاسز عام چشموں کی طرح دکھائی دیتے ہیں لیکن ان میں کیمرا، ویڈیو ریکارڈنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مختلف خصوصیات موجود ہوتی ہیں، یہی ٹیکنالوجی اب پرائیویسی اور رضامندی سے متعلق نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

برطانیہ میں پابندی کا مطالبہ

برطانیہ اور آئرلینڈ میں ’اسٹاپ اسمارٹ گلاسز‘ کے نام سے شروع کی گئی پٹیشن پر 9 ہزار 100 سے زائد افراد دستخط کرچکے ہیں۔ پٹیشن کے منتظمین نے بنیادی طور پر نگرانی، خفیہ ریکارڈنگ اور لوگوں کی رضامندی کے بغیر ان کی ویڈیوز بنائے جانے کے خدشات کو بنیاد بنایا ہے۔

ایک واقعے میں 17 سالہ لڑکی نے نیوز چینل کو بتایا کہ ایک شخص نے اس سے گفتگو کے دوران اسمارٹ گلاسز کے ذریعے مبینہ طور پر اس کی ویڈیو خفیہ طور پر ریکارڈ کی۔

خواتین اور لڑکیوں کی خفیہ ویڈیوز بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد برطانیہ میں اسمارٹ گلاسز کی فروخت پر پابندی کے مطالبات بھی زور پکڑ گئے ہیں۔

اسمارٹ گلاسز کی مقبولیت

رپورٹ کے مطابق اسمارٹ گلاسز کی مقبولیت میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے، میٹا نے معروف چشمہ ساز کمپنی ایسیلور لکسوٹیکا کے ساتھ مل کر رے بین برانڈ کے اسمارٹ گلاسز تیار کیے ہیں، جن کے ذریعے صارفین تصاویر بنانے، ویڈیو ریکارڈ کرنے اور اے آئی اسسٹنٹ سے بات چیت کرنے سمیت مختلف کام انجام دے سکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق میٹا نے 2025 میں ان اسمارٹ گلاسز کے تقریباً 70 لاکھ جوڑے فروخت کیے تھے، جبکہ 2023 اور 2024 کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 20 لاکھ جوڑے فروخت ہوئے تھے، اس طرح گزشتہ سال اس ٹیکنالوجی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

گوگل اور اسنیپ سمیت دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی مصنوعی ذہانت سے لیس اسی نوعیت کے آلات تیار کررہی ہیں، جس سے مستقبل میں اسمارٹ گلاسز کے عام استعمال میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

چہرے کی شناخت نے تشویش بڑھادی

اسمارٹ گلاسز سے متعلق خدشات صرف خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ تک محدود نہیں۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی ہے کہ میٹا اپنے اسمارٹ گلاسز کے لیے چہرے کی شناخت جیسی صلاحیتیں تیار کررہی ہے۔ اس امکان نے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا اور پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق بحث کو مزید شدت دی ہے۔

یورپی یونین کی قانون ساز ویرونیکا سیفرووا اوستری ہونووا نے بتایا کہ انہوں نے یورپی کمیشن سے اسمارٹ گلاسز اور یورپی ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کے درمیان مطابقت کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے، تاہم انہیں تاحال جواب موصول نہیں ہوا۔

دوسری جانب یورپی ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ اسمارٹ گلاسز کی سماجی قبولیت کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کررہا ہے، جس کا مقصد مستقبل میں یورپی یونین کی جانب سے ممکنہ اقدامات کے لیے رہنمائی فراہم کرنا ہے۔

’بین رے‘ مہم شروع

اسمارٹ گلاسز کے خلاف عوامی سطح پر بھی مہمات سامنے آرہی ہیں۔ سوئیڈش ڈیزائنر میٹیوش پوزار نے اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد ’بین رے‘ مہم شروع کی، جس کے تحت سائن بورڈز اور اسٹیکرز تقسیم کیے جارہے ہیں۔

مہم کا مقصد اسمارٹ گلاسز کے باعث پیدا ہونے والے پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا پر کنٹرول کے مسائل کے بارے میں عوامی بحث کو فروغ دینا ہے۔

میٹا کا مؤقف

دوسری جانب میٹا نے بتایا ہے کہ اس نے اسمارٹ گلاسز میں موجود ریکارڈنگ انڈیکیٹر لائٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

کمپنی کے مطابق ان اقدامات کا مقصد تیسرے فریق کو ریکارڈنگ کی نشاندہی کرنے والی لائٹ کو غیر فعال کرنے کے لیے خدمات فراہم کرنے سے روکنا ہے۔

اسمارٹ گلاسز کی ٹیکنالوجی جہاں مصنوعی ذہانت اور روزمرہ زندگی کے امتزاج کی نئی راہیں کھول رہی ہے، وہیں خفیہ نگرانی، رضامندی، چہرے کی شناخت اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ جیسے سوالات بھی تیزی سے اہم ہوتے جارہے ہیں۔

یورپی ممالک میں حالیہ ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے استعمال کے لیے واضح قواعد و ضوابط وضع کرنے کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے