• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 10:51 صبح
  • پاکستان

5 اکتوبر محض ایک رسمی دن نہیں، بلکہ اس کے پیچھے طویل تاریخی جدوجہد اور بین الاقوامی تعلیمی سوچ موجود ہے

دنیا بھر میں اساتذہ کے مقام، حقوق اور مسائل پر توجہ دلانے کے لیے ہر سال 5 اکتوبر کو عالمی دن منایا جاتا ہے۔

اساتذہ کا عالمی دن محض ایک رسمی دن نہیں ہے، بلکہ اس دن کے پیچھے ایک طویل تاریخی جدوجہد اور بین الاقوامی تعلیمی سوچ موجود ہے۔

اس اہم عالمی دن کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ہمیں 1966ء کی طرف واپس جانا ہوگا۔ 5 اکتوبر 1966ء کو پیرس میں ایک خصوصی بین الحکومتی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں عالمی ادارۂ محنت (ILO) اور یونیسکو (UNESCO) نے اساتذہ کی حیثیت سے متعلق ایک اہم سفارش منظور کی۔

اسے ’’اساتذہ کی حیثیت سے متعلق ILO/UNESCO سفارش‘‘ کہا جاتا ہے، جس میں اساتذہ کے حقوق اور ذمہ داریوں، ابتدائی تربیت اور مزید تعلیم، بھرتی، ملازمت اور تدریس و تعلیمی ماحول کے معیار سے متعلق اصول وضع کیے گئے۔

اس کا مقصد یہ تھا کہ دنیا بھر میں اساتذہ کے پیشے کو باقاعدہ حیثیت، مناسب شرائط اور ضروری تحفظ حاصل ہو۔یہ سفارش اس اعتبار سے بھی اہم تھی کہ اس نے بین الاقوامی سطح پر اساتذہ کے پیشے کے مختلف پہلوؤں کو ایک جامع فریم ورک میں دیکھا۔ استاد کی تیاری، ملازمت، کام کے حالات، پیشہ ورانہ ترقی، حقوق اور ذمہ داریوں کو تعلیمی معیار سے جوڑا گیا۔

اس سوچ کے پیچھے بنیادی تصور یہ تھا کہ اگر معاشرہ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دینا چاہتا ہے تو اسے استاد کے پیشے کو بھی مناسب عزت، سہولت اور تحفظ دینا ہوگا۔

یہاں ایک اہم بات واضح کرنا ضروری ہے کہ 5 اکتوبر 1966ء کو ’’اساتذہ کا عالمی دن‘‘ شروع نہیں ہوا تھا بلکہ اس دن اساتذہ کی حیثیت سے متعلق وہ تاریخی بین الاقوامی سفارش منظور ہوئی جسے آج بھی اساتذہ کے پیشے کے لیے ایک بنیادی دستاویز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1994ء سے ہر سال 5 اکتوبر کو اساتذہ کا عالمی دن منایا جانے لگا۔

یوں 1966ء اور 1994ء کے درمیان 28 سال کا فرق دراصل کسی ایسے عالمی دن کے خاتمے یا تعطل کا نہیں بلکہ دو الگ تاریخی مراحل کا فرق ہے۔ 1966ء میں اساتذہ کے حقوق اور پیشہ ورانہ حیثیت کے لیے عالمی معیار قائم کیا گیا، جبکہ 1994ء سے 5 اکتوبر کو باقاعدہ سالانہ عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔

یہ فرق سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بعض اوقات 1966ء اور 1994ء کی تاریخیں ایک ساتھ سامنے آنے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید 1966ء میں عالمی یومِ اساتذہ شروع ہوا اور پھر 28 سال تک اس کا سلسلہ رک گیا، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔

1966ء ایک بنیادی بین الاقوامی سفارش کا سال تھا جبکہ 1994ء سے اس سفارش کی یاد اور اساتذہ کے عالمی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے 5 اکتوبر کو باقاعدہ عالمی دن کے طور پر منایا جانے لگا۔ اس طرح دونوں تاریخیں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کے درمیان کوئی تضاد نہیں۔

اساتذہ کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک اور اہم پیش رفت 1997ء میں ہوئی، جب اعلیٰ تعلیم سے وابستہ تدریسی عملے کی حیثیت سے متعلق ایک الگ سفارش منظور کی گئی۔ اس کا مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس اور تحقیق سے وابستہ افراد کے حقوق، ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ حیثیت کو بھی واضح کرنا تھا۔

اس طرح 1966ء کی سفارش نے اسکول اور عمومی تدریسی پیشے کے لیے جو بنیاد فراہم کی تھی، اسے اعلیٰ تعلیم کے شعبے تک بھی وسعت دی گئی۔

اساتذہ کا عالمی دن دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف انداز سے منایا جاتا ہے، لیکن اس کا بنیادی مقصد ایک ہی ہے کہ استاد کے کردار کو تسلیم کیا جائے اور یہ سوچا جائے کہ اساتذہ کو اپنی ذمہ داریاں بہتر طور پر ادا کرنے کے لیے کس قسم کی سہولتوں اور معاونت کی ضرورت ہے۔

یہ دن اس بات پر بھی غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ تعلیم کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے ساتھ استاد کے پیشے کو کس طرح مضبوط بنایا جائے۔

2026ء میں اساتذہ کا عالمی دن اس اعتبار سے بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے کہ اس سال 1966ء کی تاریخی ILO/UNESCO سفارش کے 60 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ اس موقع کے لیے موضوع مقرر کیا گیا ہے: ’’Standing with teachers: 60 years of protecting the profession, advancing its status and shaping our futures‘‘ یعنی ’’اساتذہ کے ساتھ کھڑے ہونا: پیشے کے تحفظ، اس کے مقام کو بلند کرنے اور اپنے مستقبل کی تشکیل کے 60 سال‘‘۔

یہ موضوع اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ گزشتہ 6 دہائیوں میں دنیا کے تعلیمی نظام میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن استاد کی اہمیت آج بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اس موضوع میں صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کا پیغام بھی موجود ہے۔ دنیا بھر میں استاد کے پیشے کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، شمولیتی تعلیم، ہجرت اور نقل مکانی نے تعلیم کے ماحول کو بدل دیا ہے۔

ان تبدیلیوں کے باعث استاد کے پیشہ ورانہ مقام، کام کے حالات، اختیار اور پالیسی سازی میں آواز کے ساتھ ساتھ تنخواہوں، کام کے بوجھ اور کام کرنے کے ماحول جیسے معاملات بھی اہم ہو گئے ہیں۔ UNESCO نے 2026ء کے عالمی دن کے پس منظر میں ان چیلنجز کو نمایاں کیا ہے۔

2026ء کی عالمی تقریب آج (5 اکتوبر کو) پیرس میں یونیسکو کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوگی۔ اس تقریب کو یونیسکو، عالمی ادارۂ محنت، یونیسف اور ایجوکیشن انٹرنیشنل مشترکہ طور پر منعقد کر رہے ہیں۔ تقریب میں اساتذہ کے پیشے کے تحفظ اور اس کے مقام کو بلند کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی مباحث ہوں گے۔

UNESCO کے پروگرام کے مطابق اس موقع پر اساتذہ اور دیگر شرکا کے لیے باہمی گفتگو اور خیالات کے اظہار کے مواقع بھی ہوں گے۔ تقریب میں اساتذہ کے کوئر کی پیشکش بھی شامل ہے۔ نویں UNESCO-Hamdan Prize for Teacher Development کی ایوارڈ تقریب بھی اسی عالمی جشن کا حصہ ہوگی۔ تقریب میں عربی، انگریزی، فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں میں بیک وقت ترجمانی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی اس عالمی تقریب کے اہم شرکا میں شامل ہوں گے۔ وہ 15 نومبر 2025ء کو UNESCO کے ڈائریکٹر جنرل کا منصب سنبھال چکے ہیں۔ وہ UNESCO کے 12ویں ڈائریکٹر جنرل اور کسی عرب ملک سے تعلق رکھنے والے پہلے شخص ہیں جو اس منصب پر فائز ہوئے۔ خالد العنانی مصر کے ماہرِ مصریات اور Helwan University میں مصرّیات کے پروفیسر ہیں۔ وہ مصر کے وزیرِ آثارِ قدیمہ اور بعد ازاں وزیرِ سیاحت و آثارِ قدیمہ بھی رہ چکے ہیں۔

UNESCO-Hamdan Prize for Teacher Development بھی اس تقریب کی اہم سرگرمیوں میں شامل ہے۔ 2026ء میں اس انعام کے نویں ایڈیشن کے فاتحین کا اعلان 5 اکتوبر کو پیرس میں ہونے والی تقریب کے دوران کیا جائے گا۔

UNESCO کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں سے 10 منصوبے اس ایوارڈ کے فائنلسٹ منتخب ہوئے ہیں، جو اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف طریقوں پر کام کر رہے ہیں۔ 3 فاتحین کا اعلان عالمی تقریب کے دوران کیا جائے گا۔

یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی علامت ہیں کہ دنیا اساتذہ کے کردار کو صرف کلاس روم تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ انہیں معاشروں کے مستقبل کی تشکیل میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ 2026ء کا موضوع بھی اسی سوچ کو آگے بڑھاتا ہے کہ استاد کے پیشے کو تحفظ، عزت، مناسب پیشہ ورانہ ماحول اور فیصلہ سازی میں مؤثر آواز دی جائے۔

آج دنیا ایک ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، ہجرت، نقل مکانی اور جامع تعلیم جیسے نئے چیلنجز تعلیمی نظام کو متاثر کر رہے ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، لیکن اس کے ساتھ استاد کی ذمہ داری بھی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اب استاد کا کام صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کو معلومات کی درست اور غلط شکل میں فرق کرنا، تحقیق کرنا، سوال اٹھانا اور ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کرنا سکھانا بھی ہے۔

دنیا میں تعلیمی تبدیلیوں کے باوجود استاد کا انسانی کردار اپنی جگہ قائم ہے۔ ایک مشین معلومات فراہم کر سکتی ہے، مصنوعی ذہانت سوال کا جواب دے سکتی ہے، لیکن طالب علم کی شخصیت کو سمجھنا، اس کی صلاحیتوں کو پہچاننا، اس کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے اخلاقی اقدار سے جوڑنا استاد ہی کا بنیادی کردار ہے۔

اسی لیے جدید ٹیکنالوجی استاد کی جگہ لینے کے بجائے استاد کے لیے ایک نیا ذریعہ اور نیا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج استاد کے لیے صرف اپنے مضمون پر عبور کافی نہیں رہا۔ اسے نئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ذرائع، طلبہ کی بدلتی ہوئی نفسیات اور جدید تدریسی طریقوں سے بھی واقف ہونا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی ادارے استاد کو یہ نئی مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع فراہم کریں۔

اگر استاد سے نئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی توقع کی جائے تو اسے مناسب تربیت، آلات اور وقت بھی دینا ہوگا۔

اگر استاد کو مناسب تربیت، تدریسی وسائل، بہتر کام کا ماحول، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور معاشی تحفظ حاصل ہوگا تو وہ اپنی ذمہ داریاں زیادہ مؤثر انداز میں ادا کر سکے گا۔ اس کے برعکس اگر استاد مسلسل مسائل، غیر ضروری اضافی ذمہ داریوں اور محدود وسائل کا سامنا کرے تو اس کے اثرات پورے تعلیمی نظام پر پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان میں تعلیم کا مسئلہ بھی بہت بڑا ہے۔ یونیسف کے مطابق ملک میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.1 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ سندھ میں یہ تعداد تقریباً 7.4 ملین ہے۔

یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی ضروریات اور مسائل پر بھی سنجیدگی سے توجہ دی جائے۔ صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ ان اسکولوں میں قابل، تربیت یافتہ اور بااختیار اساتذہ کی موجودگی بھی ضروری ہے۔

پاکستانی اساتذہ کو مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ بعض علاقوں میں تدریسی سہولتوں اور وسائل کی کمی ہے، بعض جگہ اساتذہ پر تدریس کے علاوہ اضافی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ پیشہ ورانہ تربیت کے مواقع، جدید تدریسی طریقوں سے واقفیت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال، طلبہ کی بدلتی نفسیات کو سمجھنا اور تعلیمی ماحول میں مسلسل تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا بھی اہم چیلنجز ہیں۔ اس کے ساتھ تعلیم کے لیے مناسب مالی وسائل کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں استاد کے مسائل کو صرف تنخواہ یا ملازمت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ایک استاد کو کلاس روم میں مناسب تعداد میں طلبہ، ضروری تدریسی مواد، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کے ساتھ ساتھ ایسا ماحول بھی درکار ہوتا ہے جہاں وہ اپنے پیشے پر توجہ دے سکے۔

اگر استاد کو مسلسل غیر تدریسی کاموں میں مصروف رکھا جائے تو اس کا براہِ راست اثر تدریس کے معیار پر پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح دور دراز اور کم سہولت والے علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کے مسائل بھی خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔

اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت بھی تعلیم کے معیار کا بنیادی حصہ ہے۔ دنیا میں تدریسی طریقے مسلسل تبدیل ہو رہے ہیں۔ طلبہ کی ضروریات بدل رہی ہیں اور معلومات کے ذرائع میں بھی بہت وسعت آ چکی ہے۔ اس لیے استاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تعلیم اور تربیت کا سلسلہ ملازمت شروع ہونے کے بعد بھی جاری رکھے۔ پیشہ ورانہ ترقی دراصل استاد کی کمزوری نہیں بلکہ ایک مضبوط تعلیمی نظام کی ضرورت ہے۔

پاکستانی معاشرے میں استاد کو روایتی طور پر عزت اور احترام کا مقام حاصل رہا ہے۔ ’’استاد‘‘ کا لفظ ہی علم، تربیت اور رہنمائی کی علامت سمجھا جاتا ہے، تاہم موجودہ دور میں استاد کے احترام کو صرف الفاظ اور روایتی تصورات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کے ذریعے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

استاد کو بہتر کام کا ماحول، جدید تربیت، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور معاشی تحفظ فراہم کرنا اسی عملی احترام کا حصہ ہے۔

استاد کا مقام صرف اس لیے بلند نہیں کہ وہ کتاب پڑھاتا ہے بلکہ اس لیے بھی ہے کہ وہ معاشرے کے مستقبل کے انسان تیار کرتا ہے۔ ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، صحافی، وکیل، فوجی افسر، منتظم، کاروباری شخص اور مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کسی نہ کسی مرحلے پر استاد سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ یوں معاشرے کے تقریباً ہر اہم شعبے کے پیچھے استاد کی محنت موجود ہوتی ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر کسی ملک میں تعلیم کے حقیقی مقام کو سمجھنا مشکل ہے۔

آج جب دنیا مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں داخل ہو رہی ہے، استاد کی اہمیت کم ہونے کے بجائے ایک نئے انداز میں سامنے آ رہی ہے۔ طالب علم کو صرف معلومات کی ضرورت نہیں بلکہ اسے صحیح سمت، اخلاقی تربیت، تنقیدی سوچ اور انسانی اقدار کی بھی ضرورت ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں استاد کا کردار بنیادی رہتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا کردار شاید پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو جائے، کیونکہ معلومات کی کثرت کے زمانے میں اصل مسئلہ معلومات حاصل کرنا نہیں بلکہ درست معلومات کا انتخاب، اس کی جانچ اور اسے مناسب مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے۔ استاد طلبہ کو یہ سمجھانے میں مدد دے سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کو علم اور تحقیق کا ذریعہ کیسے بنایا جائے اور اس کے غلط یا غیر ذمہ دارانہ استعمال سے کیسے بچا جائے۔

اساتذہ کا عالمی دن صرف پھول پیش کرنے یا چند تقریبات منعقد کرنے کا دن نہیں ہونا چاہیے۔ یہ دن حکومتوں، تعلیمی اداروں، والدین، طلبہ اور پورے معاشرے کو یہ سوچنے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ استاد کو وہ مقام، وسائل اور سہولتیں کس طرح دی جائیں جن کا وہ مستحق ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی نظام کی بنیاد مضبوط استاد پر قائم ہوتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ استاد کے پیشے کو محض ایک ملازمت سمجھنے کے بجائے ایک اہم قومی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جائے۔

استاد کو عزت دینے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے اپنے فرائض بہتر طور پر انجام دینے کے لیے ضروری وسائل، تربیت، پیشہ ورانہ آزادی، مناسب کام کا ماحول اور معاشی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جب استاد مطمئن اور بااختیار ہوگا تو وہ اپنے طلبہ کی بہتر رہنمائی کر سکے گا۔

2026ء میں اساتذہ کا عالمی دن 1966ء کی تاریخی سفارش کے 60 سال مکمل ہونے کی یاد بھی ہے اور مستقبل کے لیے ایک پیغام بھی۔ یہ پیغام واضح ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے استاد کے پیشے کا تحفظ، اس کے مقام میں اضافہ اور اس کے مسائل کا حل ضروری ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے