• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 11:18 شام
  • پاکستان

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!

دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!

وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں ٹیکس آمدن پر بریفنگ دی گئی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جس میں تکنیکی مذاکرات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ خصوصی سیشن ہوئے، انہیں 30 جون 2026 تک ٹیکس آمدن پر بریفنگ دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے 30جون 2026 تک 13 ہزار 10 ارب روپے ٹیکس جمع کیا ہے، گزشتہ مالی سال کے اختتام پر بجٹ خسارہ معیشت کا 2.9 فیصد رہا ہے، پرائمری سرپلس 3634 ارب روپے رہا جو ہدف کے مطابق ہے۔

30جون 2026 تک نان ٹیکس آمدن 5554 ارب روپے رہی ہے، جون 2026 تک پٹرولیم لیوی ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ حاصل ہوئی، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کا ہدف 1468 ارب روپے تھا، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی 1567 ارب روپے جمع ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ساتھ بھی خصوصی سیشن ہوا، سرکاری افسران کے اثاثوں اور انکم ٹیکس گوشواروں سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی ہے، آئی ایم ایف کا گریڈ 17 سے 22 تک افسران کے بینک اکاؤنٹس تک ایف بی آر رسائی کامطالبہ کیا ہے۔

علاوہ ازیں عوامی عہدیداروں کے بینک اکاؤنٹس تک ایف بی آر رسائی کا مطالبہ بھی سامنے آگیا ہے، انسداد منی لانڈرنگ، ایف ایم یو، اسٹیٹ بینک کو بینک اکاؤنٹس تفصیلات تک رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے