• ستمبر 28, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 28, 2026 11:48 شام
  • پاکستان

ایران حقیقی سفارت کاری کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے، عباس عراقچی

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ایرانی قیادت آج امریکا سے مذاکرات کے ثالثی ممالک کے نمائندوں سے اہم ملاقات کریں گے۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا مذاکرات کے ثالثوں سے ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ امریکا کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ بحال کرنے کی کوششوں پر بات کریں گے۔

ان مذاکرات میں ایران کی جانب سے پیش کیے گئے سات روزہ منصوبے میں ممکنہ ترامیم پر غور کیا جائے گا جس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ بندی کی بحالی کی تجاویز شامل ہیں۔

نیویارک میں اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار نبھانے والے پاکستان اور قطر کے اعلیی حکام بھی موجود ہیں جن سے ایرانی وزیر خارجہ کی ملاقات کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

علاوہ ازین قطری ثالث بھی نیویارک میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے جس کے بعد ان کی امریکی حکام سے بھی الگ بات چیت متوقع ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ وہ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان جنگ کو فروغ دینے کے بجائے امن کی کوشش کے لیے نیویارک گئے تھے۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران حقیقی سفارت کاری کے لیے تیار ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا راستہ اختیار کرنا چاہتا ہے تاہم ایران کسی بھی جارحیت کے سامنے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

وزیر خارجہ نے عباس عراقچی نے ایک روز قبل کہا تھا کہ ایران حقیقی سفارت کاری کے لیے تیار ہے تاہم امریکا کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں بھرپور مقابلہ کرے گا چاہے جنگ انتہائی تباہ کن حد تک کیوں نہ پہنچ جائے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران سفارتی حل کی کوشش جاری رکھے گا لیکن اگر امریکا کے کسی نئے حملے سے صورتحال انتہائی تباہ کن جنگ کی طرف بھی چلی گئی تب بھی ایران اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے