• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 4:13 شام
  • پاکستان

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

ماسکو: یوکرین سے جاری جنگ کے دوران روسی صدر ولایمیر پیوٹن نے فوج کی تعداد میں بڑا اضافہ کر دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر پیوٹن نے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت روس کے فوجی یونٹس کی تعداد 24 لاکھ 41 ہزار 630 کردی جائے گی۔ اس میں 15 لاکھ 50 ہزار 500 فوجی اہلکار ہوں گے۔

رپورٹس کے مطابق 27 جولائی کو جو حکمنامہ جاری کیا گیا تھا اس میں فوجیوں کی تعداد 15 لاکھ 35 ہزار مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح موجودہ تعداد میں ساڑھے 15 ہزار فوجیوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا ہے کہ فرانس کو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی ہائبرڈ حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیال کے لیے پیرس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد میکرون نے صحافیوں کو بتایا کہ یورپ اور فرانس کو درپیش خطرات میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

خاص طور پر روسی ہائبرڈ خطرے میں اضافہ ہوا ہے۔ فرانسیسی صدر نے یہ بھی اعلان کیا کہ متعدد ذرائع سے کیے جانے والے روسی حملے یورپیوں کی طرف سے بغیر کسی جواب کے نہیں رہیں گے۔

چین دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے، چینی صدر

ان کا ماننا تھا کہ اگر ماسکو اس روش پر قائم رہا تو وہ ایک سنگین غلطی کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ہمیں ڈرانا اور یوکرینیوں کی حمایت کی کوششوں کو کمزور کرنا ہے۔ نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے