• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 9:46 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

ملّا عبد القادر بدایونی انشا پرداز، ادیب اور شاعر تھے جنھیں جلال الدّین اکبر کے عہد میں بطور مؤرخ شہرت ملی۔ وہ اکبر بادشاہ کے ابتدائی عمر کے رفیق تھے اور اپنے علم و فن کی بنیاد پر دربار میں‌ جگہ پائی تھی۔ فارسی اور عربی پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ علم نجوم اور ریاضی کے علاوہ راگ راگنیوں سے بھی واقف تھے۔ ملّا بدایونی کی مشہور تصنیف منتخب التواریخ ہے جو اصلاً فارسی زبان میں ہے اور اسے ملّا بدایونی نے اکبر کے عہد میں‌ خفیہ رکھا تھا۔ ان کی یہ تصنیف بادشاہ کی وفات کے کئی برس بعد شایع ہوئی تو اس کو ضبط کرنے کا شاہی فرمان جاری ہوا اور اس کی اشاعت پر پابندی لگا دی گئی۔ بدایونی کی اس تصنیف کے مخطوطات برٹش میوزیم اور ہندوستان کے مختلف کتب خانوں میں موجود ہیں۔

ملّا بدایونی نے اپنی اس تصنیف میں اکبر کو گمراہ لکھا ہے اور اسے ثابت کرنے کے لیے کئی واقعات رقم کیے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکبر دینی تعلیمات اور شرعی احکامات پر عقل پرستی کو ترجیح دینے لگا تھا۔ بدایونی نے اس کا ذمہ دار جلال الدّین اکبر کے قریبی مصاحبین (خاص طور پر مشہور درباری ابوالفضل اور فیضی) کو قرار دیا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ملّا بدایونی اور ابوالفضل دونوں ہی اکبر کے ابتدائی عمر کے رفیق تھے اور اس کے درباری بھی۔

ابوالفضل کی مشہور تصانیف اکبر نامہ اور آئینِ اکبری ہیں۔ وہ بادشاہ کے وزیر بھی تھے۔ ابوالفضل نے اکبر کی یکسر مختلف تصویر پیش کی ہے۔ ان کے مطابق اکبر نے کسی نئے مذہب کی بنیاد نہیں رکھی تھی بلکہ وہ مصلحت پسند تھا اور ہندوستان میں امن و رواداری کو فروغ دینے کی پالیسی پر گامزن تھا۔ ملّا عبدالقادر بدایونی نے اس مصلحت پسندی کو صریح گمراہی کے طور پر پیش کیا ہے اور دربار و حرم کے ایسے واقعات رقم کیے ہیں جو سنسنی خیز بھی ہیں۔ اپنے وقت کی ان عالم فاضل اور اہم درباری شخصیات میں اختلاف کو جدید دور کے محققین باہمی چپقلش اور حسد قرار دیتے ہیں اور ان کی تصانیف میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ بحث آج بھی تمام نہیں ہوسکی اور بادشاہ اکبر کے مذہبی اور دینی رجحانات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس بات سے قطع نظر کہ اکبر نے اسلامی تعلیمات کو ایک نئے انداز سے پیش کیا اور دین میں اختراع کی، بدایونی اور ابوالفضل میں جھگڑے اور اختلاف کی وجہ بہرحال سامنے ہے۔ تاریخ داں کہتے ہیں کہ دربار میں ابوالفضل کی حیثیت بدایونی سے زیادہ تھی اور وہ وزیر کے منصب پر فائز تھا جب کہ ملّا بدایونی صرف علمی کام انجام دینے تک محدود تھے اور انھیں اکبر نے سنسکرت کی کتابوں کا ترجمہ کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی جسے بدایونی مذہبی اعتبار سے جائز خیال نہیں‌ کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ غصّہ اور حسد کا شکار ہوگئے جو ان کی تصنیف سے ظاہر ہوتا ہے۔ ہم یہاں ملّا بدایونی کی اسی تصنیف منتخب التواریخ سے اکبر کی بداعتقادی کا ایک واقعہ نقل کررہے ہیں جس کے مترجم ڈاکٹر علیم اشرف خاں ہیں۔

بدایونی کی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے، اس سال بادشاہ کو ایک اور خبط ہوا کہ چند شیر خوار بچوں کو آبادی سے دور ایک مکان میں رکھا جائے، وہ کسی آواز کو سن نہ سکیں اور ان کی نگہداشت کے لیے تربیت یافتہ دایہ مقرر کی جائیں اور ان کو کوئی بات نہ سکھائی جائے تا کہ اس حديث (ترجمہ: ہر پیدا ہونے والا فطرت پر پیدا ہوتا ہے) کی تحقیق ہو جائے اور دیکھیں کہ یہ بچّے کسی دین اور مذہب کی طرف راغب ہوتے ہیں اور ان کی زبان سے پہلے کون سا کلمہ ادا ہوتا ہے۔ اس عجیب و غریب تجربے کے لیے بیس شیر خوار، نومولود بچّوں کو روپیہ پیسہ دے کر ان کے والدین سے جدا کیا گیا۔ ایک خالی ویران محل میں ان کو رکھا گیا۔ بادشاہ نے اس محل کا نام گنگ محل رکھا۔ تین چار سال بعد معلوم ہوا کہ وہ سب بچّے گونگے ہوگئے ہیں۔ محل کی وجہِ تسمیہ پوری اتری۔ اکثر معصوم بچّے تو اس گنگ محل سے آغوشِ لحد میں جا بسے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے