• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 9:46 شام
  • پاکستان

پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی

دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟

ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا

سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری

کیٹوجینک یا کیٹو ڈائٹ (Keto Diet) وزن میں تیزی سے کمی اور بلڈ شوگر کنٹرول کرنے کے لیے مفید تو ثابت ہوسکتی ہے لیکن اس کو معمول بنا لینا ہر کسی کی صحت کے لیے موزوں اور محفوظ نہیں ہے۔

تیزی سے وزن کم کرنے اور صحت بہتر بنانے کے دعوؤں کے باعث کیٹو ڈائٹ گزشتہ چند برسوں کے دوران لوگوں میں خاصی مقبول ہوئی ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی سخت طریقہ کار ہر انسان کے لیے موزوں نہیں اور زیادہ دن تک اس پر عمل کرنا مشکل ہوسکتا ہے، بعض صورتوں میں اس کے نتیجے میں صحت کے مختلف مسائل بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔

اس حوالے سے ماہر غذائیت ریچل کلائن مین کا کہنا ہے کہ کیٹوجینک یا کیٹو ڈائٹ بنیادی طور پر مرگی کے شکار بچوں میں دوروں کو قابو کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے، جبکہ موٹاپے یا ذیابیطس کے مؤثر علاج سے متعلق تحقیق ابھی محدود ہے۔

کیٹو ڈائٹ میں جسم کو معمول کے مطابق کاربوہائیڈریٹس سے گلوکوز حاصل کرنے کے بجائے چربی سے بننے والے کیٹونز کو بطور توانائی استعمال کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

اس کیفیت کو کیٹوسس کہا جاتا ہے، یہ دراصل جسم کا ایک میٹابولک ردعمل ہے جس کے ذریعے خوراک کی شدید کمی یا فاقہ کشی کی صورت میں جسم متبادل توانائی کا انتظام کرتا ہے۔

اس غذا میں عموماً روزانہ حاصل ہونے والی توانائی کا تقریباً 75 فیصد چربی، 20 فیصد پروٹین اور صرف 5 فیصد کاربوہائیڈریٹس سے حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

کاربوہائیڈریٹس کی مقدار عموماً 20 سے 50 گرام روزانہ تک محدود کردی جاتی ہے، ماہرین کے مطابق جسم کو کیٹوسس کی حالت میں پہنچنے میں تقریباً 72 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

کیٹو ڈائٹ پر عمل کرنے والے افراد عموماً چربی والی مچھلی، انڈے، گوشت، مکھن، تیل، دودھ سے بنی بعض غذائیں، گری دار میوے، بیج اور کم کاربوہائیڈریٹس والی سبزیاں استعمال کرتے ہیں۔

وزن کم، مگر دوبارہ بڑھنے کا خدشہ

ماہر غذائیت میری کونڈن کے مطابق کیٹو ڈائٹ سے وزن اور خون میں شوگر کی سطح کم ہوسکتی ہے، لیکن یہ اکثر ایک عارضی حل ثابت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بہت سے افراد طویل عرصے تک اس سخت غذائی پابندی پر قائم نہیں رہ پاتے اور ڈائٹ چھوڑنے کے بعد وزن دوبارہ بڑھ سکتا ہے، بعض اوقات کم کیے گئے وزن سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی نئی ڈائٹ کا آغاز کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے، خصوصاً ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ احتیاط مزید اہم ہے۔

اس کے علاوہ کیٹو ڈائٹ کے ممکنہ نقصانات میں بلڈ پریشر کا کم ہونا، گردوں میں پتھری، قبض، غذائی اجزا کی کمی اور دل کی بیماری کا بڑھتا ہوا خطرہ بھی شامل ہے۔

’کیٹو فلو‘ کیا ہے؟

کیٹو ڈائٹ شروع کرنے والے بعض افراد کو ابتدائی دنوں میں ’کیٹو فلو‘ کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، یہ بیماری نہیں بلکہ جسم کے کیٹوسس کی جانب منتقل ہونے کے دوران ظاہر ہونے والی علامات کا مجموعہ ہے۔ اس میں معدے کی خرابی، چکر آنا، توانائی میں کمی اور موڈ میں اتار چڑھاؤ جیسی شکایات ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر فرد کے لیے ایک ہی ڈائٹ موزوں نہیں ہوسکتی۔ وزن کم کرنے یا کسی مخصوص غذائی منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے اپنی صحت کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ : مندرجہ بالا تحریر عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

ڈائٹنگ اور ورزش کے باوجود موٹاپا کم کیوں نہیں ہوتا؟ وجہ سامنے آگئی

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے