• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 4:18 صبح
  • پاکستان

بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

ٹینیسی : امریکا میں 200 سال بعد کسی خاتون کو سزائے موت دیئے جانے کا معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، 50 سالہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ ہم جماعت کولین سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

کرسٹا پائیک کو گزشتہ بدھ کی رات سزائے موت دی جانی تھی، تاہم آخری لمحات میں قانونی رکاوٹوں کے باعث معاملہ غیر متوقع رخ اختیار کرگیا، تاہم آخری اطلاعات تک وکلا کی جانب سے سزا رکوانے کی کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر ناکس ول میں ایک نوجوان طالبہ کولین سلیمر کے قتل نے ایک ایسے خوفناک واقعے کو جنم دیا جس کی بنیاد مبینہ طور پر حسد، افواہوں، نوجوانوں کے درمیان پھیلنے والی چہ مگوئیوں اور ایک پیچیدہ تعلق نے رکھی تھی۔ واقعے کے مرکزی کرداروں میں 18 سالہ کرسٹا پائیک، ٹوڈ ڈیرل شپ اور مقتولہ کولین سلیمر شامل تھے۔

19 سالہ کولین پڑھائی میں اچھی، ملنسار اور اپنے مستقبل کے حوالے سے پُرجوش تھی، تاہم نئے ماحول میں اس کی دوستی کرسٹا پائیک سے ہوئی اور کچھ ہی عرصے بعد کرسٹا کے بوائے فرینڈ ٹوڈ ڈیرل کے ساتھ تعلقات نے صورتحال بدل دی۔

مقدمے کے مبصرین کے مطابق ملزمہ کرسٹا اپنے بوائے فرینڈ ٹوڈ ڈیرل کے بارے میں انتہائی حساس اور مالکانہ رویہ رکھتی تھی۔

کولین کے ساتھ ٹوڈ ڈیرل کی معمولی قربت یا بات چیت بھی کرسٹا کے لیے شک کا باعث بننے لگی اور افواہوں نے اس صورتحال کو مزید سنگین کردیا۔

کولین پر الزام لگایا جانے لگا کہ وہ کرسٹا کے بوائے فرینڈ کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، حالانکہ بعد کی تحقیقات میں ایسے دعوے کی کوئی بنیاد سامنے نہیں آئی۔

کولین نے بارہا اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کی مگر افواہیں مزید پھیلتی گئیں۔ بعض مبصرین کے مطابق ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی بہت تیزی سے پورے کیمپس کی گفتگو بن جاتی تھی۔ کولین خود بھی اس صورت حال سے پریشان تھی اور اس نے تنازع سے دور رہنے کے لیے پڑھائی اور کمپیوٹر لیب میں کام پر توجہ مرکوز کرلی تھی۔

قتل کے کیا محرکات تھے؟

پولیس تحقیقات کے مطابق کرسٹا کے ذہن میں کولین کے خلاف غصہ اور حسد بڑھتا گیا، تفتیش کاروں کا کا کہنا تھا کہ کرسٹا نے ٹوڈ ڈیرل سے کولین کو سبق سکھانے میں مدد مانگی، جس پر وہ بھی تیار ہوگیا۔

قتل سے قبل کرسٹا نے کولین کو ٹوڈ ڈیرل اور ایک اور ساتھی کے ساتھ باہر چلنے کی دعوت دی، کولین نے اسے شاید اختلاف ختم کرنے کی کوشش سمجھا اور ان کے ساتھ چلی گئی لیکن راستے میں صورتحال اچانک خوفناک ہوگئی۔

18سالہ کرسٹا پائیک نے اپنے 17 سالہ بوائے فرینڈ اور ایک اور ساتھی کے ساتھ مل کر کولین سلیمر کو جنگل میں لے جا کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا سر کچل کر قتل کر دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق کرسٹا نے کولین پر قاتلانہ حملہ کیا اور ٹوڈ ڈیرل اور نیٹالی نے بھی اسے قابو کرنے میں مدد کی۔

تفتیش کے دوران کرسٹا نے پولیس کو واقعے کے بارے میں تفصیلات بتائیں اور ٹوڈ ڈیرل اور نیٹالی کے کردار کا بھی ذکر کیا، پولیس کے مطابق ٹوڈ ڈیرل نے بعد میں قتل میں اپنے کردار کا اعتراف کیا، اگرچہ اس نے زیادہ تر ذمہ داری کرسٹا پر ڈالنے کی کوشش کی۔

مقدمے کی سماعت مارچ 1996 میں ہوئی، جہاں استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ کرسٹا نے نہ صرف کولین پر حملے کی قیادت کی بلکہ دوسروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا، بعد ازاں عدالت نے کرسٹا پائیک کو قتل کے جرم میں سزائے موت سنادی۔

مقدمے کے مبصرین کے مطابق حسد، سماجی دباؤ، جھوٹی باتوں اور نوجوانوں کے جذباتی ردعمل نے مل کر ایسا ماحول پیدا کیا جس کا اختتام قتل پر ہوا۔

مقتولہ کے جسم پر شیطانی عبادت کا نشان

قتل کا یہ مقدمہ میڈیا میں اس وقت خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا جب تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ مقتولہ کے جسم پر پانچ کونوں والے ستارے جیسا نشان بھی بنایا گیا تھا۔

قتل کی اس واردات نے امریکہ میں پھیلنے والے ’شیطانی عبادت‘ کے خدشات کو مزید ہوا دی تھی، پائیک کے بوائے فرینڈ شپ نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے سلیمر کے جسم پر پینٹاگرام یعنی ستارے کی شکل کی ایک علامت بنائی تھی، جسے شیطان پرستی سے منسلک کیا جاتا ہے۔

ریکارڈ کے مطابق کرسٹا پائیک نے مقتولہ کی کھوپڑی کا ایک ٹکڑا بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ مقتولہ کی والدہ مے مارٹینیز نے کرسٹا پائیک کی سزا پر عمل درآمد کی حمایت اور مطالبہ بھی کیا ہے۔

موت کی سزا پر عمل درآمد کیوں نہ ہوسکا؟

واضح رہے کہ قتل کی مجرم قرار دی جانے سزا یافتہ کرسٹا پائیک کو جان لیوا انجیکشن دینے کی دو مرتبہ کوشش کی گئی جو کارگر ثابت نہ ہوسکی، قانون کے مطابق موت کا مقررہ وقت گزرنے کے بعد جیل حکام نے اسے طبی مرکز منتقل کر دیا ہے۔

اگر موت کی سزا پر عمل درآمد ہو جاتا تو کرسٹا پائیک ٹینیسی میں تقریباً 200 سال بعد سزائے موت پانے والی پہلی عورت ہوتی، دستیاب ریکارڈ کے مطابق ریاست میں آخری مرتبہ کسی خاتون کو 1820 کے قریب سزائے موت دی گئی تھی۔

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانے والی خاتون نے 2 بار موت کو چکما دے دیا

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے