• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 6:58 شام
  • پاکستان

سی آئی اے، ایس آئی یو اور اے وی سی سی کوئی قانونی دستاویزات پیش نہیں کرسکے، مجسٹریٹ

پولیس کی جانب سے ڈسٹرکٹ سٹی گارڈن ہیڈ کواٹرز کے قریب خاتون سمیت 29 افراد کو حبسِ بے جا میں رکھنے کے معاملے میں جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر نے رپورٹ سیشن عدالت میں جمع کروادی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 3 اکتوبر کو نبی بخش تھانے کی حدود میں ایک پلاٹ پر چھاپہ مارا، چھاپہ شہری شیر زمان کی بازیابی کی درخواست پر مارا گیا، چھاپے کے دوران شیر زمان سمیت 29 افراد بازیاب کیے گئے، 29 افراد میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاتون کو مردوں کے ساتھ ہی رکھا ہوا تھا اور کوئی لیڈی پولیس اہلکار نہیں تھی، جس جگہ سے لوگ بازیاب کروائے گئے وہ کسی پولیس کی جگہ نہیں تھی، وہ جگہ سول ڈیفنس اتھارٹی کی ملکیت ہے جو پولیس گارڈن ہیڈ کوارٹر کے سامنے ہے، ہیڈ کانسٹیبل فیصل شاہ، پولیس کانسٹیبل جہانزیب سمیت 4 پولیس والے اور ایک پولیس وین، پولیس موبائل وہاں موجود تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلسل پوچھنے کے باوجود سی آئی اے، ایس آئی یو اور اے وی سی سی کوئی قانونی دستاویزات پیش نہیں کرسکے، 15 پر کال کرکے متعلقہ تھانے نبی بخش کو مطلع کیا گیا، تمام افراد کو قانونی کارروائی کے لیے نبی بخش تھانے منتقل کیا گیا، تمام افراد کو ذاتی مچلکوں کے عوض رہا کرتے ہوئے سیشن عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے