• اکتوبر 5, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 5, 2026 6:03 شام
  • پاکستان

اربوں روپے کا کاروبار پنجاب کے ساتھ جاری ہے لیکن راستے بند ہونے سے کاروبار تباہ ہے، تاجروں کا موقف

پی ٹی آئی لانگ مارچ کے خلاف اسمبلی چوک پشاور میں تاجروں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک پر ٹائر جلا دیے، مظاہرہن نے خیبر روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

احتجاج کرنے والے تاجروں نے ہاتھوں میں کالے رنگ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں، مختلف تاجروں کے وفود نے احتجاج میں شرکت کی۔ احتجاج میں مختلف اقلیتی افراد، سیاستدان اور دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔ مظاہرین نے پختونخوا حکومت مردہ باد کے نعرے لگائے۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ 13 سال ہوگئے ہیں کہ صوبائی حکومت نے عوام کو ایسے چھوڑ دیا ہے، حکومت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں، صوبے میں مہنگائی عروج پر پہنچ گئی اور بے روزگاری بہت زیادہ ہوگئی ہے، جب سے سہیل آفریدی نے منصب سنبھالا تو صوبہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایم پی ایز اور ایم پی ایز اپنے مارچ میں مصروف ہیں، پی ٹی آئی کے کارکنان جو گرفتار ہیں ان کو پی ٹی آئی والے پوچھنے تک نہیں گئے، صوبائی حکومت عوام کے ساتھ تاجر برادری کو بھی دھوکا دے رہی ہے، تاجر برادری کو اس مارچ سے کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

تاجروں نے کہا کہ اربوں روپے کا کاروبار پنجاب کے ساتھ جاری ہے لیکن راستے بند ہونے سے کاروبار تباہ ہے، تاجر برادری اور عوام پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز ہفتے میں ایک دفعہ ملاقات کرتی ہیں، ہمارے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو بہت عرصہ ہوگیا لیکن کوئی ملاقات نہ ہو سکی، یہ سب تاجر برادری اکھٹا ہو چکی ہے، عوام کو لے کر حکومت کے خلاف احتجاج کریں گے۔ اگر حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی تو ہم صوبہ بھر میں احتجاج کریں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے