• اکتوبر 7, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 7, 2026 4:40 شام
  • پاکستان

کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں

ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ

ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟

جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پمز اسپتال کے مستقبل بارے بڑا فیصلہ کر لیا ہے، اسپتال کا انتظامی ڈھانچا تبدیل کیا جائے گا اور پمز کے لیے ایم ٹی آئی ایکٹ طرز پر انتظامی ڈھانچا تشکیل دیا جائے گا۔

ذرائع وزارت صحت کے مطابق پمز کا انتظامی ڈھانچا تبدیل کرنے کے لیے ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی، اور اسپتال کو بورڈ آف گورنر کے ذریعے چلایا جائے گا، پمز بورڈ آف گورنر مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد پر مشتمل ہوگا، اور اس کے چیئرمین کی تعیناتی مارکیٹ سے کی جائے گی۔

مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں پمز میں انتظامی اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، وزیر قانون، میڈیکل جامعات کے وی سیز اور ماہرین صحت اس کمیٹی میں شامل کیے گئے ہیں، یہ کمیٹی 15 روز میں پمز ایکٹ میں ترامیم کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم کی ہدایات پر 20 رکنی پمز اصلاحاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی، جو سرکاری و نجی شعبہ سے نامور ماہرین صحت پر مشتمل تھی، اس خصوصی کمیٹی نے وزیر اعظم کو پمز سے متعلق سفارشات کی رپورٹ پیش کر دی ہے، جس میں سفارش کی گئی تھی کہ انتظامی اصلاحات کے لیے پمز کے ایکٹ میں ترامیم کی جائیں۔

پمز اسپتال میں اصلاحات کا پلان تیار، 3 ماہ کا ہدف مقرر

پمز میں اصلاحات سے متعلق فیصلے اس خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر ہوئے ہیں، وزیر اعظم نے مذکورہ سفارشات پر پمز کے انتظامی امور سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں، جس کے بعد مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنائی گئی جو اَب پندرہ روز میں ترامیم سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے