• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 7:58 شام
  • پاکستان

غیرتسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر پروبیشن کے دوران ملازمت ختم کرنا عموماً برطرفی یا ملازمت سے اخراج کے مترادف نہیں ہوتا

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ پروبیشن پر تعینات ملازم کو مستقلی یا ملازمت جاری رکھنے کا کوئی مستقل یا حاصل شدہ حق حاصل نہیں ہوتا، غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر پروبیشن کی مدت کے دوران ملازمت ختم کرنا عموماً برطرفی یا ملازمت سے اخراج کے مترادف نہیں ہوتا۔

چیف جسٹس امین الدین خان، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ڈائریکٹر جنرل نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (نمل)اور دیگر کی جانب سے راحت محمود کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے بلوچستان ہائی کورٹ کا 31 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور پروبیشن کے دوران غیر تسلی بخش کارکردگی پر راحت محمود کی ملازمت ختم کرنے کا حکم بحال کردیا۔

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ پروبیشن کا مقصد آجر کو یہ جانچنے کا مناسب موقع دینا ہے کہ ملازم مطلوبہ صلاحیت، موزونیت اور کارکردگی رکھتا ہے یا نہیں اور آیا اس کی ملازمت جاری رکھنا ادارے کے مفاد میں ہے، پروبیشنر اگرچہ کسی سول پوسٹ پر تعینات ہوتا ہے تاہم اس دوران وہ عارضی ملازم کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے مستقلی کا کوئی حاصل شدہ حق حاصل نہیں ہوتا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ عام حالات میں صرف غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر پروبیشنر کی ملازمت ختم کرنے سے پہلے سماعت کے حق کا اصول لاگو نہیں ہوتا، تاہم اگر ملازمت ختم کرنے کی بنیاد بدعنوانی یا کسی ایسے مس کنڈکٹ کا الزام ہو جو ملازم کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہو تو شوکاز نوٹس اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی ضروری ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آجر محض غیر تسلی بخش کارکردگی کی اصطلاح استعمال کرکے کسی سزا یا بدنیتی پر مبنی برطرفی کو سادہ طور پر ملازمت کے خاتمے میں تبدیل نہیں کرسکتا، حالات کے مطابق پروبیشنر کو اپنی کارکردگی سے متعلق مؤقف واضح کرنے کا منصفانہ موقع دینا بھی ضروری ہوسکتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پروبیشنر کی ملازمت ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی بھی پیشہ ورانہ کردار کے لیے نااہل ہے، ممکن ہے کسی دوسرے شعبے میں اس کی صلاحیتیں بہتر طور پر سامنے آئیں، ادارے اپنی ضروریات کے مطابق ملازمین کے انتخاب اور ان کی کارکردگی جانچنے کے مختلف معیار اختیار کرسکتے ہیں، تاہم محض غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر ملازمت ختم کرتے وقت پروبیشنر کے مستقبل کو بلاوجہ داغ دار نہیں کیا جانا چاہیے۔

عدالت نے قرار دیا کہ راحت محمود کے معاملے میں آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت قانون کے مطابق سلوک کے حق کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی جبکہ آرٹیکل 25 کے تحت امتیازی سلوک کا عنصر بھی ثابت نہیں ہوا، پروبیشنر کو مستقلی کا کوئی حاصل شدہ حق حاصل نہیں ہوتا اور آئینی دائرہ اختیار کے ذریعے ایسا حق پیدا نہیں کیا جاسکتا جو قانوناً موجود ہی نہ ہو۔

وفاقی آئینی عدالت نے نمل کی درخواست کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا اور بلوچستان ہائی کورٹ کا 31 مارچ 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ راحت محمود کی پروبیشن کی مدت کے دوران کمزور اور غیر تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر ملازمت ختم کرنے کا حکم ان کی تقرری کی شرائط کے مطابق تھا لہٰذا اسے بحال کیا جاتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے