• ستمبر 19, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 19, 2026 12:02 صبح
  • پاکستان

شریک مجرم کو بھی اس مقدمے میں 23 ستمبر 2026 کو موت کی سزا دی جائے گی

امریکی ریاست ٹیکساس میں تین افراد کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والے 40 سالہ لی جیمز نارمن کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے موت کی سزا دے دی گئی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لی جیمز نارمن کو 16 ستمبر کی شام ہنٹس وِل کی ریاستی جیل میں مہلک انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی گئی جس کے بعد وہ رواں برس ٹیکساس میں پھانسی پانے والا پانچواں شخص بن گیا۔

نارمن کو 2005 میں ٹیکساس کے شہر ایڈنا میں ایک گھر میں تین افراد، 24 سالہ سیموئل رابرٹس، 18 سالہ ٹفانی پیکاک اور 38 سالہ سیلسو لوپیز کے قتل میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

عدالت کے ریکارڈ کے مطابق نارمن اور اس کے ساتھی کیر شان ریمی مبینہ طور پر کوکین چوری کرنے کی غرض سے گھر میں داخل ہوئے تھے جہاں واردات کے دوران 3 افراد کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔

نارمن کو قتل کے تقریباً پانچ ماہ بعد میکسیکو سے امریکا واپس داخل ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اس نے قتلِ عمد کے مقدمے میں جرم قبول کیا تھا جس کے بعد جیوری نے اس کے لیے سزائے موت مقرر کی۔

سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل نارمن کے وکلا نے امریکی سپریم کورٹ سے سزا روکنے کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ استغاثہ نے مقدمے میں ایسے شواہد اور دلائل پیش کیے جو ان کے مطابق غلط یا متضاد تھے۔

تاہم سپریم کورٹ نے عمل درآمد روکنے کی درخواست مسترد کردی، جس کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔

جیل حکام کے مطابق نارمن سے آخری بیان دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے انکار میں سر ہلا دیا۔ بعد ازاں اسے مہلک انجیکشن لگایا گیا اور شام 6 بج کر 44 منٹ پر اسے مردہ قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ نارمن کے ساتھ اسی مقدمے میں شریک کیر شان ریمی کو بھی سزائے موت سنائی گئی تھی۔ ٹیکساس حکام نے اس کی سزا پر عمل درآمد کے لیے 23 ستمبر 2026 کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے