• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 1:18 صبح
  • پاکستان

امریکی صدر ممکنہ طور پر 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ملاقات کریں گے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں اور وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوسز نے تین باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ اجلاس 22 ستمبر کو نیویارک میں ہونے کا امکان ہے جس کے لیے امریکی محکمہ خارجہ نے خلیجی ممالک کو ابتدائی دعوت نامے بھیج دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے تمام 6 رکن ممالک یعنی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے رہنما یا وزرائے خارجہ کی شرکت متوقع ہے۔

ایک ذریعے نے ایکسیوسز کو بتایا کہ اجلاس میں دیگر عرب اور مسلم ممالک کے رہنماؤں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

اجلاس کا مرکزی موضوع صرف جنگ بندی نہیں بلکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تیار کیے جانے والے جنگ کے بعد کے منصوبے پر خلیجی ممالک سے مشاورت بھی ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم ’’ڈے آفٹر پلان‘‘ پر کام کر رہی ہے جسے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے۔

اسی دوران رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور یمن کے حوثیوں کے درمیان عمان میں ایک خفیہ ملاقات بھی ہوئی ہے۔

عمان کی میزبانی میں ہونے والی اس ملاقات میں حوثی نمائندوں نے امریکی حکام کو یقین دہانی کرائی کہ وہ امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتے اور 2025 کے جنگ بندی معاہدے پر قائم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حوثیوں نے اسرائیلی اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ نہ بنانے کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم سعودی عرب سے متعلق جہاز اس وعدے سے مستثنیٰ رکھے گئے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکا کو یہ پیغام براہ راست ایران کی جانب سے موصول ہوا ہے۔

تاہم ابھی تک امریکا اور ایران کے درمیان کسی جنگ بندی یا حتمی معاہدے کا اعلان نہیں ہوا اور دونوں ملکوں کے درمیان اہم اختلافات برقرار ہیں۔

قبل ازیں صدر ٹرمپ ایک موقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ایک اہم فیصلے کے قریب ہیں اور خلیجی اتحادیوں سے براہ راست رائے لینے کے بعد آئندہ اقدامات پر غور کریں گے۔

مجوزہ اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ جنگ کے دوران کئی خلیجی ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں متعدد بار ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آئے ہیں۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز اور خطے کے دیگر اہم سمندری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث تیل اور گیس کی برآمدات متاثر ہوئیں اور خلیجی ممالک کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں اب یمن کے حوثی بھی میدان میں آگئے ہیں جنھوں نے باب المندب بند کردی ہے اور مسلسل سعودی عرب پر حملے کر رہے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے