• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 1:49 شام
  • پاکستان

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

جاپانی شخص کئی سالوں تک غیرآباد مکان کا کرایہ کیوں دیتا رہا؟؟

اسرائیلی فوج کی فول پروف سیکیورٹی اور انتہا پسند وزیرِ اتمار بن گویر کی سرپرستی میں درجنوں یہودی آبادکاروں نے ایک بار پھر مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا بول دیا ہے۔

اس دوران اشتعال انگیز کارروائیاں کرتے ہوئے آبادکاروں نے مسجد کے صحنوں میں تلمودی رسوم ادا کیں۔موقع پر موجود اسرائیلی پولیس اور فوج کے اہلکاروں نے مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہونے سے سختی سے روک دیا، جس سے کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی۔

مسجدِ اقصیٰ کے تقدس پامال کرنے کے اس واقعے پر اسلامی دنیا کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) سمیت سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی آبادکاروں کے اس دھاوے اور اشتعال انگیز حرکات کی پرزور اور شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

او آئی سی سیکریٹریٹ کے مطابق اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں بشمول مشرقی یروشلم اور تمام اسلامی و مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی قانونی یا اخلاقی خودمختاری حاصل نہیں۔

تنظیم نے عالمی برادری سے فوری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ مقدس مقامات پر ہونے والے حملے روکنے اور ان کی تاریخی و قانونی حیثیت کو ہر صورت برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

جبکہ ڈیجیٹل اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اس قسم کے پرتشدد واقعات کے خلاف عالمی رائے عامہ کو بیدار کرنے اور سوشل میڈیا پر فلسطینی کاز کے لیے مؤثر آواز اٹھانے کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے