• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 12:08 صبح
  • پاکستان

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

ڈبلن : اسرائیل اور جمہوریہ آئرلینڈ کے درمیان یوئیفا نیشنز لیگ کے فٹبال میچز غزہ جنگ کے باعث شدید سیاسی اور سفارتی تنازع کا شکار ہوچکے ہیں۔

غزہ جنگ کے اثرات کھیل کے میدانوں تک جا پہنچے، آئرلینڈ میں عوامی سطح پر اور کھلاڑیوں کی جانب سے ان میچوں کے بائیکاٹ کے لیے شدید دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق آئرلینڈ کے عوام غزہ جنگ کیخلاف اور فلسطینی عوام کی حمایت میں کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں، اور مختلف میچز کے دوران فلسطین کی حمایت میں بھرپور نعرے بازی دیکھنے میں آتی ہے۔

شدید کشیدگی اور سیکیورٹی خطرات کی وجہ سے یہ میچز نہ تو اسرائیل میں کھیلے جاسکتے ہیں اور نہ ہی آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں۔ اسرائیل کا "ہوم میچ” ہنگری کے شہر ڈیبریسن میں منتقل کیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے اب فیصلہ کیا جاچکا ہے کہ آئرلینڈ کا ’ہوم میچ‘ اب ڈبلن کے بجائے سربیا کے ایک چھوٹے سے قصبے باچکا ٹوپولا میں کھیلا جائے گا۔

دونوں میچز اسٹیڈیم کے بند دروازوں کے پیچھے ( یعنی بغیر شائقین کے) کھیلے جائیں گے اور آئرش شائقین کو ٹکٹ اور ان میچز کی تٖصاویر بھی جاری نہیں کی گئیں۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق اسٹیڈیم میں آئرلینڈ کے حامی نہیں ہیں، آئرلینڈ میں کوئی ‘ہوم میچ’ نہیں اور نہ ہی ٹیلی ویژن پر کوئی ماہرینِ کھیل یا آئرش کمنٹری آتی ہے، فلسطینی کاز کے لیے ملک بھر سے زبردست حمایت کی جارہی ہے۔

یاد رہے کہ آئرلینڈ کی ٹیم 27 ستمبر کو ہنگری کے شہر ڈیبریسن میں اسرائیل کے خلاف میچ کھیلے گی، جبکہ دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا میچ 4 اکتوبر کو سربیا کے شہر باکا توپولا میں ہوگا۔

دونوں میچوں کو آئرلینڈ میں معمول کے مقامات سے منتقل کیا گیا ہے، آئرلینڈ کا نامزد ہوم میچ سربیا میں بغیر تماشائیوں کے کھیلا جائے گا، جبکہ آئرش فٹبال ایسوسی ایشن نے بھی پہلے میچ کے لیے آئرش شائقین کے لیے مختص ٹکٹوں کا کوٹہ قبول نہیں کیا۔

علاوہ ازیں آئرلینڈ کی فٹبال ایسوسی ایشن نے گزشتہ برس یوئیفا سے اسرائیل کو یورپی مقابلوں سے معطل کرنے کی درخواست کی تھی، تاہم یوئیفا نے اب تک بھی اس مطالبے پر کارروائی نہیں کی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے