• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 8:56 شام
  • پاکستان

کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا گیا ہے، باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں

جمیعت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک پر قرضوں کا دباؤ اور مہنگائی بڑھ گئی جبکہ عوام کی مشکلات کا مداوا نہیں کیا جارہا، عالمی قوتوں نے اسلامی دفاعی معاہدے پر کاری ضرب لگائی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت کسی اور کی ہے جبکہ حکمرانوں کی پالیسیز کی وجہ سے قوم تشویش میں مبتلا ہیں، ملک میں قرضوں کا دباؤاور مہنگائی بڑھ گئی ہے جبکہ مہنگائی کے حوالے سے عوام کے دکھوں کا مداوا نہیں کیا جارہا کیونکہ حکمران اندھے ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتوں نے احتجاج کا اعلان کیا ہے جس کے بعد اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا گیا ہے، ایسے رویوں سے ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میگا پراجیکٹ معطل ہیں جبکہ لوگ اپنا سرمایہ اب بیرون ملک منتقل کررہے ہیں، چین کا اعتماد آپ کھو چکے ہیں جبکہ ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے اور گھر میں آگ لگی ہوئی ہے۔

پُرامن لوگ کیل لگے ڈنڈے لے کر نہیں نکلتے، پی ٹی آئی والوں کو اسلام آباد آنے نہیں دینگے، عطا تارڑ

اس بار لاشیں گریں تو اسلام آباد کو سومناتھ بنادیں گے، جنید اکبر

لانگ مارچ ہر صورت ہوگا ہمیں کوئی نہیں روک سکتا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مولانا نے کہا کہ ملک مشکل میں گھرا ہوا ہے بارود کے ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، مسائل پارلیمنٹ میں آنے چاہیئں مگر حکومت میں بیٹھے لوگ خاموش ہیں۔

فضل الرحمان نے کہا کہ امریکہ ایران جنگ بندی کے نتائج تو بتائیں جائیں، آج سعودی عرب پر گولے برسائے جارہے ہیں ایسی صورت حال میں پارلیمنٹ ہاؤس کا ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے کیونکہ پارلیمانی لیڈر کے بند کمرے اجلاس کا کوئی فائدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو آگے بڑھنا چاہیے، اس میں مصر اور ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا مگر عالمی قوتوں نے اسلامی دفاعی اتحاد پر کاری ضرب لگادی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس ساری صورت حال سے قوم کو بے خبر رکھا گیا ہے، ایران امریکہ ثالثی کی حمایت کی مگر اس کے نتائج سے آگاہ نہیں کیا گیا جبکہ آج جو صورتحال پھر بن گئی ہے اس حوالے سے کچھ بھی واضح نہیں کیا جارہا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے