• ستمبر 21, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 21, 2026 3:18 صبح
  • پاکستان

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد

لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل

بچپن کے دن لمبے جبکہ بڑھاپے کے سال مختصر لگتے ہیں، عمر بڑھنے کے ساتھ زندگی میں یکسانیت کا احساس کیوں پیدا ہوتا ہے؟ تحقیق نے دلچسپ وجہ بیان کردی۔

کیا آپ کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ دن، ہفتے، مہینے اور سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گزر رہے ہیں؟ سائنس دانوں کے مطابق وقت حقیقت میں تیز نہیں ہوتا بلکہ عمر کے ساتھ وقت کے گزرنے کا انسانی احساس تبدیل ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے اس کیفیت کی کئی ممکنہ وجوہات بیان کی ہیں۔ 2019 میں کیمبرج یونیورسٹی پریس میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں گھڑی کے وقت اور ذہنی طور پر محسوس کیے جانے والے وقت کے درمیان فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دماغ کیا محسوس کرتا ہے؟

تحقیق میں بتایا گیا کہ گھڑی کے مطابق وقت ہمیشہ ایک ہی رفتار سے گزرتا ہے، تاہم انسانی دماغ وقت کو تجربات، یادوں اور ذہنی کیفیت کی بنیاد پر مختلف انداز میں محسوس کرسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی پہلی ممکنہ وجہ تناسب کا نظریہ (پروپورشنل تھیوری) ہے، مثال کے طور پر 10 سال کی عمر میں ایک سال کسی بچے کی اب تک کی زندگی کا تقریباً 10 فیصد بنتا ہے، جبکہ 50 سال کی عمر میں ایک سال زندگی کے مجموعی تجربے کا صرف 2 فیصد رہ جاتا ہے۔

اس نظریے کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ہر نیا سال ہماری پوری زندگی کے مقابلے میں نسبتاً چھوٹا محسوس ہونے لگتا ہے۔

معمولات اور یکسانیت

دوسری وجہ نئے تجربات میں کمی ہوسکتی ہے، بچپن میں نئی نئی سرگرمیاں، مقامات، لوگ اور تجربات زیادہ ہوتے ہیں، اس لیے دماغ بہت سی منفرد یادیں محفوظ کرتا ہے۔

اس کے برعکس عمر بڑھنے کے ساتھ زندگی کے معمولات اور یکسانیت بڑھ سکتی ہے۔ جب دن، ہفتے اور مہینے ایک جیسے معمولات میں گزرنے لگیں تو یادوں میں ان ادوار کو الگ الگ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں ماضی کو دیکھتے ہوئے وقت بہت تیزی سے گزرا ہوا محسوس ہوسکتا ہے۔

ایک اور عنصر توجہ کا کسی سرگرمی میں مکمل طور پر مرکوز ہوجانا ہے۔ معمول کے کام کرتے ہوئے دماغ کئی سرگرمیاں خودکار انداز میں انجام دینے لگتا ہے۔

اس دوران انسان کی توجہ گھڑی دیکھنے یا وقت گزرنے کے احساس کے بجائے کام پر مرکوز رہتی ہے، جس سے وقت کا گزرنا کم محسوس ہوتا ہے۔

ماہرین جذباتی کیفیت میں کمی یا یکسانیت کو بھی اس احساس کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیتے ہیں۔ خوف، خوشی، حیرت، جوش یا کسی بڑے جذباتی واقعے سے وابستہ لمحات عموماً زیادہ واضح یادیں چھوڑتے ہیں۔

اس کے برعکس مسلسل تناؤ، تھکن، بوریت اور یکساں معمولات سے گزرنے والے دن ایک دوسرے سے ملتے جلتے محسوس ہوسکتے ہیں، جس سے ماضی کا وقت مختصر محسوس ہوتا ہے۔

ڈوپامین اور دماغی عمل میں تبدیلیاں

پانچواں ممکنہ عنصر ڈوپامین ہے۔ یہ دماغ میں پایا جانے والا ایک کیمیائی مادہ ہے جو تحریک، انعام اور دیگر دماغی عمل کے ساتھ ساتھ وقت کے احساس سے بھی منسلک سمجھا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ عمر کے ساتھ ڈوپامین کی سطح اور دماغی عمل میں تبدیلیاں بھی وقت کے ادراک پر اثرانداز ہوسکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگرچہ وقت کو حقیقتاً سست نہیں کیا جاسکتا، تاہم زندگی میں نئے تجربات اور سرگرمیوں کو شامل کرکے یادوں کو زیادہ نمایاں بنایا جاسکتا ہے۔

قابو کیسے پایا جائے؟

کیمبرج یونیورسٹی پریس کی تحقیق کے مصنف اور مکینیکل انجینئرنگ کے پروفیسر ایڈرین بیجان کے مطابق معمول سے کچھ ہٹ کر نئی چیزیں کرنا، حیرت انگیز تجربات حاصل کرنا، نئے خیالات پر عمل کرنا اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لینا وقت کے احساس کو زیادہ بھرپور بنا سکتا ہے۔

یعنی عمر بڑھنے کے ساتھ وقت کا تیز محسوس ہونا محض ایک عام شکایت نہیں بلکہ انسانی دماغ کے یادداشت، توجہ، جذبات اور تجربات کو ترتیب دینے کے طریقے سے جڑا ایک پیچیدہ احساس ہوسکتا ہے۔

بڑھاپا جلدی آنے کی بڑی وجہ سامنے آگئی

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے