فروری 2026 سے استدعا کی جا رہی ہے کہ اضافی چینی کو برآمد کیا جائے، اعلامیہ
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر آزاد کرنے کا مطالبہ کردیا۔
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وقت آ چکا ہے کہ شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی-ریگولیٹ کر دیا جائے، ملکی کاشتکار تنظیمیں بھی شوگر سیکٹر کی ڈی-ریگولیشن کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فروری 2026 سے استدعا کی جا رہی ہے کہ اضافی چینی کو برآمد کیا جائے، متعدد حکومتی اجلاسوں، خطوط اور میڈیا کے ذریعے حکومت سے یہ التجا کی گئی۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 لاکھ ٹن چینی کو فوری برآمد کیا جانا چاہیے تھا، کرشنگ سیزن قریب ہے اور فیصلہ میں تاخیر صنعت اور کسانوں کو تباہ کر دے گی، 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کے فیصلے پر امید ہے کہ باقی 8 لاکھ ٹن بھی جلد برآمدکی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق چینی کی قیمتیں پیداواری لاگت سے بہت کم ہیں، شوگر انڈسٹری کو فری مارکیٹ کے اصولوں پر کام کرنے دیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی-ریگولیٹ کردے۔
