’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘
اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد
جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی
یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!
صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جس میں زندگی کا بیشتر حصہ خبر کی تلاش میں گزرتا ہے۔ سیاسی سرگرمیاں، پریس کانفرنسیں، حادثات، احتجاج، حکومتی فیصلے اور بدلتے ہوئے حالات—یہ سب ایک صحافی کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔ خبر کی تلاش دن رات مصروف رہنے والے صحافیوں کے لیے کبھی کبھار ایسا موقع بھی ضروری ہوتا ہے جب وہ اس دوڑ سے چند لمحوں کے لیے باہر نکلیں، ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزاریں اور زندگی کے خوب صورت پہلوؤں کو محسوس کریں۔
اسی جذبے کے تحت اے آر وائی نیوز، پشاور بیورو کا سالانہ میٹ اَپ اس مرتبہ اپر دیر کے خوب صورت علاقے شرینگل میں رکھا گیا۔ ادارے کی اجازت اور صدر اے آر وائی نیوز جناب عماد یوسف صاحب کی منظوری سے ہونے والا یہ محض ایک روزہ تفریحی دورہ نہیں تھا؛ یہ مختلف اضلاع میں بکھرے ہوئے ساتھیوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے، باہمی تعلقات مضبوط بنانے اور پیشہ ورانہ مصروفیات سے ہٹ کر ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کا ایک خوبصورت موقع تھا۔
اس پورے پروگرام کو عملی شکل دینے اور اسے منظم انداز میں مکمل کرنے میں مجھے بھی بطور ٹیم لیڈر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ پشاور سے روانگی، راستے میں ساتھیوں کی شمولیت، اپر دیر میں قیام، مختلف سرگرمیوں اور پھر بحفاظت واپسی تک میں نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس پورے سفر کی نگرانی اور رہنمائی کی۔ تاہم اس سفر کی اصل کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی مشترکہ کوشش کا نتیجہ تھی۔
پشاور سے شرینگل تک — قافلہ بنتا گیا سفر کا آغاز پشاور اور مردان سے ہوا۔ ابتدا میں تقریباً تین گاڑیاں روانہ ہوئیں، جب کہ راستے میں دیگر ساتھی بھی اپنی اپنی گاڑیوں کے ساتھ قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ شہزاد عالم، نور خالق، واحد، جمیل روغانی اپنی اپنی گاڑیوں میں ہمارے ساتھ شریک ہوئے۔ یوں سفر آگے بڑھتا گیا اور چند گاڑیوں سے شروع ہونے والا یہ سفر بالآخر تقریباً چالیس ساتھیوں کے ایک بھرپور قافلے میں تبدیل ہوگیا۔ پشاور اور مردان کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، نوشہرہ، صوابی، سوات، لوئر دیر، اپر دیر، چترال، بونیر اور مہمند سے تعلق رکھنے والے ساتھی اس سفر کا حصہ تھے۔
قافلے کے ساتھ سفر کی قیادت اور رابطہ کاری کا سلسلہ مسلسل جاری رہا تاکہ تمام ساتھی ایک مربوط گروپ کی صورت میں سفر کریں۔ ایک ٹیم لیڈر کے طور پر میری کوشش یہی رہی کہ سفر کے ہر مرحلے میں ساتھیوں کو سہولت حاصل ہو اور یہ دورہ خوشگوار بھی ہو اور منظم بھی۔
جیسے جیسے پشاور کا شہری ماحول پیچھے چھوٹتا گیا، منظر بھی بدلتا گیا۔ پہاڑ قریب آنے لگے، سرسبز وادیاں راستے کا حصہ بنیں اور شہر کی ہلچل کی جگہ قدرت کی خاموشی نے لے لی۔
سفر کے پیچھے وہ ساتھی جو سب سنبھالتے رہے ہر کامیاب سفر کے پیچھے کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی محنت شاید سب سے کم دکھائی دیتی ہے، مگر جن کے بغیر سفر اس طرح ممکن نہیں ہوتا۔ اس میٹ اَپ میں واحد نے کوآرڈینیٹر کے فرائض انتہائی ذمہ داری سے انجام دیے۔ بجٹ اور اخراجات کا انتظام بھی ان کے ذمے تھا۔
واحد اور عدنان نے سفر سے قبل شاپنگ اور دیگر ضروری انتظامات میں بھرپور حصہ لیا۔ اسنیکس، پانی اور سفر کے دوران درکار دوسری اشیاء کی خریداری اور انتظام سے لے کر مختلف ضروریات کا خیال رکھنے تک، دونوں نے ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔
دوسری طرف شہزاد عالم اور نور خالق نے اپنی خوش مزاجی اور زندہ دلی سے سفر کو شروع ہی سے خوشگوار بنائے رکھا۔ ان کی باتوں، مسکراہٹوں اور برجستہ جملوں نے راستے کی تھکن کو کہیں محسوس نہیں ہونے دیا۔ جبکہ ظفر اقبال اور احسان خٹک نے لذیذ مٹن کڑاہی اور بنوں کا مخصوص حلوہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یوں قیادت، کوآرڈینیشن، انتظام، خوش مزاجی اور پکوان ہر پہلو میں مختلف ساتھیوں نے اپنی اپنی ذمہ داری ادا کی اور یہی ٹیم ورک اس سفر کی کامیابی کی بنیاد بنا۔
کچھ ساتھیوں کے لیے یہ شمالی علاقوں کا پہلا سفر تھا اس سفر کی ایک خاص بات یہ تھی کہ ہمارے بہت سے ساتھیوں نے شرینگل اور شمالی خیبر پختونخوا کے ان علاقوں کو پہلی مرتبہ دیکھا۔ خصوصاً ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت سے تعلق رکھنے والے کئی ساتھیوں کے لیے یہ شمالی علاقوں کا پہلا باقاعدہ تجربہ تھا۔
ان کے لیے یہ صرف ایک خوبصورت سیاحتی مقام دیکھنا نہیں تھا بلکہ اپنے ہی صوبے کے ایک مختلف جغرافیے، ماحول اور طرزِ زندگی سے براہِ راست واقف ہونے کا موقع بھی تھا۔
فون کے رابطے سے آمنے سامنے ملاقات تک میٹ اَپ کی سب سے خوبصورت باتوں میں سے ایک ساتھیوں کی باہمی ملاقات تھی۔ مختلف اضلاع میں کام کرنے والے کئی ساتھی ایک دوسرے سے فون، واٹس ایپ گروپس یا پیشہ ورانہ رابطوں کے ذریعے واقف تھے، مگر ان میں سے کئی کی پہلی باقاعدہ فیس ٹو فیس ملاقات اسی سفر میں ہوئی۔
ایک جگہ بیٹھنے کے بعد رسمی تعارف جلد ہی دوستانہ گفتگو میں بدل گیا۔ جنوبی اضلاع کے ساتھی اپنے علاقوں کے حالات بتا رہے تھے، شمالی علاقوں کے ساتھی اپنی مشکلات بیان کر رہے تھے، اور ہر شخص دوسرے کو اپنے علاقے کی ایک نئی تصویر دکھا رہا تھا۔
شرینگل میں بیٹھ کر پورے خیبر پختونخوا کی بات دلچسپ بات یہ تھی کہ گفتگو صرف تفریح یا صحافت تک محدود نہ رہی۔ رفتہ رفتہ شرینگل میں بیٹھے تقریباً چالیس لوگ پورے خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بات کر رہے تھے۔
امن و امان اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ جنوبی اضلاع کی صورتحال زیرِ بحث آئی، شمالی علاقوں کے مسائل پر بات ہوئی۔ سیاسی ماحول، سیاسی مسائل اور اہم سیاسی شخصیات بھی گفتگو کا حصہ بنیں۔ صحت، تعلیم، تجارت، کاروبار اور سیاحت کے مسائل پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جبکہ صحافیوں اور میڈیا کو درپیش مشکلات بھی زیرِ بحث آئیں۔ ارے یاد آیا اس گفتگو کے دوران ہم نے تین سالگرہ بھی منائیں جن میں اے ار وائی نیوز کی چھبیسویں سالگرہ اور مسرت عاصی اور شہزاد عالم کے برخورداروں کی سالگرہ بھی شامل تھی۔ کیونکہ اس ٹور میں مسرت عاصی، شہزاد عالم، نور خالق اور ظفر اقبال کے برخوردار بھی ہمارے ساتھ شریک سفر تھے۔
یوں محسوس ہوا کہ ہم شرینگل میں بیٹھے ضرور ہیں، مگر گفتگو کے ذریعے ڈیرہ اسماعیل خان سے چترال اور بنوں سے سوات تک پورا خیبر پختونخوا ہمارے درمیان موجود ہے۔
شرینگل — جہاں راستے کئی سمتوں میں کھلتے ہیں بالآخر ہمارا قافلہ شرینگل پہنچا۔ یہاں پہنچ کر سب سے پہلا احساس یہی تھا کہ قدرت نے اس خطے کو غیر معمولی حسن سے نوازا ہے۔ سر سبز پہاڑ، گھنے درخت، چشمے، دریا، آبشاریں اور ٹھنڈی ہوائیں اس علاقے کو ایک منفرد شناخت دیتے ہیں۔
شرینگل جغرافیائی اعتبار سے بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ ایک سمت چترال کی طرف راستے جاتے ہیں، دوسری طرف کالام سے رابطہ بنتا ہے، جبکہ آگے وادیٔ کمراٹ کی طرف بھی راستہ جاتا ہے۔ شرینگل سے کمراٹ کا فاصلہ تقریباً 50 کلومیٹر بتایا جاتا ہے۔
یہ علاقہ معدنی وسائل کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جاتا ہے، یعنی قدرت نے اسے صرف حسن ہی نہیں بلکہ قدرتی وسائل سے بھی نوازا ہے۔
جمیل روغانی — سفر کا سب سے بڑا میزبان اس سفر کو یادگار بنانے میں ہمارے اپر دیر کے ساتھی جمیل روغانی کا کردار سب سے نمایاں تھا۔ انہوں نے پورے دورے کی بھرپور میزبانی کی اور قیام و طعام سمیت دیگر انتظامات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
شرینگل میں ہمارے قیام کا انتظام ایک انتہائی خوبصورت اور کشادہ گھر میں کیا گیا۔ تقریباً مکمل طور پر لکڑی سے تعمیر کیا گیا یہ گھر اپنی طرزِ تعمیر، متعدد کمروں اور سہولیات کے باعث خود بھی دیدنی تھا۔
یہ گھر جمیل روغانی کے انتہائی قریبی عزیز رحمت اللہ روغانی کا تھا، جنہوں نے جمیل روغانی کی سفارش پر ہمارے قافلے کی میزبانی کی۔ رحمت اللہ روغانی کی محبت بھری ضیافت نے جس خلوص اور فراخ دلی سے ہماری میزبانی کی، وہ اپر دیر کی روایتی مہمان نوازی کی بہترین مثال تھی۔
ہمارے لیے ایک دنبہ ذبح کرکے ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف کھانوں کا بھرپور انتظام تھا اور کسی بھی لمحے یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہم کسی اجنبی جگہ پر ہیں۔
شام کو موسیقی کا بھی شاندار پروگرام ہوا۔ ساتھیوں نے خوب لطف اٹھایا، گپ شپ ہوئی، ہنسی مذاق ہوا اور ایک طویل عرصے بعد سب نے بے فکری کے ساتھ کچھ وقت گزارا۔
ہم نے اسی گھر میں رات بھی گزاری۔ اس میزبانی میں حنیف اللہ اور ملاکنڈ سے ہمارے ساتھی خالد اقبال نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
لوکاسا — سفر کی ایک اور خوبصورت یاد اسی دوران جمیل روغانی ہمیں دریائے کمراٹ کے کنارے لوکاسا ہوٹل بھی لے گئے، جہاں ساتھیوں نے خوبصورت ماحول میں مزید وقت گزارا۔ گپ شپ، ہنسی مذاق اور دوستوں کی محفل نے اس سفر کو مزید یادگار بنا دیا۔
شرینگل کا دوسرا رخ شرینگل کا حسن دیکھتے ہوئے ایک سوال بھی ذہن میں آتا ہے: اتنی خوبصورتی اور قدرتی وسائل رکھنے والے علاقے میں بنیادی سہولیات ابھی تک اتنی محدود کیوں ہیں؟
بجلی کی فراہمی بہت کم ہے۔ کئی لوگ سولر سسٹم کے ذریعے اپنی بنیادی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔
قدرت نے یہاں پانی کے بے شمار وسائل دیے ہیں—چشمے، دریا اور آبشاریں—مگر بنیادی سہولیات کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ سڑکوں کا انفراسٹرکچر بھی اس علاقے کی سیاحتی صلاحیت کے مقابلے میں ناکافی محسوس ہوتا ہے۔ رات کے وقت بعض راستے مناسب روشنی سے محروم ہیں۔ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولت بھی کئی مقامات پر کمزور ہے۔ ہوٹلوں کی تعداد اور معیار میں بھی مزید بہتری کی گنجائش ہے، جبکہ مقامی بازار ابھی اس سطح تک ترقی نہیں کر سکے جو بڑے سیاحتی مراکز میں نظر آتی ہے۔
جنگلات اور قدرتی وسائل کی حفاظت اس خطے میں درختوں اور جنگلات کی اہمیت نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔درختوں کی کٹائی کی حوصلہ شکنی کے لیے سخت جرمانے اور اقدامات کیے جاتے ہیں۔ یہ کوشش قابلِ تحسین ہے، کیونکہ پہاڑی علاقوں میں جنگلات نہ صرف حسن کا حصہ ہوتے ہیں بلکہ ماحول، پانی اور قدرتی توازن کے محافظ بھی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی اور سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحول اور جنگلات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔
کمراٹ اور شرینگل — سیاحت کا بڑا امکان کمراٹ پہلے ہی موسمِ گرما میں بڑی تعداد میں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگر شرینگل اور کمراٹ سمیت پورے خطے کا روڈ انفراسٹرکچر بہتر کیا جائے تو سیاحت کے امکانات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔ بہتر سڑکیں، معیاری ہوٹل، منظم بازار، پارکنگ، صفائی، روشنی، موبائل اور انٹرنیٹ کوریج، بنیادی صحت کی سہولیات اور سیاحتی مقامات پر مناسب انتظامات نہ صرف سیاحوں کو سہولت دیں گے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔
یہ خطہ اس قابل ہے کہ مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے اسے پاکستان کے نمایاں سیاحتی مراکز میں شامل کیا جائے۔
اصل خوبصورتی — یہاں کے لوگ تمام قدرتی حسن اپنی جگہ، لیکن شرینگل کی سب سے بڑی طاقت یہاں کے لوگ ہیں۔
یہ ایک پُرامن علاقہ ہے اور یہاں کے لوگ انتہائی محبت کرنے والے، خلوص رکھنے والے اور مہمان نواز ہیں۔
ہم نے جس محبت اور گرمجوشی کا تجربہ کیا، اس نے یہ احساس مزید گہرا کیا کہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کی اصل خوبصورتی صرف پہاڑوں اور وادیوں میں نہیں، لوگوں کے دلوں میں بھی ہے۔
ایک ٹیم، ایک سفر، ایک یاد اس سفر کے اختتام پر ایک بات بہت واضح تھی کہ کوئی بھی کامیاب پروگرام کسی ایک شخص کی کاوش نہیں ہوتا۔ میری ذمہ داری بطور ٹیم لیڈر اس پورے سفر کو پشاور سے شرینگل تک لے جانے، وہاں قیام و سرگرمیوں کو مربوط رکھنے اور پھر ساتھیوں کے ساتھ واپسی تک اس سفر کی قیادت کرنا تھی، لیکن اس سفر کی اصل روح ٹیم ورک تھی۔ کسی نے بجٹ سنبھالا، کسی نے خریداری کی، کسی نے کوآرڈینیشن کی، کسی نے قافلے کے انتظام میں مدد کی، کسی نے محفل کو زندہ رکھا، کسی نے میزبانی کی اور کسی نے سفر کی یادوں کو مزید خوبصورت بنایا۔ یہی اجتماعی کوشش اس میٹ اَپ کو محض ایک ٹور کے بجائے ایک یادگار تجربہ بنانے میں کامیاب ہوئی۔
عماد یوسف صاحب اور ادارے کا شکریہ یہ سفر اس لیے بھی اہم تھا کہ ARY News انتظامیہ نے اپنے ساتھیوں کو معمول کی پیشہ ورانہ مصروفیات سے ہٹ کر ایک دن تفریح، باہمی میل جول اور رفاقت کے لیے دیا۔ اس سلسلے میں ادارے کے صدر جناب عماد یوسف صاحب کا خصوصی شکریہ، جن کی اجازت اور حوصلہ افزائی سے یہ دورہ ممکن ہوا۔
ایک مضبوط میڈیا ادارے کی اصل طاقت اس کے لوگ ہوتے ہیں، اور ایسے مواقع ان لوگوں کے درمیان اعتماد، دوستی، احترام اور ٹیم اسپرٹ کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔
اختتامیہ — خبر سے باہر ایک خوبصورت دن شرینگل کا سفر ختم ہوگیا، مگر اس کی یادیں شاید بہت دیر تک ہمارے ساتھ رہیں گی۔
یہ صرف ایک سالانہ میٹ اَپ نہیں تھا۔ یہ پشاور سے اپر دیر تک کا سفر تھا۔ یہ جنوبی خیبر پختونخوا سے شمالی خیبر پختونخوا تک بکھرے ساتھیوں کو ایک جگہ لانے کا موقع تھا۔
یہ ان لوگوں کی پہلی آمنے سامنے ملاقات تھی جو برسوں سے صرف فون اور پیغامات کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔ یہ ایک ایسی محفل تھی جہاں صحافیوں نے خبروں سے ہٹ کر اپنے علاقوں، اپنے مسائل اور پورے خیبر پختونخوا کے حالات پر بات کی۔
یہ جمیل روغانی اور رحمت اللہ روغانی کی محبت بھری میزبانی تھی۔ یہ شہزاد عالم اور نور خالق کی مسکراہٹیں تھیں۔ یہ واحد اور عدنان کی پسِ پردہ محنت تھی۔ یہ حنیف اللہ اور خالد اقبال کا تعاون تھا۔ اور یہ شرینگل کے پہاڑ، دریا، چشمے، آبشاریں اور سرسبز وادیاں تھیں، جنہوں نے اس سفر کو اپنی خوبصورتی سے یادگار بنا دیا۔ ہم خبر تلاش کرنے والے لوگ ہیں۔ مگر اس دن ہم نے خبر سے باہر زندگی کو محسوس کیا۔
اور شاید یہی اس سفر کی سب سے خوبصورت بات تھی کہ شرینگل نے ہمیں صرف اپنے حسین مناظر نہیں دکھائے، بلکہ ہمیں ایک دوسرے کے قریب کیا، اپنے صوبے کے مسائل کو نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیا اور یہ احساس بھی دلایا کہ قدرت نے اگر کسی خطے کو اتنا حسن عطا کیا ہے تو مناسب توجہ، بہتر انفراسٹرکچر اور دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اسے لوگوں کی خوشحالی اور مقامی معیشت کی ترقی کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔
شرینگل کا سفر ختم ہوا، مگر شرینگل کی یادیں ابھی باقی ہیں۔
