• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 3:18 صبح
  • پاکستان

یورپی ممالک جنگ میں وقفہ چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کو دوبارہ مسلح کرنے اور اس کے فوجی ذخائر بھرنے کے لیے وقت مل سکے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو یوکرین کے ساتھ مذاکرات کے دوران جنگ میں عارضی وقفہ نہیں کرے گا۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ لاوروف نے کہا کہ روس مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم مذاکرات کے دوران کسی بھی مرحلے پر اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے الزام عائد کیا کہ یورپی ممالک جنگ میں وقفہ چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کو دوبارہ مسلح کرنے اور اس کے فوجی ذخائر بھرنے کے لیے وقت مل سکے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ روس طویل مدتی اور پائیدار امن کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے تاہم روس کے نزدیک محض جنگ بندی کے بجائے ایسا معاہدہ ضروری ہے جو تنازع کا مستقل خاتمہ کرے۔

روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے نیویارک میں ملاقات کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔

مارکو روبیو اور سرگئی لاوروف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر تقریباً ایک گھنٹے تک ملاقات کی جس میں روس یوکرین جنگ اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات پر گفتگو ہوئی۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ یوکرین جنگ ایک خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ حملوں میں شدت، شہری ہلاکتوں اور علاقائی کشیدگی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے فوری، مکمل اور غیر مشروط جنگ بندی پر زور دیا۔

واضح رہے کہ روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کیا تھا اور تاحال یہ جنگ جاری ہے جس میں دونوں جانب سے ہلاکتوں اور مالی نقصان کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں اور تاحال جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے