• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 3:52 شام
  • پاکستان

بیرسٹر گوہر کا فارمولا ہے کہ ڈائیلاگ ہی ان مسائل کا حل ہے، حکومت کو اس پر آنا پڑے گا، سابق صوبائی وزیر

پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ حکومت کو تھکا تھکا کر مارنا ہماری سیاسی حکمت عملی ہے۔

ہائیکورٹ کے باہر گفتگو کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ اسلام آباد لانگ مارچ ملتوی کرنا سیاسی حکمت عملی ہے، حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں گے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت انا پرستی، ضد اور سیاسی طاقت کے نشے سے نکل کر سوچے۔ حکومت مذاکرات کرتی ہے لیکن ٹی وی چینل پر کرتی ہے، عملی طور پر حکومت مذاکرات کی بات کرے تو مذاکرات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کا فارمولا ہے کہ ڈائیلاگ ہی ان مسائل کا حل ہے، حکومت کو اس پر آنا پڑے گا۔ وفاقی حکومت نے ہزاروں پولیس اہلکار اور کنٹینر لاکر کھڑے کیے ہیں، جبکہ حکومت کو تھکا تھکا کر مارنے کی پالیسی ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کا لاشیں گرانے کا پروگرام تھا، تاہم ہم نے سیاسی حکمت عملی تبدیل کردی ہے اور ہم پرامن جدوجہد کے حامی ہیں۔ حکومت کہتی ہے کہ عوام نہیں نکلے گی تو پھر 65 ہزار پولیس اہلکار اور ہزاروں کنٹینرز کیوں کھڑے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات جائز اور آئینی ہیں۔ ہم عدالتوں کو آزاد اور ان کے فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں علاج فراہم کیا جائے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جاسکتی۔ یہاں صوبائی وزرا کو اٹھایا جارہا ہے، وفاقی حکومت نے جنگل کا قانون بنایا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے متعلق جو بیان دیا، اس کی مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے مریم نواز نے صوبوں سے متعلق بیان دیا کہ مجھے صوبوں سے خطرہ ہے۔ یہ جو بیانیہ بنایا جارہا ہے، اس سے ریاست کمزور ہوتی ہے۔ پولیس ایکٹ صوبے کا معاملہ اور صوبے کا اختیار ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ افسوس ہوتا ہے کہ ایک وفاقی وزیر اٹھ کر کہتا ہے کہ صوبہ یہ قانون سازی نہیں کرسکتا۔ جو قانون سازی صوبے کے عوام کے مفاد میں ہوگی، وہ صوبہ کرے گا، یہ اس صوبے کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایکٹ میں کون سی وہ چیز ہے جو پنجاب اور سندھ پولیس ایکٹ میں نہیں ہے، یہ بتایا جائے۔ آئی جی کو اسپیکر نے بلایا، وہ نہیں آئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس آزاد ہو اور کسی کا پریشر اس پر نہ ہو، اسی لیے یہ قانون سازی کی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے