امریکہ نے افغانستان،عراق ایران، اسرائیل نے فلسطین میں قتل عام کیا، اب سعودی عرب کے خلاف کچھ قوتوں کو ابھارا جارہا ہے
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یمن سے ایک گروہ اٹھ کر سعودی عرب پر حملہ آور ہے، سعودی حکومت کو بتانا چاہتا ہوں پاکستان کا بچہ بچہ حرمین کے دفاع اور تحفظ کیلیے اپنی جانیں دینے کو تیار ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے شاہراہ قائدین پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوٙئے کہا کہ اس تاریخی کانفرنس کے انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔ 52 سال قبل قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر خود کو احمدی اور لاہوری قرار دینے والوں کو غیر مسلم قرار دیا، اس طرح قومی اسمبلی نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کی۔ 6 ستمبر کو ملک کی دفاعی سرحدوں کا تحفظ ہوا تھا، 7 ستمبر کو نظریاتی سرحدوں کا تحفظ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کی سرحدوں، نظریہ اور دینی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔ ہمارے ملک میں اٹھائے جانے والے مسائل کچھ اور ہوتے ہیں اور ان کے پیچھے ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے، میں عالمی قوتوں اور پاکستان کی مقتدرہ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہمیں جو سبق پڑھانا چاہتے ہیں وہ ہمیں قبول نہیں، ہم آپ کے خود ساختہ ایجنڈے اور مقاصد کو خوب جانتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج پاکستان کے دینی مدارس کو نشانے پر رکھا ہوا ہے، تمہارا باپ بھی نہ مدرسے بند کر سکتا ہے نہ مولوی کو بننے سے روک سکتا ہے، یہ نظریاتی اور فکری جنگ ہے، یہ جنگ انگریز بھی ہار گیا تھا آج اس کے ایجنٹ بھی ہار جائیں گے۔ علما، مدرسہ، جمعیت علمائے اسلام، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، وفاق المدارس العربیہ اور اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ یہ سب ملک کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کوشش کی کہ ایران اور امریکہ میں صلح کرا دے، آج یمن سے ایک گروہ اٹھا ہے جو سعودی عرب پر حملہ آور ہے، ہم سعودی عرب کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے جان دینے کو تیار ہے۔ امریکہ نے افغانستان، عراق اور ایران میں اور اسرائیل نے فلسطین میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، اب سعودی عرب کے خلاف کچھ قوتوں کو ابھارا جا رہا ہے۔
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کیلیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ ہے، دفتر خارجہ
مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا، فضل الرحمان
مکہ مکرمہ میں حوثی ڈرون کی وائرل ویڈیو، حقیقت سامنے آگئی
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مقدمہ بہاولپور سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے تک، جب تک ہم زندہ ہیں قادیانیوں کو مسلمان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قادیانی آج بھی سازشوں میں مصروف ہیں۔ آج کچھ خواتین نے اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں بیٹھ کر تحفظ ختم نبوت کے قانون کو کالا قانون قرار دیا، کیا یہ دہشت گردی نہیں۔ قادیانیوں کی سرپرستی میں ناموس رسالت کے قانون کے خلاف ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے اکابر کے وقت سے جدوجہد کر رہے ہیں، بندوق چھوڑ کر جمہوریت کا راستہ اپنایا۔ ہماری پگڑیاں اس لیے ہیں کہ سر اونچا رہے اور سینہ تان کر جدوجہد کرتے رہیں۔
ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا امن تباہ ہو چکا ہے، کے پی کے اور بلوچستان جل رہا ہے، سندھ میں ڈاکو راج ہے، بلوچستان میں حالات خراب ہیں، کوئی محفوظ نہیں۔ ریاست ماں ہوتی ہے، ہم کہتے ہیں ریاست ماں بنے ڈائن نہ بنے۔ ہمارے کچھ دوست مہنگائی کے خلاف دھرنے دیتے ہیں، حکومت سے مذاکرات کرتے ہیں اور مہنگائی اور بڑھ جاتی ہے، عوام ہاتھ جوڑ کر کہتے ہیں آپ یہ دھرنے بند کر دیں۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، لوگ احتجاج کر کے تھک چکے ہیں۔ حکومت صرف صدر اور مقتدرہ کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دھاندلی والے الیکشن نہیں مانتے، شفاف الیکشن دو اور عوام کو فیصلہ کرنے دو، میں عام پاکستانی کے مسائل کے لیے جنگ کر رہا ہوں، اس جنگ میں ہمارا ساتھ دیں۔ سود کے خلاف جنگ کریں، قانون سازی کے بعد اس پر عمل درآمد کریں۔ ہم غلامی نہیں کریں گے۔ آپ ایک ادارہ ہے میں آپ کا احترام کرتا ہوں، سیاست نہ کریں اور نہ مداخلت کریں۔عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔ 15 اکتوبر کو ملتان میں کانفرنس ہوگی۔
