• ستمبر 18, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 18, 2026 9:36 شام
  • پاکستان

شوہر نے میکے سے واپس نہ آنے پر بیوی کی ناک کاٹ دی

’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘

اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد

جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی

تقسیمِ ہند کو عموماً علاقوں کی تقسیم، مہاجرین کی نقل مکانی، خونریزی اور دو ریاستوں کے قیام کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ایک بہت بڑی معاشی ترتیبِ نو بھی تھی۔ اس عمل میں صرف لوگ ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں ہوئے بلکہ ہنر، تجارتی تعلقات، برسوں میں حاصل کیا گیا علم و تجربہ، مالی وسائل اور منڈیوں تک رسائی بھی منتقل ہوئی۔ بالخصوص سندھ میں ایک طرف پہلے سے قائم تجارتی طبقہ رخصت ہوا اور دوسری جانب ایک نیا کاروباری طبقہ یہاں آکر آباد ہوا۔ یہ دوطرفہ تبدیلی پاکستان میں ابتدائی صنعتی ترقی کی رفتار اور بعد میں پیدا ہونے والے تناؤ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

سن 1947 سے پہلے سندھ میں ایک اہم ہندو تجارتی اور پیشہ ور طبقہ موجود تھا، خاص طور پر کراچی، حیدرآباد اور شکارپور میں۔ سندھی تاجروں کے کاروباری روابط صرف صوبے تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کے بعض تجارتی نیٹ ورک پورے ہندوستان، وسطی ایشیا اور سمندر پار علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ تقسیم کے نتیجے میں سندھ سے غیر مسلم آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی، جس میں ان تجارتی اور پیشہ ور برادریوں کے بہت سے لوگ بھی شامل تھے۔ اس طرح صوبے کی شہری تجارتی زندگی میں ایک بڑا خلا پیدا ہوگیا، اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب نئی ریاست اپنی معیشت کی تعمیرِ نو کا آغاز کر رہی تھی۔

تاہم اس نکتے کو بڑی احتیاط سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ سندھی بحیثیت قوم کاروباری صلاحیت سے محروم تھے یا سندھ سے ہجرت کرنے والے تمام ہندو بڑے صنعت کار تھے۔ تقسیم سے پہلے سندھ میں جدید صنعت کا کوئی ایسا بڑا شعبہ موجود نہیں تھا جس کا موازنہ بعد میں قائم ہونے والی صنعتوں سے کیا جا سکے۔ البتہ ہندو برادریاں تجارت، مالیاتی امور، قرض دینے کے کاروبار اور پیشہ ورانہ شعبوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ نمایاں تھیں۔ اس کے برعکس سندھی مسلم اشرافیہ کا بڑا حصہ زراعت، بڑی زمین داری اور جاگیردارانہ سماجی نظام سے وابستہ تھا۔ اس لیے تقسیم نے کاروباری طبقے کی سماجی ساخت تبدیل کی، یہ کسی بھی برادری کی معاشی صلاحیت میں فطری فرق کا ثبوت نہیں تھی۔

اسی خلا میں ایسے مسلم مہاجرین آئے جو اپنے ساتھ نمایاں تجارتی تجربہ رکھتے تھے۔ اس نقل مکانی کا ایک اور اہم پہلو انسانی صلاحیتوں کی منتقلی تھا۔ ہندوستان کے شہری علاقوں سے آنے والے مہاجرین، جو کراچی اور دوسرے شہروں میں آباد ہوئے، اپنے ساتھ تعلیم، خواندگی اور پیشہ ورانہ تجربے کی نسبتاً بلند سطح لے کر آئے۔ یہ صلاحیتیں اس زیادہ تر دیہی آبادی کے مقابلے میں نمایاں تھیں جس کے درمیان وہ آکر آباد ہوئے۔ سن 1951 کی مردم شماری میں بھی یہ تعلیمی برتری نظر آتی ہے، بالخصوص سندھ میں، جہاں مہاجرین کی بڑی تعداد شہروں میں آباد تھی۔ ان میں سے بہت سے لوگ ہندوستان کے ایسے ترقی یافتہ شہری مراکز سے آئے تھے جہاں تعلیم، سرکاری ملازمت، پیشہ ورانہ خدمات اور تجارت کی مضبوط روایات موجود تھیں۔

اس طرح ان کی آمد نے پاکستان کو تعلیم یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی پر قابو پانے میں مدد دی۔ تقسیم کے نتیجے میں بہت سے ہندو اور سکھ پیشہ ور افراد، تاجر اور ہنر مند مغربی پاکستان سے چلے گئے تھے۔ لہٰذا مہاجرین کی کاروباری سرگرمیوں کو ان کے علمی اور پیشہ ورانہ سرمائے سے بھی تقویت ملی۔ تعلیم یافتہ منتظمین، پیشہ ور افراد، تکنیکی ماہرین، مینیجرز اور تجارتی تجربہ رکھنے والے خاندانوں نے نئی ریاست کے اداروں اور پھیلتی ہوئی نجی معیشت کو چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بالخصوص کراچی میں خواندگی، شہری تجربے اور کاروباری صلاحیت کے اس امتزاج نے شہر کو پاکستان کا انتظامی، مالیاتی اور صنعتی مرکز بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

میمن، خوجہ اسماعیلی، بوہری اور دیگر مسلم تجارتی برادریاں گجرات، کاٹھیاواڑ، کچھ، بمبئی اور مغربی ہندوستان کے دوسرے علاقوں سے آئیں، جب کہ پنجابی اور دیگر کاروباری گروہ بھی جلد اہمیت اختیار کر گئے۔ یہ سب لوگ بڑی دولت اور سرمایہ لے کر آنے والے صنعت کار نہیں تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ تاجر اور کاروباری تھے، لیکن وہ اپنے ساتھ ایسی صلاحیتیں اور وسائل لائے جو سرمایہ جتنی ہی اہمیت رکھتے تھے۔ ان میں کاروباری روابط، منڈیوں کا علم، خاندانی کاروبار کی روایات، انتظامی تجربہ، بین الاقوامی تعلقات اور تجارتی خطرات مول لینے کی صلاحیت شامل تھی۔

یہ لوگ ایک ایسے شہر میں آئے جہاں پہلے ہی کئی اہم تجارتی برادریاں موجود تھیں۔ ان میں کراچی کی قدیم پارسی برادری بھی شامل تھی، جس نے تقسیم سے پہلے شہر کی تجارتی، پیشہ ورانہ اور شہری ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ سندھ کے شہری علاقوں میں قائم مسیحی مشنری اسکولوں نے بھی جدید تعلیم تک رسائی بڑھانے اور زیادہ تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ تربیت رکھنے والی آبادی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم مہاجر کاروباری طبقے کی کامیابی کو اس معاشرے سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا جس نے اسے قبول کیا۔ سندھ، اور بالخصوص کراچی، نے وہ مادّی، ادارہ جاتی اور انسانی ماحول فراہم کیا جس میں مہاجرین کا سرمایہ اور ان کی صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں۔ نئے آنے والوں کو ایک ایسا قائم شدہ ساحلی شہر ملا جہاں تجارتی بنیادی ڈھانچہ، نقل و حمل کے روابط، شہری ادارے اور متنوع آبادی پہلے سے موجود تھی۔ کراچی کی معاشی زندگی میں ان مقامی آبادیوں کی خدمات تقسیم سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھیں۔

مقامی آبادی اور اداروں نے مہاجرین کی غیر معمولی تعداد کو اپنے اندر سمویا، اگرچہ اتنی تیز رفتار آبادیاتی تبدیلی کے ساتھ دباؤ اور تناؤ پیدا ہونا ناگزیر تھا۔ مہاجر کاروباری طبقہ اپنے ساتھ تجارتی روابط، مہارت، تعلیم اور خطرات مول لینے کی صلاحیت لایا، جب کہ مقامی معیشت نے زمین، افرادی قوت، بنیادی ڈھانچہ، منڈیاں اور ایک وسیع معاشی پس منظر فراہم کیا۔ یہ تبدیلی اس لیے یک طرفہ نہیں بلکہ باہمی تھی۔ مہاجرین نے جدید کراچی کی تعمیر میں مدد دی، لیکن کراچی اور سندھ نے بھی وہ بنیاد فراہم کی جس پر مہاجرین کی کاروباری کامیابی ممکن ہوئی۔ آخرکار یہ معاشی کامیابی صرف کسی ایک مہاجر برادری کی کامیابی نہیں رہی بلکہ کراچی، سندھ اور پورے پاکستان کی کامیابی بن گئی۔

لہٰذا پاکستان نے اپنے کاروباری طبقے کو بالکل ابتدا سے پیدا نہیں کیا تھا، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ مہاجر تاجروں کو پہلے سے قائم صنعتی معیشت ورثے میں مل گئی تھی۔ وہ ایک ایسے ملک میں آئے جہاں جدید صنعت کی بنیاد نہایت محدود تھی اور انہوں نے نئی ریاست کی پیدا کردہ معاشی سہولتوں اور مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے وسعت دی۔ حکومت نے ترقیاتی منصوبہ بندی، درآمدات سے تحفظ، صنعتی اجازت ناموں، ترقیاتی قرضوں، مالی سہولتوں، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکس میں رعایتوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صنعتی ترقی نہ تو مکمل طور پر ریاست کی پیداوار تھی اور نہ ہی صرف نجی شعبے کی کوششوں کا نتیجہ۔ اہم پہلوؤں سے دیکھا جائے تو یہ کاروباری طبقے اور ترقیاتی کردار ادا کرنے والی ریاست کے درمیان شراکت داری تھی۔

یہ معاشی تبدیلی 1960 کی دہائی کی مشہور ترقی سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی۔ 1950 کی دہائی میں پاکستان کی مجموعی معاشی کارکردگی سست زرعی ترقی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے محدود رہی، لیکن صنعتی شعبے کی توسیع غیر معمولی تھی۔ اس دہائی میں صنعت سازی کے شعبے نے سالانہ تقریباً 7.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جب کہ بڑی صنعتوں کی شرحِ نمو اس سے تقریباً دگنی رہی۔ صنعتی پیداوار دگنی سے بھی زیادہ ہوگئی اور بڑی صنعتوں کی حقیقی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ پاکستان نے تیزی سے ایسی صنعتیں قائم کیں جو آزادی کے وقت نہ ہونے کے برابر تھیں۔ اس اعتبار سے 1950کی دہائی کو پاکستان کی صنعتی ترقی کے عملی آغاز کا عشرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگلی دہائی میں اس رفتار اور ترقی کے دائرے میں نمایاں وسعت آئی۔ عالمی بینک کے تاریخی جائزوں کے مطابق 1960 سے 1965 کے دوران پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں سالانہ تقریباً 6.6 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ 1965 سے 1970 کے درمیان یہ شرح تقریباً 6 فیصد رہی۔ اسی طرح 1960 کی دہائی کے پہلے نصف میں صنعتی پیداوار تقریباً 12 فیصد سالانہ اور دوسرے نصف میں تقریباً 8 فیصد سالانہ بڑھی۔ یہ کارکردگی ایک ایسے ملک کے لیے غیر معمولی تھی جس نے محدود صنعتی بنیادی ڈھانچے، انتظامی اور تکنیکی صلاحیتوں کی کمی اور زراعت پر بہت زیادہ انحصار کرنے والی معیشت کے ساتھ سفر شروع کیا تھا۔ جو عمل 1950 کی دہائی میں تیز رفتار صنعتی توسیع کے طور پر شروع ہوا، وہ 1960 کی دہائی تک پہنچتے پہنچتے ایک وسیع معاشی تبدیلی میں تبدیل ہو چکا تھا۔

اس کارکردگی کی اہمیت دوسرے ایشیائی ممالک کے ساتھ موازنہ کرنے سے مزید واضح ہوتی ہے۔ عالمی بینک کے اْس دور کے ایک جائزے کے مطابق 1958 سے 1963 کے درمیان پاکستان کی صنعتی پیداوار میں تقریباً 71 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے مقابلے میں اقوام متحدہ کے متعلقہ علاقائی گروپ میں شامل ایشیائی معیشتوں (جاپان کے سوا) کی صنعتی پیداوار میں تقریباً 55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایسے موازنے میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ پاکستان نے صنعتی ترقی کا آغاز بہت محدود سطح سے کیا تھا۔ اس کے باوجود یہ اعداد اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس دور کے علاقائی معیار کے مطابق پاکستان کی صنعتی ترقی کی رفتار خاصی تیز تھی۔

صنعتی توسیع صرف روزمرہ استعمال کی سادہ اشیا تک محدود نہیں رہی۔ پاکستان نے درآمدات کے متبادل کے طور پر مصنوعات تیار کرنے کے ابتدائی مرحلے سے آگے بڑھتے ہوئے درمیانی درجے کی مصنوعات اور سرمایہ جاتی سامان کی پیداوار شروع کی۔ ان شعبوں میں انجینئرنگ، کیمیکل، کھاد اور سیمنٹ کی صنعتیں شامل تھیں۔ کراچی ملک کی سب سے بڑی بندرگاہ، مالیاتی مرکز اور صنعتی شہر بن گیا، جب کہ پنجاب میں بھی اہم صنعتی مراکز قائم ہوئے۔ معیشت اب بھی کئی حوالوں سے ساختی کمزوریوں کا شکار تھی، لیکن 1960 کی دہائی کے اختتام تک پاکستان میں ایک نجی صنعتی شعبہ اور مقامی کاروباری گروہوں کا ایسا طبقہ پیدا ہو چکا تھا جو آزادی کے وقت اس پیمانے پر موجود نہیں تھا۔

اس صنعتی اشرافیہ کی سماجی ساخت بھی قابلِ غور ہے۔ یہ کبھی بھی صرف اردو بولنے والوں پر مشتمل ایک لسانی گروہ نہیں تھا۔ اس کا ایک بڑا حصہ گجرات، کاٹھیاواڑ، کچھ اور بمبئی سے آنے والی مسلم تجارتی برادریوں، بالخصوص میمن، خوجہ اور بوہری خاندانوں پر مشتمل تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ کراچی میں آباد ہوئے اور اسے اپنی تجارتی، مالیاتی اور بڑھتی ہوئی صنعتی سرگرمیوں کا مرکزی مقام بنایا۔

اگرچہ ان برادریوں میں گجراتی، میمنی، کچھی اور ان سے ملتی جلتی زبانیں اہم رہیں، لیکن وقت کے ساتھ ان کے بہت سے لوگ کراچی کی وسیع تر اردو بولنے والی آبادی اور بعد میں بننے والی مہاجر سماجی اور سیاسی شناخت کا حصہ بن گئے۔ ان کے ساتھ پنجاب اور ملک کے دوسرے علاقوں سے تعلق رکھنے والے اہم کاروباری گروہ بھی موجود تھے۔ کراچی صرف پاکستان کی سب سے بڑی بندرگاہ اور مالیاتی مرکز ہی نہیں بنا بلکہ مہاجر تجارتی سرمائے، بینکاری، صنعت اور کاروباری صلاحیتوں کے ملاپ کا سب سے بڑا مرکز بھی بن گیا۔

پاکستان کی سیاسی معیشت پر میتھیو میک کارٹنی کی تحقیق میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اہم تجارتی اور صنعتی شعبوں پر غالب آنے والے مشہور ”22 خاندانوں“ میں سندھی شامل نہیں تھے۔ تاہم اس عدم موجودگی کو یہ سمجھنے کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے کہ سندھ میں کوئی کاروباری خاندان موجود ہی نہیں تھا۔ زیادہ محتاط اور درست نتیجہ صرف یہ ہے کہ مقامی سندھی مسلم خاندان اس دور کے سب سے بڑے صنعتی گروہوں میں نمایاں طور پر کم نمائندگی رکھتے تھے۔

اس صورتِ حال کی ایک وجہ سندھ کے تجارتی معاشرے میں تقسیم کے نتیجے میں آنے والی تبدیلی تھی۔ پہلے سے قائم ہندو تجارتی طبقہ بڑی حد تک سندھ سے جا چکا تھا، جب کہ کاروباری تجربہ رکھنے والے مسلم مہاجرین کراچی کی نئی صنعتی معیشت میں تیزی سے مرکزی حیثیت اختیار کر رہے تھے۔ اس صورتحال میں ایک نمایاں تضاد موجود تھا۔ تقسیم نے سندھ کو اس کے ایک اہم مقامی تجارتی طبقے سے محروم کردیا، لیکن اسی تقسیم نے ایسے حالات بھی پیدا کیے جن میں ایک دوسری تجارتی طور پر تجربہ کار آبادی نے یہاں اپنے قدم جمائے اور کراچی کو نئی ریاست کا معاشی مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

مشرقی پاکستان کو ایک مختلف مگر اس سے ملتے جلتے مسئلے کا سامنا تھا۔ مشرقی پاکستان پاکستان کی برآمدی معیشت میں مرکزی اہمیت رکھتا تھا، خصوصاً پٹ سن کی پیداوار کے باعث، لیکن بڑی صنعتوں اور مالیاتی اداروں کی اعلیٰ سطح پر بنگالی ملکیت محدود رہی۔ مشرقی پاکستان میں کام کرنے والے بڑے صنعتی اداروں کے مالکان اکثر غیر بنگالی تھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بنگال میں کاروباری صلاحیت رکھنے والے لوگ موجود نہیں تھے۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ معاشی ترقی قومی معیشت کے فیصلہ کن شعبوں میں متناسب بنگالی سرمایہ دار طبقہ پیدا نہیں کر سکی۔ اس عدم توازن نے علاقائی شکایات میں ایک معاشی پہلو بھی شامل کر دیا، جو بالآخر سیاسی طور پر نہایت سنگین ثابت ہوا۔

اسی پس منظر میں محبوب الحق کا مشہور ”22 خاندانوں“ کا تصور پاکستان کی سیاسی گفتگو کا حصہ بنا۔ محبوب الحق نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ صنعتی، بینکاری اور انشورنس کی طاقت نسبتاً کم تعداد میں خاندانی گروہوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہوگئی تھی۔ یہ ایک حقیقی مسئلہ تھا۔ تیز رفتار معاشی ترقی نے دولت تو پیدا کر دی تھی، لیکن پاکستان کے ادارے ابھی یہ نہیں سیکھ پائے تھے کہ معاشی مواقع کو وسیع پیمانے پر کیسے پھیلایا جائے، اجارہ داری کو کس طرح قابو میں رکھا جائے، مالی وسائل تک رسائی میں کیسے اضافہ کیا جائے اور خصوصی مراعات تک رسائی کو مستقل معاشی غلبے میں تبدیل ہونے سے کس طرح روکا جائے۔ تاہم بعد میں محبوب الحق نے ایک اور نہایت اہم وضاحت بھی پیش کی۔ ان کے مطابق 22 خاندان اس نظام کی ”وجہ نہیں بلکہ علامت“ تھے جس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ دولت کا چند ہاتھوں میں جمع ہونا اصلاحات کا تقاضا کرتا تھا، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ نجی کاروباری نظام ہی مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا۔

زیادہ پائیدار راستہ یہ ہوتا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے فوائد زیادہ لوگوں تک پہنچائے جاتے۔ اس مقصد کے لیے مضبوط مسابقت، منصفانہ اور بتدریج بڑھنے والے ٹیکس، قرضوں تک وسیع رسائی، بہتر کاروباری نظم و نسق، زیادہ ترقی یافتہ سرمایہ منڈیاں، مزدوروں کا تحفظ، نئے کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دینا ضروری تھا۔ اہم حکمتِ عملی یہ ہونی چاہیے تھی کہ مزید سیکڑوں اور بالآخر ہزاروں کاروباری افراد کیسے پیدا کیے جائیں۔ ان میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ایسے نئے کاروباری طبقات بھی شامل ہوتے جو پہلے سے قائم بڑے صنعتی اداروں کا مقابلہ کر سکتے۔

پاکستان کے پہلے دو عشرے اس لیے ہمیں ایک نہیں بلکہ دو اہم سبق دیتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ کاروباری مہارت، نقل مکانی، حکومتی پالیسی اور سرمایہ سازی مل کر ایک کمزور نوآبادیاتی معیشت کو حیرت انگیز رفتار سے تبدیل کر سکتے ہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اگر کامیاب صنعتی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی طاقت کو چند ہاتھوں میں مستقل طور پر مرتکز ہونے دیا جائے تو اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

1960 کی دہائی کے اختتام تک پاکستان کو اپنے قائم کردہ کاروباری اور صنعتی نظام کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اسے زیادہ وسیع اور سب کے لیے قابلِ رسائی بنانے کی ضرورت تھی۔ لیکن 1970 کی دہائی میں جو کچھ ہوا، اس نے ضروری اصلاحات کو ایک کہیں زیادہ انتشار پیدا کرنے والے تجربے میں تبدیل کر دیا اور آنے والے کئی برسوں کے لیے ملک کی ترقی کا راستہ بدل کر رکھ دیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے