• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 10:28 شام
  • پاکستان

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

عام طور پر لوگ بیرون ملک قانونی قیام حاصل کرنے کیلیے غلط فہمیوں کا شکار ہوتے ہیں اور معلومات نہ ہونے کے سبب مشکلات میں پھنس جاتے ہیں۔

یاد رکھیں ! ایمنسٹی یا ریگولرائزیشن اسکیم کی امید پر کسی بھی ملک میں غیر قانونی قیام کرنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں گرفتاری، ملک بدری اور مستقبل کے ویزے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بیرون ملک طویل عرصے تک غیر قانونی طور پر رہنے کے حوالے سے ایک عام تاثر پایا جاتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ غیر قانونی تارک وطن کو کسی نہ کسی مرحلے پر خود بخود قانونی حیثیت مل جاتی ہے، تاہم امیگریشن قوانین کے عمومی اصول کے مطابق محض طویل غیر قانونی قیام قانونی حیثیت حاصل کرنے کی بنیاد نہیں بنتا۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق بعض ممالک ماضی میں مخصوص حالات کے تحت ایمنسٹی یا ریگولرائزیشن پروگرام متعارف کرا چکے ہیں، لیکن ایسی اسکیمیں مستقل یا معمول کا امیگریشن راستہ نہیں ہوتیں۔

یہ عموماً غیر معمولی اور محدود مدت کے حکومتی اقدامات ہوتے ہیں، جن کے لیے مخصوص شرائط، مقررہ تاریخیں اور قابلِ قبول دستاویزات یا دیگر ثبوت درکار ہوتے ہیں۔

اس لیے ماضی میں کسی ملک میں ریگولرائزیشن اسکیم متعارف کرائے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ مستقبل میں بھی لازماً ایسی کوئی اسکیم آئے گی، یا ہر غیر قانونی تارک وطن اس کا اہل ہوگا۔

اسی طرح کسی ممکنہ اسکیم کا انتظار کرتے ہوئے طویل عرصے تک غیر قانونی حیثیت برقرار رکھنا بھی قانونی حیثیت ملنے کی ضمانت نہیں دیتا۔

ممکنہ ریگولرائزیشن پروگرام میں اہلیت کے لیے ملک میں داخلے کی مخصوص تاریخ، کم از کم مدتِ قیام، شناخت، رہائش کے ثبوت، صاف مجرمانہ ریکارڈ، ملازمت، خاندانی تعلقات یا دیگر قانونی شرائط عائد کی جاسکتی ہیں۔ شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں کئی سال سے ملک میں مقیم شخص کی درخواست بھی مسترد ہوسکتی ہے۔

غیر قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے نتیجے میں تارک وطن کو مختلف مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے۔ ان میں کم اجرت، جبری مشقت اور استحصال، تنخواہ کی عدم ادائیگی اور شکایت درج کرانے میں مشکلات، صحت، رہائش اور بینکاری سمیت بعض بنیادی خدمات تک محدود رسائی شامل ہوسکتی ہے۔

اس کے علاوہ غیر قانونی قیام کی صورت میں گرفتاری، امیگریشن حراست، ملک بدری یا جبری واپسی کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔

بیورو کے مطابق بعض حالات میں دوبارہ ملک میں داخلے پر پابندی لگ سکتی ہے جبکہ مستقبل میں قانونی ویزا یا امیگریشن درخواستوں کے دوران بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

امیگریشن سے متعلق معاملات میں اس لیے محض افواہوں، سوشل میڈیا کی اطلاعات یا مستقبل میں ممکنہ ایمنسٹی کی امید پر فیصلہ کرنے کے بجائے متعلقہ ملک کے موجودہ قوانین، درست ویزا اور تصدیق شدہ قانونی راستوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

مستقبل میں پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کسی فرد کے لیے قانونی حیثیت یا درخواست کی منظوری کا خودکار حق نہیں بناتی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے