• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 2:56 شام
  • پاکستان

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

امریکا میں ’شارک‘ سڑکوں پر تیرنے لگیں

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

(یکم اکتوبر 2026): بچے اگر اب کوئی جرم کریں گے تو اس کی سزا ان کے والدین کو دی جائے گی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت جرائم میں کمی لانے کے لیے ایک اصلاحاتی منصوبہ بنایا ہے، جس کے تحت نوعمر بچوں کے جرائم کی سزا اب ان کے والدین کو بھگتنا ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں بڑھتے جرائم پر قابو پانے کے لیے برطانوی حکومت نے یوتھ جسٹس سسٹم میں اصلاحات کا منصوبہ بنایا ہے۔

ان مجوزہ اصلاحات کے تحت بچوں کے جرائم کی صورت میں والدین کو بھی مختلف پابندیوں اور اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس میں کئی سہولتوں کا ان سے واپس لیا جانا بھی شامل ہے۔

یوتھ جسٹس منسٹر جیک رچرڈ نے کہا ہے کہ والدین کو متناسب انداز میں جوابدہ بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار موثر انداز میں ادا کریں۔

موجودہ نظام کے تحت ایسے احکامات والدین یا سرپرستوں کو بچوں کے رویے سے نمٹنے کے لیے کونسلنگ سیشنز میں شرکت کا پابند بنا سکتے ہیں، جبکہ حکم کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

جیک رچرڈ کے مطابق مجوزہ نظام میں والدین کو قید کی سزا صرف انتہائی سنگین معاملات میں دی جا سکے گی، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔

دوسری جانب اصلاحات کے ناقدین کا کہنا ہے کہ والدین کو سزا دینے کے بجائے انہیں رضاکارانہ طور پر بچوں کی اصلاح اور معاونت کے عمل میں شامل کرنا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔

الائنس فار یوتھ جسٹس کے چیف ایگزیکٹو جیس مولن نے سوال اٹھایا کہ اگر والدین کو قید کیا گیا تو وہ اپنے بچوں کو ضروری مدد اور معاونت کیسے فراہم کر سکیں گے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے