پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
حیرت اور تخیل کا انوکھا داستان طراز ایڈگر ایلن پو، ہماری اس دنیا میں ان دونوں عناصر کی کارفرمائی کے قصے سناتا ہے، بلکہ اس نے کہانی کو بھی ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے۔ انیسویں صدی کا امریکی ادیب ایڈگر ایلن پو مختصر افسانے کا باوا آدم ہے۔ وہ شاعر اور نقاد کی حیثیت سے بھی ممتاز ہے، مگر اس کا عجیب و غریب کارنامہ یہ ہے کہ اس نے لمبی چوڑی کہانیوں کو تراش خراش کے اور زندگی کا جوہر بھر کر مختصر افسانے کو ایک باقاعدہ ادبی صنف کے طور پر روشناس کروایا اور پھر اس صنف کو اعتبار بخشا۔ مختصر افسانے نے پو کے بعد بہت ترقی کی مگر پو اس صنف کے ان گنے چنے مصنفوں میں سے ہے جو اپنے طرز کے موجد بھی تھے اور خاتم بھی۔
ایلن پو کے یومِ وفات پر ہم نے آصف فرخی کے مختصر مضمون سے یہ ابتدائیہ شامل کیا ہے اور یہاں پو کی زندگی کا احوال بتاتے ہوئے اس کی ایک کہانی بھی نقل کی جارہی ہے۔ ایلن پو 7 اکتوبر 1849ء کو چل بسا تھا۔ بدقسمتی سے اس عظیم کہانی کار کی زندگی کا انجام بڑا درد ناک ہوا۔ اسے ایک گلی میں مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ جرم و سزا، حیرت ناک واقعات، سنسنی خیزی اور دہشت انگیز کہانیوں کے خالق ایڈگر ایلن پو نے 1809ء میں بوسٹن، امریکا میں آنکھ کھولی۔ اس کے والدین تھیٹر سے وابستہ تھے اور اداکاری ان کی پہچان تھی۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ابھی پو اپنے پیروں پر چلنا بھی شروع نہیں ہوا تھا کہ والد نے اس کنبے کو چھوڑ دیا اور اس کے اگلے ہی برس ایک بیماری نے ایلن پو سے اس کی ماں کو بھی چھین لیا۔ اسے ایک رشتہ دار نے پالا پوسا اور حصولِ تعلیم کے لیے برطانیہ بھیج دیا لیکن وہ تعلیم مکمل نہ کرسکا۔ گھریلو ناچاقیوں اور اپنے غصّے، عجیب و غریب عادات، بدمزاجی اور شراب نوشی کی عادت کی وجہ سے پو ہمیشہ دوسروں کے لیے ناقابل قبول رہا۔ ایڈگر ایلن پو نے زندگی میں کئی دکھ اور صدمات اٹھائے تھے، جن کا اثر اس کے دماغ پر پڑا اور کہتے ہیں کہ اسی کے سبب وہ ذہنی پیچیدگیوں کا شکار ہوگیا اور ایک روز اپنے انجام کو پہنچا۔
ایڈگر ایلن پو کے تخلیقی سفر کا آغاز کب ہوا اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن 1827ء میں اس کی نظموں کا مجموعہ ‘اے بوسٹونین‘ (A Bostonian) کے قلمی نام سے شایع ہوا۔ اسی برس وہ ایک فرضی نام سے فوج میں بھرتی ہو گیا، لیکن وہاں سے نکال دیا گیا۔ اس کے بعد وہ کہانیاں لکھنے کے ارادے سے نیویارک چلا آیا اور وہاں ایک اخبار میں نوکری بھی مل گئی۔ اسی زمانہ میں اس نے تخلیقی کام کیا اور کئی مضامین بھی سپردِ قلم کیے۔
‘The Masque of the Red Death’ ایڈگر ایلن پو کی مشہور کہانی ہے جو علامتی ہے اور 1842ء میں شائع ہوئی تھی۔ یہ اس شہزادے کی کہانی ہے جو ایک جان لیوا وبا سے بچنے کے لیے اپنے ساتھیوں سمیت ایک قلعے میں محصور ہوگیا ہے۔ یہ کہانی طاقت، دولت اور انسانی غرور کے مقابلے میں موت کی ناگزیر حقیقت کو نہایت مؤثر علامتی انداز میں پیش کرتی ہے اور اس میں سماجی طنز بھی ہے۔ اس کے مترجم محمد شہزاد ہیں۔ کہانی پڑھیے۔
سرخ موت نے ملک کو بہت عرصے سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس سے پہلے اتنی ہولناک اور جان لیوا وبا کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔ گویا خون ہی اس کی علامت بھی تھا اور اس کی پہچان بھی۔۔۔ خون کی وہی سرخی اور وہی دہشت جو دیکھنے والے کے دل میں سنسنی بھر دے۔ اچانک جسم میں تیز درد اٹھتا، پھر چکر آتے، اور اس کے فوراً بعد بدن کے مساموں سے خون پھوٹنے لگتا۔۔۔ اور یوں زندگی کا چراغ گل ہو جاتا۔ مریض کے جسم، خصوصاً چہرے پر پڑنے والے سرخ دھبے گویا ایک ایسی مہر تھے جو اسے دوسروں کی مدد اور ہمدردی دونوں سے کاٹ کر الگ کر دیتے تھے۔ اور یہ سب کچھ۔۔۔ بیماری کا حملہ، اس کا بڑھنا اور پھر موت تک پہنچ جانا۔۔۔ محض آدھے گھنٹے کے مختصر سے وقفے میں مکمل ہو جاتا تھا۔
لیکن شہزادہ پروسپرو نہایت خوش مزاج، بے خوف اور دانشمند طبیعت کا مالک تھا۔ جب اس کی سلطنت کا آدھا حصہ اس ہولناک وبا کی نذر ہو چکا تو اس نے اپنے دربار کے ہزاروں صحت مند، ہنس مکھ اور ہلکے پھلکے مزاج کے امرا و امیر زادیوں کو اپنے پاس جمع کیا، اور سب کو لے کر ایک وسیع و عریض قلعہ نما خانقاہ کی تنہائی میں جا پناہ لی۔ یہ عمارت نہایت عظیم الشان اور شان دار تھی، جو خود شہزادے کے عجیب و غریب مگر شاہانہ ذوق کی تخلیق تھی۔ اس کے گرد ایک بلند و مضبوط فصیل کھڑی تھی، اور اس فصیل میں لوہے کے بھاری دروازے نصب تھے۔ دربار کے لوگوں نے اندر داخل ہو کر بھاری ہتھوڑوں اور بھٹیوں کے ذریعے ان دروازوں کو اس طرح بند کر دیا کہ نہ باہر سے کوئی اندر آ سکے، نہ اندر سے کوئی باہر جانے کی راہ پائے۔۔۔ نہ باہر کے اضطراب کی یلغار، نہ اندر کے جنون کی فرار۔ اس خانقاہ میں ضرورت کی ہر چیز وافر مقدار میں موجود تھی۔ ان تدابیر کے ساتھ درباریوں کو یقین تھا کہ وہ وبا کو للکار سکتے ہیں، گویا باہر کی دنیا کا اب ان سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ اب غم کرنا یا سوچنا بھی بے معنی تھا۔
شہزادے نے لطف و سرور کے تمام سامان بھی فراہم کر رکھے تھے۔ وہاں مسخرے تھے، فی البدیہہ شعر کہنے والے تھے، رقاصائیں تھیں، موسیقار تھے، تاش کی محفلیں تھیں، حسن تھا، شراب تھی۔۔۔ اور یہ سب کچھ اس قلعے کے اندر محفوظ تھا۔ باہر صرف ”سرخ موت“ کھڑی تھی۔
اس کی گوشہ نشینی کو پانچ یا چھ ماہ گزر چکے تھے۔ باہر طاعون اپنے پورے زور و شور سے تباہی پھیلا رہا تھا کہ ایسے میں شہزادہ پروسپرو نے اپنے ایک ہزار دوستوں کے اعزاز میں ایک نقاب پوش رقص کی محفل کا اہتمام کیا، جو اپنی شان و شوکت اور انفرادیت میں بے مثال تھا۔ یہ نقاب پوش محفل حسن، رنگینی اور عیش و عشرت کا ایک دلکش اور پرکشش منظر پیش کر رہی تھی۔ لیکن اس سے پہلے مناسب ہوگا کہ ان کمروں کا ذکر کر دوں جہاں یہ جشن منعقد ہوا۔
وہ کل سات کمرے تھے، ایک شاہانہ سلسلۂ عمارات۔ اکثر محلات میں ایسے کمروں کی قطار سیدھی اور طویل ہوتی ہے، اور ان کے درمیان لگے تہ ہونے والے دروازے دیواروں سے یوں مل جاتے ہیں کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک تقریباً پوری قطار بیک وقت نظر آتی ہے۔ مگر یہاں معاملہ بالکل مختلف تھا، جیسا کہ شہزادے کی غیر معمولی اور انوکھی چیزوں سے دل چسپی کے پیشِ نظر توقع کی جا سکتی تھی۔ یہ کمرے اس قدر بے قاعدہ انداز میں ترتیب دیے گئے تھے کہ ایک وقت میں بمشکل ایک ہی کمرہ نظر آتا تھا۔ ہر بیس تیس گز کے فاصلے پر راستہ اچانک مڑ جاتا، اور ہر موڑ پر ایک بالکل نیا منظر سامنے آ جاتا۔
ہر کمرے کی دائیں اور بائیں دیوار کے وسط میں ایک لمبی، تنگ، گوتھک طرز کی کھڑکی تھی، جو ایک بند راہداری کی طرف کھلتی تھی۔ یہ راہداری انہی کمروں کی پیچ دار ترتیب کے ساتھ ساتھ چلتی تھی۔ ان کھڑکیوں میں رنگین شیشے لگے تھے، اور ہر کمرے کی کھڑکیوں کا رنگ اس کمرے کی سجاوٹ کے غالب رنگ سے ہم آہنگ تھا۔ مثلاً مشرقی سرے کا پہلا کمرہ نیلے رنگ سے آراستہ تھا، اور اس کی کھڑکیوں کے شیشے بھی شوخ نیلے تھے۔
دوسرے کمرے کی آرائش اور دیواروں پر لٹکے پردے ارغوانی تھے، اور اس کی کھڑکیوں کے شیشے بھی ارغوانی تھے۔ تیسرا کمرہ سبز رنگ میں ڈوبا ہوا تھا، اور اس کی کھڑکیاں بھی سبز تھیں۔ چوتھا کمرہ نارنجی رنگ سے سجا اور روشن کیا گیا تھا، پانچواں سفید، اور چھٹا بنفشی رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ ساتواں اور آخری کمرہ سیاہ مخمل کے بھاری پردوں میں اس طرح لپٹا ہوا تھا کہ وہ چھت سے لے کر دیواروں تک ہر طرف جھول رہے تھے اور اسی جیسے سیاہ مخملی قالین پر اپنی گہری شکنیں ڈال رہے تھے۔ مگر صرف اسی کمرے میں ایک عجیب فرق تھا۔ یہاں کھڑکیوں کے شیشوں کا رنگ کمرے کی سجاوٹ سے میل نہیں کھاتا تھا۔ وہ گہرے سرخ، خون کے رنگ جیسے تھے۔
ساتوں کمروں میں سے کسی ایک میں بھی نہ چراغ تھا، نہ شمع دان۔ حالانکہ سونے کے بے شمار نفیس زیورات ہر طرف بکھرے ہوئے تھے یا چھت سے آویزاں تھے، مگر کمروں کے اندر روشنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہ تھا۔ روشنی صرف باہر راہداری سے آتی تھی۔ ہر کھڑکی کے سامنے ایک بھاری تپائی پر دہکتا ہوا آتش دان رکھا تھا، جس کی لپٹیں رنگین شیشوں سے چھن کر اندر آتی تھیں اور کمروں کو ایک عجیب، تیز اور خیرہ کر دینے والی روشنی سے بھر دیتی تھیں۔ یوں ہر کمرہ رنگوں، سایوں اور روشنی کے ایسے انوکھے اور خیال انگیز مناظر پیش کرتا تھا کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا تھا۔
لیکن مغربی سرے پر واقع سیاہ کمرے کا منظر سب سے زیادہ ہولناک تھا۔ خون رنگ شیشوں سے چھن کر آنے والی آگ کی سرخ روشنی جب سیاہ مخملی پردوں پر پڑتی تو پورا کمرہ خوف اور ہیبت کی ایسی فضا میں ڈوب جاتا کہ جو بھی اندر قدم رکھتا، اس کے چہرے پر ایک بھیانک کیفیت چھا جاتی۔ یہی وجہ تھی کہ محفل میں بہت کم لوگ ایسے تھے جو ہمت کرکے اس کمرے میں داخل ہوتے۔ اسی کمرے میں مغربی دیوار کے ساتھ آبنوسی لکڑی سے بنا ہوا ایک عظیم الشان گھڑیال بھی نصب تھا۔ اس کا پنڈولم ادھر سے اُدھر ایک بھاری، مدھم اور یکسانیت بھری آواز کے ساتھ جھولتا رہتا تھا۔
جب اس کا منٹ والا کانٹا پورا دائرہ مکمل کرتا اور گھنٹے کی آمد کا وقت آتا تو گھڑی کے پیتل کے سینے سے ایک ایسی آواز نکلتی جو صاف، بلند، گہری اور نہایت سریلی ہوتی تھی، مگر اس میں ایک ایسی انوکھی کیفیت اور شدت ہوتی کہ ہر گھنٹے کے اختتام پر سازندے اپنے ساز بجانا عارضی طور پر روک دیتے اور اس آواز کو غور سے سننے لگتے۔ اس کے نتیجے میں رقص کرتے ہوئے افراد بھی اپنی حرکات روکنے پر مجبور ہو جاتے، اور پوری محفل میں ایک لمحاتی اضطراب اور بے چینی کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ جب تک گھڑی کی گونج باقی رہتی، دیکھا گیا کہ سب سے زیادہ مست اور سرشار افراد بھی زرد پڑ جاتے، اور عمر رسیدہ اور سنجیدہ لوگ پیشانی پر ہاتھ رکھ کر یوں کھو سے جاتے جیسے کسی گہری سوچ یا خواب میں گم ہوں۔
لیکن جیسے ہی وہ آواز مکمل طور پر ختم ہوتی، فوراً ہی محفل میں ہلکی ہلکی ہنسی پھیل جاتی۔ سازندے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکراتے، جیسے اپنی گھبراہٹ اور بے وقوفی پر خود ہی شرمندہ ہوں، اور آپس میں سرگوشیوں میں عہد کرتے کہ آئندہ گھڑی کی آواز پر وہ ہرگز اس طرح متاثر نہیں ہوں گے۔ مگر ساٹھ منٹ۔۔۔ یعنی تین ہزار چھ سو سیکنڈ، اس تیزی سے گزرنے والے وقت کے۔۔۔ گزرنے کے بعد جب گھڑی پھر بجتی، تو وہی اضطراب، وہی کپکپاہٹ اور وہی خاموش غور و فکر دوبارہ پوری محفل پر طاری ہو جاتا۔
ان سب باتوں کے باوجود یہ ایک نہایت شادمان اور شان دار محفل تھی۔ شہزادے کے ذوق کی اپنی ہی انفرادیت تھی۔ اسے رنگوں اور اثرات کی باریکیوں پر گہری نظر حاصل تھی۔ وہ محض روایتی سجاوٹ اور فیشن کے اصولوں کا پابند نہیں تھا۔ اس کے منصوبے جرات مندانہ اور پرجوش تھے، اور اس کے تصورات میں ایک طرح کی وحشیانہ شان و شوکت جھلکتی تھی۔ کچھ لوگ اسے پاگل سمجھ سکتے تھے، مگر اس کے قریبی ساتھی اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ وہ دیوانہ نہیں ہے۔ اس کا یقین کرنے کے لیے اسے دیکھنا، سننا اور محسوس کرنا ضروری تھا۔
اس نے اس عظیم جشن کے موقع پر ساتوں کمروں کی قابلِ نقل سجاوٹ کا بڑا حصہ خود ترتیب دیا تھا، اور نقاب پوش مہمانوں کے لباس بھی اسی کے ذوق کے مطابق منتخب کیے گئے تھے۔ یقیناً وہ سب غیر معمولی اور عجیب و غریب تھے۔ ہر طرف چمک، دمک، بانکپن اور خیال انگیز عجائبات تھے۔۔۔ ایسے مناظر جن کی جھلک بعد میں ہیرنان (مشہور فرانسیسی ڈرامہ) جیسے ڈراموں میں بھی دیکھی گئی۔ کہیں اوٹ پٹانگ اعضا والے عربی طرز کے پُرپیچ نقش و نگار تھے، تو کہیں دیوانگی کی وہ صورتیں جو صرف پاگل ذہن تخلیق کر سکتا ہے۔
کہیں حسن تھا، کہیں بے باکی، کہیں عجوبہ پن، کہیں ہیبت، اور کہیں ایسا عنصر بھی جو بیزاری پیدا کر سکتا تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے ان ساتوں کمروں میں ہر طرف خواب ہی خواب چل پھر رہے ہوں۔ یہ خواب کبھی ایک دوسرے میں الجھتے، کبھی کمروں کے رنگ سے رنگ پکڑتے، اور کبھی یوں محسوس ہوتا جیسے وہی خواب سازندوں کی موسیقی کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہوں۔ اور پھر کبھی آبنوسی لکڑی کی وہی گھڑی بج اٹھتی جو سیاہ مخملی کمرے میں نصب تھی۔ اس لمحے ہر شے ٹھہر جاتی، ہر طرف خاموشی چھا جاتی، اور صرف گھڑی کی آواز باقی رہ جاتی۔ وہ خواب جیسے جم کر ساکت ہو جاتے۔ مگر گھڑی کی گونج جیسے ہی تھمتی، ایک ہلکی سی دبی دبی ہنسی فضا میں بکھر جاتی، جیسے سب اس وقتی سنجیدگی پر خود ہی مسکرا رہے ہوں۔
موسیقی پھر سے بلند ہو جاتی، اور خواب ازسرِنو جاگ اٹھتے، اور پہلے سے بھی زیادہ چستی اور بے فکری کے ساتھ کمروں میں آوارہ گردی کرنے لگتے۔۔۔ گویا وہ رنگین کھڑکیوں سے اترتی ہوئی روشنیوں میں نہا رہے ہوں۔ مگر ان سات کمروں میں سب سے مغربی کمرے تک جانے کی ہمت کسی بھی نقاب پوش کو نہ ہوئی۔ کیونکہ رات اپنے اختتام کے قریب تھی، اور خون جیسے سرخ شیشوں سے ایک اور بھی گہری سرخی اندر اتر رہی تھی۔ سیاہ مخملی پردوں کی ہیبت دلوں کو دہلا دیتی تھی۔ اور جو بھی اس سیاہ فرش پر قدم رکھتا، اسے قریب ہی نصب آبنوسی گھڑی کی وہ دبی ہوئی مگر نہایت پراثر آواز سنائی دیتی، جو دوسرے کمروں کی نسبت کہیں زیادہ سنجیدہ، بھاری اور لرزا دینے والی محسوس ہوتی تھی۔
مگر یہ باقی کمرے لوگوں سے بھرے ہوئے تھے، اور ان کے اندر زندگی تیزی سے دھڑک رہی تھی۔ محفل اپنی پوری رنگینی اور آب و تاب کے ساتھ جاری رہی، یہاں تک کہ گھڑی پر بارہواں گھنٹہ بج اٹھا۔ اور پھر، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے، موسیقی تھم گئی، رقص کرنے والوں کی گردشیں رک گئیں، اور ہر طرف ایک بے چین سی خاموشی چھا گئی۔
اب گھڑی نے بارہ ضربیں بجانا تھیں۔ شاید اسی وجہ سے محفل میں شامل سنجیدہ مزاج لوگوں کے دلوں میں وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ سوچ اور گہرائی اترنے لگی۔ اور یوں یہ بھی ہوا کہ آخری ضرب کی بازگشت ابھی پوری طرح خاموشی میں گم بھی نہ ہوئی تھی کہ ہجوم میں بہت سے لوگوں نے پہلی بار ایک نقاب پوش شخصیت کی موجودگی کا احساس کیا، جس پر اس سے پہلے کسی ایک شخص کی بھی نظر نہ پڑی تھی۔ جب اس نئی موجودگی کی خبر سرگوشیوں کے ذریعے پھیلنے لگی تو پوری محفل میں ایک ہلکا سا شور اٹھا، جو ابتدا میں ناپسندیدگی اور حیرت کا اظہار تھا۔۔۔ مگر آہستہ آہستہ وہی شور خوف، دہشت اور کراہت میں بدل گیا۔ ایسی خیالی اور عجیب و غریب مخلوقات کی محفل میں، جیسی میں نے بیان کی ہے، یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی عام سا منظر اتنا اثر پیدا نہ کر سکتا تھا۔
اس رات نقاب پوش کی آزادی تقریباً لا محدود تھی، لیکن اس شخص نے حد ہی کر دی تھی اور شہزادے کے غیر واضح مگر موجود آداب کی بھی خلاف ورزی کر دی تھی۔ کچھ باتیں انسان کے دل کو اس طرح چھو لیتی ہیں کہ وہ بے اختیار متاثر ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ بھی جو زندگی اور موت کو محض مذاق سمجھتے ہیں، کچھ چیزوں کا مذاق نہیں اڑا سکتے۔
پوری محفل اب واضح طور پر محسوس کرنے لگی کہ اس اجنبی کے لباس اور انداز میں نہ کوئی مزاح تھا اور نہ شائستگی۔ وہ ایک لمبا اور دبلا شخص تھا جو سر سے پاؤں تک قبر کے کپڑوں میں لپٹا ہوا تھا۔ اس نے جو ماسک پہن رکھا تھا وہ اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہ بالکل ساکت لاش کے چہرے جیسا لگتا تھا، اور قریب سے دیکھنے پر بھی فرق کرنا مشکل تھا۔
یہ سب کچھ شاید اس دیوانہ وار محفل میں برداشت کیا جا سکتا تھا، لیکن حد یہ ہو گئی کہ اس نے “سرخ موت” کا روپ اختیار کر لیا تھا۔ اس کا لباس خون میں لت پت تھا، اور اس کی پیشانی اور چہرے کے خدوخال پر سرخ رنگ کی خوفناک چھینٹیں پڑی ہوئی تھیں۔
جب شہزادہ پروسپرو کی نظر اس پراسرار اور بھیانک صورت پر پڑی (جو آہستہ اور سنجیدہ انداز میں۔۔ جیسے اپنے کردار کو پوری طرح نبھا رہی ہو۔۔رقص کرنے والوں کے درمیان آہستہ آہستہ چکر لگا رہی تھی) تو پہلے لمحے اس پر شدید لرزہ طاری ہوا۔۔۔ یہ لرزہ خوف کا تھا یا کراہت کا، یہ کہنا مشکل تھا۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کی پیشانی غصے سے سرخ ہو گئی۔ اس نے کھردری آواز میں اپنے اردگرد کھڑے لوگوں سے پوچھا:
کس کی جرات ہوئی ہے؟ کس نے ہماری مصیبتوں کا مذاق اڑانے کی ہمت کی ہے؟ اس بدبخت کا نقاب اتارو تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کل صبح سورج نکلنے پر کسے قلعے کی فصیل سے لٹکانا ہے۔ کیا کوئی میرے حکم پر حرکت نہیں کرے گا؟ اسے روکو! اور میں کہتا ہوں، اس کا یہ گستاخانہ سرخ لباس اتار لو۔
جب شہزادہ پروسپرو نے یہ الفاظ کہے تو وہ مشرقی، یعنی نیلے کمرے میں کھڑا تھا۔ اس کی آواز اتنی بلند اور واضح تھی کہ ساتوں کمروں میں گونج اٹھی۔ آخر وہ ایک دلیر اور توانا آدمی تھا، اور اس کے ہاتھ کے اشارے پر موسیقی بھی خاموش ہو چکی تھی۔
شہزادہ نیلے کمرے میں اپنے زرد چہروں والے درباریوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کے حکم دیتے ہی ان میں سے چند ایک اس اجنبی کی طرف بڑھے، جو اس وقت زیادہ دور نہیں تھا اور پوری سنجیدگی اور وقار کے ساتھ آہستہ آہستہ شہزادے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ لیکن اس نقاب پوش کے پراسرار بھیس نے سب کے دلوں پر ایسا بے نام خوف طاری کر دیا تھا کہ کسی میں اسے پکڑنے کی ہمت نہ ہوئی۔ چنانچہ وہ بلا روک ٹوک شہزادے کے بالکل قریب سے گزرا۔ اسی لمحے پوری محفل، گویا ایک ہی اشارے پر، کمروں کے بیچ سے ہٹ کر دیواروں سے جا لگی، جبکہ وہ اپنی پہلی جیسی سنجیدہ اور نپی تلی چال سے آگے بڑھتا رہا۔ وہ نیلے کمرے سے ارغوانی میں، ارغوانی سے سبز میں، سبز سے نارنجی میں، پھر سفید میں، اور وہاں سے بنفشی کمرے میں داخل ہو گیا، اس سے پہلے کہ کوئی اسے روکنے کے لیے سنبھل پاتا، شہزادہ پروسپرو، غصے سے بےقابو اور اپنی ایک لمحے کی بزدلی پر شرمندہ ہو کر، خنجر کھینچے اس کے پیچھے دوڑ پڑا۔ مگر کسی نے اس کا ساتھ نہ دیا، کیونکہ سب پر جان لیوا خوف چھا چکا تھا۔
وہ تیزی سے چھ کمروں کو پار کرتا ہوا اس نقاب پوش سے صرف چند قدم کے فاصلے پر رہ گیا۔ اتنے میں وہ پراسرار شخصیت سیاہ مخمل والے آخری کمرے کے سرے تک پہنچ کر اچانک پلٹی اور اپنے تعاقب کرنے والے کا سامنا کرنے لگی۔ ایک دل دہلا دینے والی چیخ بلند ہوئی۔ شہزادے کے ہاتھ سے خنجر چھوٹ کر سیاہ قالین پر چمکتا ہوا گرا، اور اگلے ہی لمحے خود شہزادہ پروسپرو بھی بے جان ہو کر اسی قالین پر گر پڑا۔ یہ دیکھ کر محفل کے لوگوں نے مایوسی سے جنم لینے والی جرأت سمیٹی اور سب کے سب سیاہ کمرے میں جا گھسے۔ آبنوسی گھڑی کے سائے میں وہ نقاب پوش سیدھا اور بے حرکت کھڑا تھا۔ انہوں نے لپک کر اسے پکڑا، مگر جیسے ہی قبر کے کفن جیسے کپڑے اور مردہ چہرے جیسا ماسک نوچا، ان پر ایسا خوف طاری ہوا جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کپڑوں اور اس نقاب کے اندر کوئی جسم تھا ہی نہیں۔
تب سب پر یہ حقیقت آشکار ہو گئی کہ سرخ موت خود ان کے درمیان آ پہنچی تھی۔ وہ رات کے چور کی طرح آئی تھی۔ پھر ایک ایک کرکے اس رنگ رلیوں سے آراستہ، مگر اب خون میں بھیگے ہوئے ہالوں میں سب لوگ گرتے گئے، اور جہاں جو گرا، وہیں دم توڑ گیا۔ آخر کار آبنوسی گھڑی کی دھڑکن بھی آخری زندہ شخص کے ساتھ خاموش ہو گئی۔ آتش دانوں کے شعلے بجھ گئے۔
اور پھر تاریکی، زوال اور سرخ موت نے ہر چیز پر اپنی لامحدود حکمرانی قائم کر لی۔
