امریکا اور اسرائیل نے بمباری سے ایران کی میزائل سازی کے کئی صنعتی مراکز کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا تھا
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مطابق ایران نے جنگ میں نقصان کے باوجود زیرِ زمین تنصیبات میں بیلسٹک میزائلوں کی محدود پیمانے پر تیاری دوبارہ شروع کردی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور علاقائی حکام کا کہنا ہے کہ پیداوار فی الحال جنگ سے پہلے کی نسبت کم ہے اور زیادہ تر پہلے سے ذخیرہ شدہ پرزہ جات استعمال کیے جا رہے ہیں۔
امریکا اور اسرائیل کی بمباری سے میزائل سازی کے کئی صنعتی مراکز کو نقصان پہنچا ہے جبکہ بحری ناکہ بندی نے ٹھوس ایندھن کے اجزا اور دیگر پرزہ جات کی درآمد بھی مشکل بنا دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے فضائی حملوں میں تباہ یا بند ہونے والے بعض میزائل اڈوں کی سرنگوں کے راستے بھی بحال کرلیے ہیں۔
اسرائیلی فوجی جائزوں میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ زیرِ زمین محفوظ کیے گئے متعدد ہتھیار اب بھی قابلِ استعمال حالت میں موجود ہوسکتے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی یہ سرگرمیاں ظاہر کرتی ہیں کہ شدید حملوں کے باوجود اس کے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں۔
امریکی اخبار کی رپورٹ میں شامل سیٹلائٹ تصاویر میں دیگر تباہ شدہ انفرااسٹرکچر اور پیداواری مراکز کی تیزی سے بحالی بھی دیکھی گئی ہے۔
