• ستمبر 11, 2026
  • Last Update ستمبر 11, 2026 2:38 صبح
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

امریکا میں موجود H-1B ویزا ہولڈرز تارکین وطن کے لیے بری خبر ہے کہ انتظامیہ نے 60 دن گریس پیریڈ کو ختم کرنے کی تجویز دے دی ہے۔

جمعرات کو آن لائن جاری ہونے والے ایک سرکاری نوٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے 60 دن کی اس مہلت (گریس پیریڈ) کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے جو H-1B ویزا پر موجود ہنرمند کارکنوں سمیت بعض تارکینِ وطن کو ملازمت ختم ہونے کے بعد امریکا میں قیام کرنے اور نیا اسپانسر تلاش کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے ‘فیڈرل رجسٹر’ میں شائع کی گئی اس مجوزہ ضابطہ تبدیلی کے تحت، H-1B اور دیگر مخصوص عارضی ورک ویزا رکھنے والوں کو ملازمت ختم ہوتے ہی ملک چھوڑنا پڑے گا۔

یہ اقدام ان بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں کے لیے ایک ممکنہ دھچکا ثابت ہو سکتا ہے جو غیر ملکی کارکنوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ H-1B پروگرام کے تحت ہر سال 65,000 ویزے جاری کیے جاتے ہیں، جب کہ اعلیٰ تعلیمی ڈگری رکھنے والے کارکنوں کے لیے مزید 20,000 ویزے مختص ہوتے ہیں۔ یہ ویزے عموماً تین سے چھ سال کی مدت کے لیے منظور کیے جاتے ہیں۔ ٹرمپ کے اعلان سے پہلے کسی غیر ملکی کارکن کے لیے H-1B ویزا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے آجر مختلف عوامل کے مطابق تقریباً 2,000 سے 5,000 ڈالر تک فیس ادا کرتے تھے۔

ٹرمپ نے یہ بھاری نئی فیس نافذ کرتے ہوئے ایک صدارتی اعلامیے میں کہا تھا کہ H-1B پروگرام کو ’’جان بوجھ کر اس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے کہ امریکی کارکنوں کی جگہ کم اجرت اور کم مہارت رکھنے والے مزدوروں کو لایا جائے، نہ کہ امریکی کارکنوں کی کمی پوری کی جائے۔‘‘

یہ فیس ان غیر ملکی شہریوں پر لاگو نہیں ہوتی جو پہلے ہی امریکا میں طالب علم ویزے پر موجود ہوں اور بعد میں H-1B ویزا حاصل کریں۔ ایسے افراد عموماً نئے ایچ ون بی ویزا حاصل کرنے والوں کا ایک بڑا حصہ ہوتے ہیں۔

فیس کے نفاذ کے بعد بہت کم آجروں نے یہ رقم ادا کی ہے۔ 15 فروری تک امریکی شہریت و امیگریشن سروسز (USCIS) کو صرف 85 ایسی ادائیگیاں موصول ہوئی تھیں، جیسا کہ ادارے کے ایک اہلکار نے مارچ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں بتایا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی درخواست دہندگان کی جانچ پڑتال مزید سخت کرنے کے احکامات بھی دیے ہیں اور ایک نیا ویزا انتخابی نظام تجویز کیا ہے جس میں زیادہ مہارت اور زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے کارکنوں کو ترجیح دی جائے گی۔

ایک لاکھ ڈالر کی اس فیس کے خلاف کم از کم تین مختلف مقدمات دائر کیے گئے تھے، جن میں امریکی چیمبر آف کامرس کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے