• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 12:58 شام
  • پاکستان

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

جکارتہ (13 ستمبر 2026): 243 مسافروں کو لے جانے والا جہاز بحیرہ جاوا میں لاپتہ ہو گیا جس کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا میں 243 افراد کو لے جانے والا مسافر بردار جہاز بحیرہ جاوا میں لاپتہ ہو گیا ہے۔ جہاز سے خراب موسم کے دوران رابطہ منقطع ہوا۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق لاپتہ جہاز کی تلاز کے لیے انڈونیشیائی امدادی ٹیموں نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور ریسکیو ٹیمیں لاپتہ جہاز کی آخری معلوم لوکیشن کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ جہاز کے بارے میں تاحال کوئی معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

مسافر اور کارگو بردار جہاز ‘ورگو ٹرانسپورٹ 8’ (Virgo Transport 8) مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے ہفتے کے روز روانہ ہوا تھا، لیکن خراب موسم کی زد میں آنے کے بعد اتوار کی صبح اس کا شپنگ کمپنی سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

بنجرماسین سرچ اینڈ ریسکیو آفس کے سربراہ، آئی پوتو سوڈایانا نے کہا، "ہمیں ‘ورگو ٹرانسپورٹ 8’ جہاز سے رابطہ منقطع ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے اور ہم نے فوری طور پر عملے اور ‘کے این ایس اے آر لکشمنہ 241’ (KN SAR Laksmana 241) نامی جہاز کو اس مقام کی طرف روانہ کر دیا ہے جہاں جہاز کی آخری بار موجودگی کا اندازہ لگایا گیا تھا۔”

سوڈایانا نے بتایا کہ جہاز کی آخری پوزیشن جاوا کے سمندری علاقے میں پائی گئی، جو اس کی منزل یعنی بنجرماسین گھاٹ (پیئر) سے تقریباً 150 کلومیٹر (90 میل) کے فاصلے پر ہے۔

واضح رہے کہ انڈونیشیا 17 ہزار سے زائد جزیروں پر مشتمل ہے اور یہاں روزمرہ کی نقل و حمل اور سیاحت کے لیے کشتیوں کے ذریعے سفر پر بہت زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔

زیادہ بحری سفر کے باعث انڈونیشیا میں سمندری حادثات بھی معمول کی بات ہیں۔

گزشتہ ہفتے پیر کے روز صوبہ بینٹین میں واقع آتش فشاں ‘ماؤنٹ انک کراکاتاؤ’ (Mount Anak Krakatau) کے قریب 8 افراد کو لے جانے والی ایک اسپیڈ بوٹ لاپتہ ہو گئی تھی، جس میں مقامی اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے لیے کام کرنے والے پانچ صحافی بھی شامل تھے؛ جن کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

مذکورہ صحافیوں کو آتش فشاں کے پھٹنے کی کوریج کے لیے بھیجا گیا تھا، جس کی وجہ سے جکارتہ کے مرکزی ہوائی اڈے اور دیگر کئی ہوائی اڈوں پر نظام درہم برہم ہو گیا تھا۔

گزشتہ ماہ، انڈونیشیا کے جزیرے بالی کے قریب لومبوک آبنائے میں ایک فیری میں آگ لگنے سے ایک شخص ہلاک اور پانچ لاپتہ ہو گئے تھے، جبکہ 211 افراد کو بچا لیا گیا تھا۔

اس سے قبل جولائی میں، 70 سے زائد افراد کو لے جانے والی ایک فیری سلاویسی کے جنوب میں واقع ایک چھوٹے جزیرے ‘سیلایار’ (Selayar) کے قریب سفر کے دوران ڈوب گئی تھی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے