• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 11:04 شام
  • پاکستان

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

اسرائیلی میڈیا نے فلائی دبئی واقعہ 11/9 کی کوشش قرار دے دیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ فلائی دبئی واقعہ ایک اور نائن الیون کی کوشش تھی، مبینہ طور پر عمانی پائلٹ طیارے کو ہائی جیک کرنا، گرانا یا ورلڈ ٹریڈ سینٹر جیسے واقعے کو دہرانا چاہتا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق فلائٹ کریو اور مسافروں نے یہ کوشش ناکامی بنائی، اسرائیلی حکام فلائی دبئی طیارے کے واقعے کو ممکنہ دہشت گرد حملہ قرار دے کر تحقیقات کررہے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم آفس کا کہنا ہے واقعہ ہائی جیکنگ کا نہیں تھا۔

دوسری جانب سی این این کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اسرائیلی طیارے کو مسافروں کو واپس لے جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

اسرائیل نے تبوک سے مسافروں کو واپس لانے کے لیے فوجی یا سول طیارہ بھیجنےکی درخواست کی تھی، سعودی ایوی ایشن حکام مسافروں کے لیے متبادل طیارے کے انتظامات کررہے ہیں۔

یہ پڑھیں: پائلٹوں کی لڑائی کا معاملہ، ترجمان فلائی دبئی کا مؤقف آگیا

دبئی سے تل ابیب جانے والی غیر ملکی ایئر لائن میں پائلٹس کی لڑائی اور ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشات کے پیش طیارے کو سعودی عرب اتار لیا گیا۔

دبئی سے تل ابیب جانے والی غیر ملکی ایئر لائن ‘فلائی دبئی’ کے طیارے میں دورانِ پرواز دو پائلٹس کے درمیان لڑائی کے بعد سنسنی خیز ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی۔

جس کے نتیجے میں مسافروں کی جانیں شدید خطرے میں پڑ گئیں اور طیارے کو ہنگامی بنیادوں پر سعودی عرب کے شہر تبوک میں لینڈ کرنا پڑا۔

امریکی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں دونوں پائلٹس کے مابین شدید تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد ایک پائلٹ نے دوسرے پر چاقو سے حملہ کر دیا اور طیارہ کریش کرنے کی کوشش کی۔

ہنگامی صورتحال پیدا ہوتے ہی طیارے سے مسلسل 7 منٹ تک ایمرجنسی سگنل جاری ہوتے رہے۔

واقعے کے باعث اسرائیلی حکام میں ممکنہ ہائی جیکنگ کے خدشات پیدا ہوگئے اور سیکیورٹی ردعمل کے طور پر اسرائیل نے جنگی طیارے بھی فضا میں بھیج دیے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے